سوزجب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں۔ زرقا مفتی

0
56

سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں
کیا عجب ہے کہ ترے نالوں میں تاثیر نہیں

سوچ پہروں میں ہے گو پاؤں میں زنجیر نہیں
بے بسی اپنی مگر لائقِ تشہیر نہیں

دل پہ ناکام امیدوں کے اندھیرے چھائے
بجھ گئی آرزو اور آس کی تنویر نہیں

غمِ فرقت میں تری یاد کے پہرےکے تلے
قیدِ تنہائی سے بڑھ کر کوئی تعزیر نہیں

اک حسیں شہرکو خوابوں سے تھاآباد کیا
اب مرے نام وھاں کوئی بھی جاگیر نہیں

کیوں خطا کار ہوئے جو رہِ اُلفت پہ چلے
کیا محبت سے بڑی دہر میں تقصیر نہیں

بخوشی موت کے پہلو میں بھی سو جاتے مگر
موت بیماریء دل کے لئے اکسیر نہیں

ظلم کی چکی میں ہم پستے رہیں صدیوں تک
لوحِ محفوظ پہ ایسی کوئی تحریر نہیں

SHARE

LEAVE A REPLY