ڈیورنڈ لائن 12نومبر 1893 کو ایک معاہدہ کے بعد قائم ہوئی تھی

0
64

پاکستان اورافغانستان کے درمیان موجود2430 کلومیٹرطویل ڈیورنڈ لائن جو اب غیرمحفوظ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ بارڈر ہے، کو برطانوی ڈپلومیٹ اور سول سرونٹ سرمورٹیمر ڈیورنڈ اور اس وقت کے افغان حکمران عبدالرحمٰن خان کےدرمیان12نومبر 1893 کو ایک معاہدہ کے بعد قائم کیا گیا۔

یہ ڈیورنڈ لائن 26جولائی1949ءسے پاکستان اور افغانستان کے درمیان متنازعہ چلی آ رہی ہے۔ امریکی کانگریس کی لائبریری کی 1997ء کی ایک کتاب کے مطابق26جولائی 1949ءکو ڈیورنڈ لائن کے اس پار افغانستان کے ایک گائوں پر پاکستان ایئرفورس کی مبینہ بمباری کے بعد جرگہ بلایا گیا۔

اس وقت افغانستان نے اعلان کردیا کہ وہ کسی قسم کی خیالی ڈیورنڈ یا اس قسم کی کسی اور لائن کو تسلیم نہیں کرتا اور یہ بھی اعلان کر دیا کہ افغانستان ڈیورنڈ لائن سے متعلق کسی بھی قسم کے سابقہ معاہدے کالعدم سمجھتا ہے۔

افغانوں نے اعلان کیا کہ یہ ڈیورنڈ لائن لسانی تفریق کی لائن ہے جوان پر جبراً مسلط کی گئی تھی تاہم اس اعلان کا کوئی خاص اثر نہ ہوا کیونکہ اقوام متحدہ میں کبھی بھی ایسی کوئی قرارداد پیش نہیں ہوئی۔ ایسی قرارداد کے پیش نہ ہوسکنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دونوں ممالک اپنے دیگر پڑوسی ملکوں سے مصروف جنگ تھے۔

سن1950ء میں برطانیہ کے دارالعوام نے ڈیورنڈ لائن پر پاک افغان تنازع پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی شاہی حکومت نے شمال مغربی سرحد کے علاقوں کی حیثیت سے متعلق پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی شاہی حکومت کا نقطہ نظر ہے کہ بین الاقوامی قانون کی رو سے پاکستان متحدہ ہندوستان کے حقوق وفرائض کا وارث ہے اور یہ کہ ان علاقوں میں ڈیورنڈ لائن ایک بین الاقوامی سرحد ہے۔

نوبل انعام یافتہ برطانوی سیاستدان اور ڈپلومیٹ فلپ جان بیکر نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا۔ 8مارچ 1956کو ساؤتھ ایسٹ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن (سیٹو )کی وزارتی کونسل کا اجلاس کراچی میں ہواجس میں یہ کہا گیا کہ کونسل ممبرز اعلان کرتے ہیں کہ انکی حکومتیں پاکستان کی داخلی خود مختاری کو سامنے رکھتے ہوئے ڈیورنڈ لائن تک اس کے خطے کو تسلیم کرتی ہیں۔

ڈیورنڈ لائن دونوں ملکوں کے درمیان بین الاقوامی بارڈر ہے اور بعد میں اس بات کی توثیق کی گئی کہ ٹریٹی ایریا کو ٹریٹی کے آرٹیکل 4 اور 7میں شامل کیا گیا ہے اور یہ ایریا ڈیورنڈ لائن تک ہے ۔1919میں طے پانے والے ڈیورنڈ لائن ایگریمنٹ نے افغانستان اور برطانیہ کے درمیان ایک طویل تنازعہ کو بھی ہوا دی۔

مئی 1919 میں برٹش رائل ایئرفورس نے افغانستان کے بڑے شہروں کابل اور جلال آباد پر بمباری کر دی جس سے اس وقت کے افغان حکمرانوں کو 1893 میں ان کے پیش روئوں کی طرف سے کی گئی کمٹمنٹ کی توثیق کرنے پر مجبور کر دیاگیا۔ 1919، 1921اور1930کے معاہدوں (جنہیں راولپنڈی کے معاہدے بھی کہا جاتا ہے) میں ، افغان حکمران نے پاکستان میں بارڈر کو تسلیم کرنے کیلئے اپنے پہلے کئے گئے معاہدے کی توثیق کی۔

گویا یہ اس وقت تک نہ ہوا جب برٹش رائل ایئر فورس نے انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کر دیا۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ پاکستان کو 1947 میں ڈیورنڈ لائن ایگریمنٹ ورثے میں ملا۔ یہ الگ بات ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان اس سے متعلق آج تک کوئی رسمی معاہدہ یامعاہدے کی توثیق نہیں ہوئی۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مارچ 1894ء کو مشترکہ برٹش افغان ڈیمارکیشن سروے شروع ہوا۔ 800 میل بارڈر کا یہ سروے مئی 1896 تک مکمل ہو گیا۔ ڈیورنڈ لائن کی نشاندہی سے تھوڑا عرصہ بعد برطانیہ نے ڈیورنڈ لائن کی طرف کے خطے کو وسیع انڈین ریلوے نیٹ ورک سے ملانا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی آفریدی قبیلہ نے برطانیہ کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے جس سے ڈیورنڈ لائن اور پشاور کے درمیانی علاقے کو غیر مستحکم اور کمزورہوگیا۔

پہلے افغانستان کو برطانیہ پرنس کے ماتحت چلنے والی ایک آزاد ریاست خیال کرتا تھا۔ اگرچہ برطانیہ ہی اس کے خارجہ امور اور دیگر دنیا سے سفارتی تعلقات کوکنٹرول کرتا تھا۔

یہاں یہ ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ لاتعداد امریکی مطبوعات میں کئی سالوں تک یہ بات چھپتی رہی ہے کہ افغان حکومت نے ڈیورنڈ لائن کو بطور بین الاقوامی بارڈر رسمی طور پر تسلیم نہیں کیا ہے بلکہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ ڈیورنڈ لائن ایگریمنٹ ماضی میں کالعدم ہو گیا تھا۔

ایک یونانی موّرخ کے بقول ڈیورنڈ لائن کا علاقہ زمانہ قدیم یعنی کم از کم 500 قبل مسیح سے مقامی پشتونوں کو ورثے میں ملا ہے۔ اسی طرح قاسم فرشتہ کی کتاب’’دی ہسٹری آف محمڈن پاور ان انڈیا‘‘ کے مطابق عرب مسلمانوں نے اس خطے کو ساتویں صدی میں فتح کیا اور یہاں اسلام متعارف کرایا۔

کہا جاتا ہے کہ کچھ عرب بھی کوہ سلیمان میں پشتونوں کے درمیان ہی رہائش پذیر ہوگئے تھے

SHARE

LEAVE A REPLY