دس مئی- 2002ء – کیفی اعظمی بھارتی اردو شاعر انتقال کر گئے

0
90

کیفی اعظمی کی شخصیت اورشاعری کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ وہ جتنے بڑے شاعر تھے اس سے کہیں بڑے انسان تھے۔وہ ترقی پسند شاعر ہی نہیں ترقی پسند انسان بھی تھے۔ان کے کلام میں انسانی درد مندی،غریبوں کی ہمدردی،محنت کشوں کی غمخواری اورمحروموں کی دلجوئی جیسی صفات نمایاں ہیں۔تمام اہم مذاہب اورعظیم شخصیات نے انسانیت پر زوردیاہے اوران کی تعلیمات کا مقصد صالح معاشرے کی تشکیل اورمردم سازی رہاہے،چنانچہ اگر کوئی شخص عملی طورسے اچھا انسان بن جائے تو اس سے بڑی بات کوئی نہیں ہوسکتی۔کیفی کا شعری سفر رومانیت سے شروع ہوکر مذہب اورکمیونزم کی منزلیں طے کرتے ہوئے انسانی دردمندی پر ختم ہوا۔

کیفی اعظمی کی شاعری کی طرح ان کی شخصیت بھی تھی۔ان کے فکروعمل میں تضاد نہیں پایاجاتاہے۔وہ ایسے سچے انسان تھے کہ جوبات دل میں ،وہی زبان پر اوروہی عمل میں بھی۔جن افکارونظریات کی تبلیغ وترسیل انہوں نے شاعری کے ذریعہ کی ان پر زندگی بھر عمل پیرابھی رہے۔ان کی مذہبی شاعری ہویارومانی،انقلابی گھن گرج ہویاانسانی جذبات کی ترجمانی وہ انسانی معاشرے کے حساس،باشعوراورسچے نکتہ رس ہیں۔’جھنکار‘’آخر شب ‘اور’آوارہ سجدے‘تک انہوں نے جو کچھ لکھا بڑی سچائی سے لکھا اورہر جگہ انسان دوستی کی جھلک نمایاں ہے۔ممتاز نقاد اورجدیدیت کے علمبردار شمس الرحمان فاروقی نے بھی ان کی شخصیت کے اس نمایاں پہلو کا اعتراف کیاہے۔وہ رقم طراز ہیں:
’میں انہیں بڑاشاعر نہ تب مانتاتھا اورنہ اب مانتا ہوں لیکن وہ کئی معنی میں بڑے آدمی ضرورتھے۔وہ زندگی بھر کمیونسٹ رہے اورکمیونسٹ آدرش واد کی خدمت اورکمیونسٹ نظریے کی پابندی میں انہوں نے جس مستقل مزاجی اورمضبوطی کاثبوت دیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔…کیفی بھائی کی ایک اوربات جو مجھے کبھی نہ بھولے گی وہ یہ کہ میں نے انہیں کبھی چھوٹی بات کرتے یا کہتے نہیں دیکھا۔‘(1)
کیفی اعظمی بڑادردمند دل لے کر پیدا ہوئے تھے۔بچپن ہی سے انتہائی حساس اورذمہ دار تھے۔زمیندار گھرانے میں پیداہونے کے باوجود مزاج میں غروراورسختی بالکل نہیں تھی ان کی شریک حیات شوکت کیفی لکھتی ہیں:
’ان کی باجی کا کہناتھا کہ اطہر (کیفی)نے بچپن سے ہی عید میں نئے کپڑے اس لئے نہیں پہنے کہ کسان بچوں کے پاس نئے کپڑے نہیں ہوتے تھے۔ہمیشہ اپنے چھوٹے بھائی بچھن کی شرارت کا خمیازہ بھگتتا۔شرارت چھوٹابھائی کرتااورالزام اطہرپر آجاتااوروہ بیچارہ بغیرقصورکئے اباسے پٹتا اورمنہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلتا کہ ابا میراقصورنہیں،بچھن کا ہے۔‘(2)
کیفی اعظمی جب تک کمیونسٹ پارٹی سے عملی طورپر وابستہ رہے پوری محنت اورایمانداری سے کام کرتے رہے۔نہ کبھی کسی چیز کا مطالبہ کیا نہ کوئی لفظ شکایت زبان پر آیا۔پارٹی نے جوتنخواہ مقرر کردی اسی پرقانع رہے۔شادی کے بعد جب مالی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا تو ایک روزنامے میں پانچ روپئے یومیہ پر مزاحیہ نظم لکھنی شروع کردی لیکن پارٹی سے کچھ نہیں مانگا۔کیفی کی انسانی دردمندی کا اندازہ اسی سے لگایاجاسکتاہے کہ وہ پارٹی کی میگزین ’اپنا ادب‘کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کا م کرتے ہوئے امیروں کی مجلس میں جانا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ غریبوں کے ساتھ وقت گذارنا انہیں زیادہ پسند تھا۔ ممبئی میں دوران قیام کیفی کا زیادہ ترآناجانا اوراٹھنا بیٹھنا مدن پورے کے مزدورعلاقے میں تھا۔وہیں کے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر انہوں نے اپنی مشہور نظم ’مکان‘کہی تھی ؂
آج کی رات بہت گرم ہواچلتی ہے
آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گی
تم بھی اٹھو،تم بھی اٹھو،میں بھی اٹھو
کوئی کھڑکی اسی دیوارمیں کھل جائے گی
اعظم گڑھ کے مجواں گاؤں میں 21فروری1923کو پیداہونے والے کیفی اعظمی عوام دوست شاعرتھے۔ان کی شاعری میں نظریات ضرورپائے جاتے ہیں لیکن احساسات غالب ہیں۔اورشاید یہی ان کی شعری کائنات کا سب سے اہم سرمایہ بھی ہے۔وہ پیدا ہوئے ایک مذہبی گھرانے میں لیکن انہوں نے رشتہ سوشلزم سے جوڑلیا۔وہ رفتہ رفتہ محنت کشوں،غریبوں اورمحروموں کے ہمدرد وہمنوابن گئے۔کیفی ا س سفاک زندگی کی منظرکشی کرتے ہیں جو ہمارے چاروں طرف ہے۔ممتازنقادگوپی چندر نارنگ تحریر کرتے ہیں:
’ان کی شاعری میں انسپریشن کے بنیادی نکتے تین ہیں۔اول فرقہ واریت،ذات پات،سماجی اونچ نیچ اوربھید بھاؤ کے خلاف شدید احتجاج…دوسرے سماجی ظلم اوربے انصافی کے خلاف آواز اٹھانا۔محنت کشوں،غریبوں اوردبے کچلے بے سہاراطبقے کے حقوق کے لئے آواز اٹھانا۔اورتیسری آخری بات یہ ہے کہ امید،عزم حوصلے اورولولے سے ہاتھ نہ اٹھاناکہ شاعر اورفنکار کا کام خواب دیکھنا ہے۔انسانیت کا مستقبل امید پر قائم ہے‘۔(3)
کیفی اعظمی قومی یکجہتی ،فرقہ وارانہ خیرسگالی،ہندومسلم ایکتا اورشیعہ سنی اتحاد کیلئے ہمیشہ کوشاں رہے۔ان کے ہاتھوں میں انسانیت کا پرچم سدا بلند رہا۔کہیں سے فرقہ وارانہ فساد کی خبر سنتے توتڑپ اٹھتے۔انہوں نے فرقہ واریت اورانسان دشمنی کے درد کو بہت شدت سے محسوس کیا اوراپنی طویل نظم ’خانہ جنگی‘میں اس کا بھرپوراظہارکیا۔مذکورہ نظم کا بند دیکھئے ؂
سوکھتی ہے پڑوسیوں سے جاں
دوستوں پر قاتلوں کا گماں
لوگ گھرسے نکلتے ڈرتے ہیں
راستے سائیں سائیں کرتے ہیں
ناکے ناکے پہ پولیس کا راج
ہوچکی ہے گلی تا راج
جیپ ہر موڑسے گذرتی ہے
ہر طرف فوج گشت کرتی ہے
جب وہ لکھنؤ میڈیکل کالج میں زیر علاج تھے تو اسی دوران لکھنؤ میں شیعہ۔سنی فساد ہوگیا۔ کیفی بے قرارہوگئے۔شدید بیماری کی حالت میں لیٹے لیٹے انہوں نے ایک نظم کہی جس کا عنوان ہے’یہ لکھنؤ تو نہیں‘ملاحظہ فرمائیں ؂
عزا میں بہتے تھے آنسو یہاں لہو تو نہیں
یہ کوئی اورجگہ ہے یہ لکھنؤ تو نہیں
یہاں تو چلتی ہیں چھریاں زبان سے پہلے
یہ میر انیسؔ کی آتشؔ کی گفتگوتو نہیں
چمک رہاہے جو دامن پہ دونوں فرقوں کے
بغوردیکھویہ اسلام کا لہوتو نہیں
تم اس کا رکھ لوکوئی اورنام موزوں سا
کیاہے خون سے جو تم نے وہ وضوتونہیں
سمجھ کے مال مراجس کو تم نے لوٹاہے
پڑوسیو!وہ تمہاری ہی آبروتو نہیں
چونکہ کیفی انسانیت پسند شاعر ہیں اس لئے غیر انسانی حرکتیں دیکھ کرتڑپ اٹھتے ہیں لیکن امید کا چراغ بھی اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔نامساعد حالات سے وہ مایوس ضرورہوتے ہیں لیکن عزم وحوصلے کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ہر طرف قتل وغارت گری،فرقہ پرستی،اختلاف وانتشار اورلوٹ کھسوٹ دیکھ کر پریشان ضرور ہوتے ہیں لیکن وہ امید بھی کرتے ہیں کہ خوں ریزی کا بازارسرد ہوگا ،لوگ پیارومحبت سے رہیں گے اورمعاشرے میں امن وامان کا بول بالاہوگا۔ان کی نظم ’عوام‘کے یہ اشعارملاحظہ فرمائیں ؂
اے و طن !اس قدر اداس نہ ہو
اس قدرغرقِ رنج ویاس نہ ہو
پھوٹ کی آگ ہم بجھادیں گے
قتل وغارت گری مٹادیں گے
کیفی اعظمی کمیونزم سے نہ صرف متاثر تھے بلکہ عملاً بھی ا س کے علمبرداررہے۔نظریاتی طورپر وہ کار ل مارکس سے بیحد متاثر تھے۔اسی اثرپزیری کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے مارکس کی شہرۂ آفاق کتاب ’دی کیپٹل‘کے نام پر اپنے کلیات کا نام ’سرمایہ‘رکھا۔لیکن جب کمیونسٹ پارٹی منقسم ہوگئی تو انہیں شدید مایوسی ہوئی۔ اس کرب ناک واقعہ نے ان کی زندگی پر زبردست اثر ڈالا اوراس کے بعد ان کی شاعر ی میں نمایاں تبدیلی آئی۔اب نظریات پر احساسات حاوی ہوگئے۔ممتازنقاد پروفیسر شارب ردولوی تحریر کرتے ہیں:
’اس سانحے کے بعد کیفی نے خود اپناراستہ چن لیا،جو دردمندی،غریب نوازی اورانسان دوستی کا راستہ تھا۔انسان،زندگی اوراس کے مسائل پر انہوں نے نئی طرح سوچنا شروع کیا۔اب تک ان کے نظریات ایک بڑے عالمی سیاسی نظریے کا حصہ تھے لیکن اب ان کے نظریات ان کے اپنے تھے۔’جز مرے اورمیراراہنما کوئی نہیں‘۔اس لئے محبت ،امن وانصاف کے لئے ،نیزسماجی نابرابری اورفرقہ واریت کے خلاف وہ آخر تک جنگ کرتے رہے اوردوسروں کو اپنے ساتھ چلانے کی کوشش کرتے رہے‘۔(4)
کیفی اعظمی ہمیشہ غریبوں اورضرورت مندوں کیلئے نہ صرف فکر مند رہتے تھے بلکہ حتی الامکان ان کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کوشاں رہتے تھے۔ایسے بہت سے واقعات ہیں جس سے ان کی انسانی عظمت وغمخواری کا اندازہ ہوتاہے۔ ان کی مشہورنظم’عورت‘اگرچہ خواتین کو مخاطب کرکے لکھی گئی ہے لیکن اس میں عورتوں پرہورہے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بھی ہے۔
شوکت کیفی نے اپنی کتاب’یاد کی رہ گزر‘میں متعدد واقعات درج کئے ہیں۔چند واقعات ملاحظہ فرمائیں۔وہ لکھتی ہیں:
’ایک دن سلطانہ آپا کے گھر سے سواچاربجے ہاسپٹل پہونچی جہاں کیفی بے ہوش پڑے ہوئے تھے۔ان کے کمرے کے دروازے پر DON’T DISTURBکا بورڈ لگاہواتھا۔ بیوی بھی چاربجے سے پہلے ان کے کمرے میں داخل نہیں ہوسکتی تھیں۔کیا دیکھتی ہوں کہ ایک طالب علم کیفی کے سرہانے بیٹھااپنادکھڑاسنارہاہے اورکیفی نیم بے ہوشی میں اپنے سردرد کے باوجود بڑے غورسے سن رہے ہیں۔میں یہ دیکھتے ہی جھلاگئی۔حد ہوگئی،ڈاکٹر نے آپ کو بات کرنے سے بھی منع کیا ہے اورآپ اس سے باتیں کررہے ہیں…لڑکااٹھ کر باہر آنے لگا تو کیفی نے اپنی نحیف اورلڑکھڑاتی آواز میں کہاموتی !اسٹوڈینٹ ہے اسے کچھ مت کہنا۔ہوسکے تواس کی جو ضرورت ہے اسے پوری کردینا۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ احمدآباد کارہنے والاہے اوراپنی سوتیلی ماں کے ظلم سے گھبراکر بھاگ آیا ہے اوریہاں کام چاہتاہے اورکیفی سے کام مانگنے آیاہے۔‘
دوسراواقعہ ملاحظہ فرمائے۔گھر میں چوری ہوجاتی ہے۔تمام بیڈکور،چادریں اورکمبل چوری ہوگئے ،شک مالی پر ہوتاہے۔بیوی شوکت نامزد رپورٹ درج کرانے کے لئے کہتی ہیں تو کیفی کہتے ہیں دیکھوشوکت بارش ہونے والی ہے۔ اس غریب کو بھی تو چادروں اورکمبل کی ضرورت ہوگی۔اس کے بچے کہاں سوئیں گے۔تم تو اورخرید سکتی ہولیکن وہ نہیں۔
ایک بارلان میں بیٹھے لکھ رہے تھے۔پھولوں،پودوں سے انہیں بہت پیارہے۔اس کے لئے حد سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔دوردورسے پھولوں کے بیج منگواتے ہیں۔اس زمانے میں پھولوں کا موسم آنے والاتھا وہ گملوں میں پھولوں کے بیج لگارہے تھے۔اتنے میں محلے کی ایک مرغی اپنے دس بارہ چھوٹے چھوٹے بچوں سمیت آگئی اورپنجوں سے گملوں کا بیج کرید کرید کر کھانے لگی۔بچے بھی ماں کا ساتھ دینے لگے۔کیفی کو ایک دم غصہ آگیااورانہیں بھگانے کے لئے ایک چھوٹا سا پتھر اٹھاکر ان کی طرف پھینکا، وہ پتھرمرغی کے بچے کو لگ گیا اوروہیں تڑپ کر دم توڑگیا۔بس پھر کیفی سے رہا نہ گیا۔جلد سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔مرغی کے بچے کو پانی پلایا،کسی طرح زندہ رکھنے کی کوشش کی مگروہ بچ نہ سکا تو ایک دم قلم بند کرکے رکھ دیااوردوروز تک کام ہی نہ کرسکے۔کہتے تھے جب بھی قلم اٹھاتاہوں وہ مرغی کا بچہ نگاہوں میں گھومنے لگتاہے۔(5)
کیفی اعظمی زمینی آدمی تھے اورعوام میں رہنا پسندکرتے تھے۔شہری چمک دمک سے زیادہ گاؤں کی سادگی پسندتھی۔وہ ضرورتاً شہر میں رہتے تھے لیکن دیہات کی سوندھی مٹی سے انہیں انتہائی پیارتھا۔وہ گاؤں آکر بہت خوش رہتے تھے۔لوگوں سے ملتے جلتے تھے۔ ان کے کام آتے تھے۔باغبانی کا بڑاشوق تھا۔اعظم گڑھ گھرجاتے تو پیڑ پودے ضرورلگاتے۔سادگی کا یہ عالم کہ کپڑے وغیرہ پر کبھی توجہ ہی نہیں دی۔بیوی شوکت کیفی نے جو خریدااورسلوایاوہی پہن لیا۔شوکت کیفی نے اپنی کتاب’یاد وں کی رہگزر‘میں ایک دلچسپ واقعہ تحریر کیا۔ان کے الفاظ میں ہی ملاحظہ فرمائیں:
’ان کی پلیٹ میں کھاناڈالنے سے کپڑوں کاخریدنا سلوانایہ ہمیشہ سے میراکام رہاہے۔ایک بار کیفی نے شکایت کی کہ پاجامہ تھوڑاچھوٹاہے۔پہننے میں پھنستاہے۔میں نے درزی سے شکایت کی توہنس کر بولااگر ہم آپ کے سیٹھ کو دیکھے گا توصحیح ناپ لے گا۔سیٹھ کو توہم نے دیکھا ہی نہیں توکپڑاکیسے برابرہوگا۔یہ توحالت ہے۔پھرایک دن پکڑکر درزی کے پاس لے گئی‘۔
کیفی اعظمی کی طبیعت میں انکساری تھی لیکن بڑے خوددار بھی تھے۔عموماً کسی کی مدد لینا گوارانہیں کرتے تھے۔ فالج کا خطرناک حملہ بھی ان کی شخصیت میں جھول پیدا نہ کرسکا۔وہ آخر عمر تک اپنے بل پر چلے۔چلنے پھرنے میں بھی کسی کا سہارانہ لیا۔مشہورشاعر حمایت علی شاعرلکھتے ہیں:
’مجھے یادہے، ایک بار سیڑھیوں سے اترتے ہوئے میں نے ان کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی توسختی سے مجھے ہٹادیا۔اورپھر مسکراکر کہنے لگے،تم میری انگلی پکڑکر چل سکتے ہو۔‘(6)
بہر حال ،ممبئی میں10 مئی2002کوداعی اجل کو لبیک کہنے والے کیفی اعظمی انسانی اقدار کی پاسداری، فرقہ واریت کی بیخ کنی ،محنت کشوں کی اشک شوئی،انسان دوستی ،غریب پروری،خواتین کی قدرافزائی ،وطن پرستی اورجمہوریت پسندی کی روایت کو آگے بڑھانے اوربہتر معاشرے کی تشکیل کی آرزو مندی کے لئے ہمیشہ یادکئے جائیں گے۔ان کی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے اورشاعری اسی زندگی کی عکاس۔ کیفی اعظمی حقیقی معنوں میں ایک بڑے انسان تھے

SHARE

LEAVE A REPLY