پاکستان کے بابائے اناٹومی پروفیسر ڈاکٹر مظفر خان جلال نیازی ، میرے استاد

39
3080

مجھے وہ لوگ بہت اچھے لگتے ہیں جو دنوں کو مناتے ہیں ۔ مدرز ڈے ، فادرز ڈے ، سسٹر ڈے ، برادر ڈے ، ویلینٹائن ڈے ، وومن ڈے ، چلڈرن ڈے ، معذور بچوں کا دن ۔۔ اور ایسے کئی اور دن اور انہی دنوں میں ایک “ ٹیچر ڈے “ ۔۔ یہ سچ ہے کہ آجکل اس میں کمرشلزم کے کئی پہلو نکل آئے ہیں پر یہ بھی سچ ہے کم و بیش ہرمعاشرے میں یہ اہم دن ہر روز منائے جاتے ہیں ۔ جو سچ کہوں تو ایسے دنوں کی مناسبت سے ان رشتوں کی بابت “ مثبت سوچ “ جڑی ہوئی ہے جو ان باتوں کی طرف توجہ دلاتی ہے جس پر کبھی دھیان نہیں جاتا ۔۔ ۔ ماں کی روک ٹوک ، باپ کی سختی ، بھائی کا ہر کام میں پوچھنا کیوں ، بہن سے دکھ سکھ کرتے ہوئے اس کو بھی دوش دے دینا ، دوستی پر انحصار کیوں ۔۔۔ اور ایسی ہی کئی باتوں کی سمجھ آنے لگتی ہے ۔

امسال فروری اور مارچ میں ابا جی کی طبعیت کے خراب ہونے کی وجہ سے لاہور جانا ہوا اور اس بہانے دوستوں سے ملاقات بھی ہوئی ۔ ڈاکٹر سہیلہ طارق جس کا دل اور اس کا گھر ہم سب دوستوں کا “ حب “ ہے ۔ ہمیں جس کا پتہ چاہیئے ہو ، جس کی بابت معلوم کرنا ہو ، کسی نئی معلومات سے آشنائی کرنی ہو سب کچھ سہیلہ سے مل جاتا ہے ۔ اس کی بے لوث محبت ایک کشش کی طرح ہم سب کو اپنے حصار میں رکھتی ہے ۔ باتوں باتوں میں پچھلے برس ہونے والے الومنی فنکشن کے بارے میں پوچھا ۔ پھر اساتذہ کا زکر ہوا ۔ میں نے اناٹومی کے پروفیسر ڈاکٹر مظفر خان جلال نیازی کے بارے میں پوچھا کہ وہ اب کہاں ہیں اور کیسے ہیں ۔ اس نے ہنس کر کہا وہ ویسے کے ویسے ہی ہیں اور آجکل یہیں لاہور کے بحریہ ٹاؤن میں “اختر سعید میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج “ میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

مجھے یاد ہے کہ اسی کے عشرے میں ہم لوگ ان سے اناٹومی پڑھا کرتے تھے ۔ شدید گرمیوں میں بھی وہ ہم سے زیادہ ہشاش بشاش لمبا سا سفید کوٹ پہنے پنجاب میڈیکل کالج کے ڈائیسیکشن ہال میں داخل ہوا کرتے ۔ مسکراہٹ ان کے شفیق چہرے کا حصہ ہوتی اور ہنستے مسکراتے وہ اعصابی نظام اور شریانوں کی بابت ایسے بتاتے جیسے کوئی شاعر اپنی لکھی غزل محبت سے سنا رہا ہو ۔ اور تو اور ڈاکٹر نیازی چھٹیوں میں اپنے گھر جانے کی بجائے ہمیں ڈائیسکیشن کرواتے تھے اور جسم کے بارے میں ہمارے مطالعے اور اس کی اناٹومی کو سمجھاتے ہوئے اپنی تعطیلات گزار دیتے ۔ مجھے یاد ہے ہم سب کو باری باری بچوں کی طرح انہیں کسی نا کسی “ نس” ٰیا ” شریان کی اناٹومی سنانی پڑتی ۔ تین سو اسٹوڈنٹ کی کلاس میں مشکل سے کوئی فیل ہوتا ۔ جو فیل ہوجاتا تو اسے ون ٹو ون ایک زمیداری کی طرح پڑھایا کرتے ۔

ڈاکٹر نیازی کی ایک اور مزیدار بات تھی اور وہ یہ تھی کہ اناٹومی زیادہ تر پنجابی میں پڑھایا کرتے ۔ سہیلہ ، زیبا اور میں کراچی سے تھے اور اردو بولا کرتے تھے ۔ ہم لوگوں کو سمجھنے میں زرا سی دقت ہوتی تو ہنس کر کسی اسٹوڈنٹ سے کہتے “ “ یار کوئی اردو وچ ان کڑیاں نو وی سمجھائے “ ۔۔ پھر جب تک ہمیں سمجھ نا آجاتی وہ کبھی صفحہ نہیں پلٹتے ۔ ان کا آج بھی یہی کہنا ہے کہ ایک اچھا ڈاکٹر بننے کے لئے “ زبان “ کی نہیں بلکہ “ جسم کی سمجھ “ ہونی چاہیئے ۔ ان سے سیکھی ہوئی جسم کی سمجھ آج ان کے شاگردوں کو بہترین جنرل سرجن ، نیورو سرجن ، نیورو فیزیشن ، آرتھو پیڈک سرجن اور گائیناکولوجسٹ بنا چکی ہے۔ اور ان کے علم کا نور دنیا بھر میں روشنی کی طرح پھیلا ہوا ہے ۔

آج بھی ڈاکٹر نیازی اسٹوڈنٹس کی درخواست پر لاہور سے فیصل آباد جاتے ہیں اورصرف چار دن میں پوری باڈی ( جسم ) کی ڈائسیکشن اناٹومی سمجھا پڑھا کر واپس آجاتے ہیں ۔ نا وہ کسی سے اپنے آنے جانے کا خرچہ مانگتے ہیں اور ناپڑھانے کی فیس لیتے ہیں، مانگتے ہیں تو صرف پنجاب میڈیکل کالج سے ایک “ ڈیڈ باڈی “ جس پر وہ آنے والے ڈاکٹروں کو جسم کے نظریات سمجھاتے ہیں ۔ ان کی مشکل آسان کرتے ہیں اور واپس اپنے گھر لاہور آجاتے ہیں ۔ ان کاعلم ہر اسٹوڈنٹ کے لئے داتا دربار کے لنگر کی طرح کھلا رہتا ہے ۔ ان کے ساتھ کے اساتذہ انہیں کہتے رہتے ہیں کہ آپ کیوں ہر وقت پڑھاتے رہتے ہیں اور وہ بھی مفت ، کیونکہ ان کی اس درویشانہ عادت کی وجہ سے ان کا کاروبار نہیں چل پاتا۔ ڈاکٹر نیازی اکثر ایسے اساتذہ سے خفارہتے ہیں جو اپنے شعبے سے ایماندار نہیں ہیں ۔ کیونکہ انہیں صرف پڑھانے اور کمانے سے مطلب ہے ۔ ان کی بلا سے مضمون کسی کو سمجھ آئے یا نا آئے ۔ جو بات سمجھ میں ناآئے تو وقت گزاری ہی تو ہے ۔ سو اسٹوڈنٹس کلاس میں وقت گزارنے کے بعد ان کے پاس آتے ہیں ، ان سے پڑھتے ہیں اور موضوع کی رمزیں سمجھتے ہیں پر ڈاکٹر نیازی نے کبھی کسی کی کسی سے شکایت نہیں کی ۔

dr niazi2

ڈاکٹر سہیلہ طارق نے بتایا پچھلے برس جب وہ الومنی کی تقریب میں شامل ہوئے تو سارے اسٹوڈنٹ کھڑے ہو گئے اور والہانہ یوں ان سے گلے ملنے کو لپکے جیسے عرصہ بعد “ باپ “ گھر آ یا ہو ۔ پھر وہ پوری محفل میں ان کے ساتھ ساتھ ہی رہے ، حتی کے انہوں نے اپنے شاگردوں کے ساتھ مل کر بھنگڑا بھی ڈالا ۔ وہ گھر کے بچوں کے ساتھ اتنے شفیق اور محبت کے برگد جیسے ہیں کہ گھٹنوں کے بل ان کے برابر ہو کر تصویریں بنواتے ہیں ۔

dr niazi with kids

پاکستان کے فادر آف اناٹومی پروفیسر ڈاکٹر مظفر خان جلال نیازی میں خوش نصیب ہوں کہ آپ میرے استاد محترم ہیں ۔ میں آج شعبہ طب میں جو بھی ہوں آپ ہی کی محنت اور شفقت کی وجہ سے ہوں ۔ میں فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ میرے لئے ہر دن “ ٹیچر ڈے “ ہے اور اس کی وجہ آپ ہیں ۔ آپ کے علم کا نور ہے ، آپ کی بے لوث محنت و محبت شامل ہے ۔ اللہ پاک آپ کو سدا ہمارے درمیان رکھے ۔ آپ جیسی عاجزی ، انکساری اور علم سے ایمانداری عطا فرمائے ۔۔۔ الہی آمین

طب کے شعبے میں عالمی شہرت یافتہ اپنے استاد مکرم پروفیسر ڈاکٹر مظفر جلال خان نیازی کی خدمت میں

میرے استاد کے چہرے سے عیاں علم کا نور
دل میں بھی نور ہے لاریب زباں علم کا نور
یہ بھی ہے فیض مظفر کہ مسیحا نگہت
میرے تا حشر زمیں اور زماں علم کا نور

آپ کی ادنی شاگرد
ڈاکٹر نگہت نسیم
سڈنی ، آسٹریلیا
دس مئی دوہزار سترہ

qata dr niazi

SHARE

39 COMMENTS

  1. جزاک اللہ
    استاد کو ایسی عزت دینے والے شاگرد تعداد میں کوئی زیادہ نہیں ہیں لیکن آپکو اللہ نے احسان مند افراد میں رکھا ہے
    ایسے استاد کو میرا بھی سلام
    ڈاکٹر جلال نیازی سلامت رہیں

    • تھینک یو سو مچ سر ہمدانی ۔۔۔ آپ بھی میرے استاد محترم ہیں ۔۔ آپ نے مجھے سچ لکھنا اور بولنا سکھایا ۔۔ حق بات پر کسی سے نا ڈرنا سکھایا ۔۔ اللہ پاک مجھے آپ کا بعد از حیات بھی احسانمند رکھے ۔۔ الہی آمین

  2. نیازی صاحب کے بارے میں آپ نے جو کچھ بھی لکھا ھے 200 فیصد درست ھے۔ایک اور بات وہ ایک بہترین اتھلیٹ بھی ہیں۔کالج میں کسی بھی کلاس کا ٹور جاتا تھا تو سب اسٹوڈنٹس کی خواہش ھو تی تھی کی نیازی صاحب ہمارے ساتھ چلیں۔یعنی وہ استاد۔سے زیادہ دوست تھے
    اعجاز احمد واہلہ

  3. Niazi sahib my sweat teacher
    When in class he sees that I am not there
    He knows that I am sleeping in 34 Kisan Hal
    He used to come in my room and then I have to go with him
    He is nice sports man and have sports man spirt too
    We love him from core of our hearts
    دڈاکٹر طارق بٹ

  4. Everything written here is a true depiction of our most respected teacher Dr Niazi… may he continue to be the epitome of knowledge for all of us… Ameen
    Beautifully written article, very touching indeed 🙂

  5. No doubt Prof. Niazi is a legendary teacher we all remember that he was so committed and so friendly to all of his students. Dr Agha Hamadani

  6. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اللہ آپ کو اس پر اجر عظیم عطا کرے- بلاشبہ نیازی صاحتب ہمارے دلوں میں بستے ہیں- ہمیں ان کے اولین شاگرد ہونے کا فخر حاصل ہے مجھے اچھی طرح یاد ہے جب نومبر 1975 میں انہوں نے ہمارے گروپ کے ڈیمانسٹریٹر کے طور پر ہمیں پڑھایا
    ڈاکٹر خالد ڈوگر

  7. آپ کا مضمون پڑھ کر خوشی اس لئے ہوئ کہ ستر اسی کی دہائ میں ان کے ساتھ نسبت رہی ہے اور طارق روڈ پر ان کے کلنک میں بے شمار شامیں ان کی معیت میں گزاری ہیں جہاں ان کے بورڈ پر لکھا ہوتا تھا ڈاکٹر مظفر جلال خان نیازی گولڈ میڈلسٹ۔ آپ نے جس محبت اور عقیدت سے ان کے بارے میں لکھا ہے اس پہلو سے دیکھنے کا ہمیں موقع ہی نہیں ملا۔
    ظوۓ پے

  8. سبحان اللہ
    ماشاءاللہ
    کیا خوبصورت انسان سے ملاقات کروادی، اشرف المخلوق ابھی ہے موجود، سلامت رہیں
    _______
    دنیا کی طرح ہم نہیں مصلحت شناس
    ملنے پر جس سے آ گئے بے پیش وپس مل

    سید مسعود افروز

  9. پاکستان کے بابائے اناٹومی پروفیسر ڈاکٹر مظفر خان جلال نیازی کی فیس بک ان باکس میں مضمون کا شکریہ یوں ادا کیا ۔۔۔۔

    Saw your article Babae Anatomy Dr MUZAFFAR Jalal KHAN Niazi. Shukar Alhamdo lillah. Aaj be boht pyar karnay students hain. Ab bhi usi jazbay k sath kam karta hon
    Love 2 all my Students all over the world especially PMCIANS
    THANKS NIGHAT Nasim
    تھینکس سر سو مچ
    آپ کو اچھا لگا جیسے خوش ہو گیا
    05:51

    Boht Boht achha laga . Allah tala bless you wd his rehmat Amin
    Chat conversation end
    Sent from Messenger
    بہت بہت شکریہ سر
    اللہ پاک آپ کو صحت سلامتی عطا فرمائے ۔۔ الہی آمین

  10. Nighat Nasim
    I am honoured Sir… thank you so much for accepting few lines in respect of your great service
    .. Love you
    Like · Reply · 1 · 12 hrs
    Muzaffar Jalal Khan Niazi
    Muzaffar Jalal Khan Niazi Love you too Beta G
    Like · Reply · 11 hrs

  11. ایک اچھا ڈاکٹر بننے کے لئے “ زبان “ کی نہیں بلکہ “ جسم کی سمجھ “ ہونی چاہیئے ۔—- ان کاعلم ہر اسٹوڈنٹ کے لئے داتا دربار کے لنگر کی طرح کھلا رہتا ہے ۔—- وہ گھر کے بچوں کے ساتھ اتنے شفیق اور محبت کے برگد جیسے ہیں کہ گھٹنوں کے بل ان کے برابر ہو کر تصویریں بنواتے ہیں ۔— bht hi khoobsurat likha hy , her lafz mn aqeedat aur fakhar hy , essi roshan tehreer aik roshan hasti k hawalay se hi ho sakti hy , ustad kabhi borha nehein hota , ustad ki koi umer nehein hoti , wo sahib e haal hota hy , umer k her hissay mn bcho k ander tak jhaank leta hy , wo roshni INJECT kerne ka kam kerta hy aur wo roshni ussay usskay muqam tak le jati hy , zinda o tabinda rehen essay sahib e haal log jo insanon mn roshni bant;te hn , bht tehseen mubarakbad Dr.Nighat Nasim sahiba , shadab rehen roshan rehen , roshni taqseem kerti rehen k ik diya apke ander bhi ustad e mohtrm mn roshan kr rakha hy ..

    Mustafa Nasir

  12. نگہت آپی آپ کے عظیم استاد سے مل کر بہت اچھا لگا ظاہر ہے ۔۔۔
    یہ انہی کی عظیم شاگرد کا ہی کام ہے جہنوں نے ہم سے عظیم استاد کا تعارف کروا دیا ۔۔۔۔۔
    آپ سب سلامت رہیں ۔۔۔آمین
    Noshi Aqeel

  13. سبحان اللہ
    ویسے ہم تو آپ کے لکھے کو سند مانتے ہی ہیں۔۔ مگر پھر بھی
    ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ استاد جس نے نگہت نسیم جیسا ہونہار اور ہمہ جہت ۔۔ شاگرد ہمیں دیا ۔۔ اس استاد _ محترم کو سلام ۔۔ یقین کریں کہ۔۔ ہمارے ۔۔اس گئے گزرے معاشرے میں ۔۔اس آج بھی۔۔ استاد کی قدر ہے۔۔ہم نے لوگوں کو استادوں کے قدموں میں بیٹھے دیکھا ہے۔۔ اللہ ہمارے وطن پر ان پیغمبرانہ شان والی شخصیات کا سایہ ہم پر قائم رکھے (آمین) ۔۔ ان میں میرے استاد ۔۔ جیکب آباد سے تعلق رکھنے والے ۔۔محترم المقام جناب سری چند ہسیجہ صاحب بھی ہیں۔۔(جن کی شاگردی پر ہمیشہ مجھے فخر رہا ہے )
    Akhwand Sajid Majeed Khan

  14. معزز احباب میں آپ سب کی فردا فردا شکرگزار ہوں ۔ آپ سب کو میرے لکھی ہویئں کچھ سطریں اچھی لگیں ۔ میرا مقصد پورا ہوا ۔ مجھے اپنے استاد مکرم جناب ڈاکٹر نیازی کی احسانمندی ادا کرنی تھی ۔ آپ سب نے میری آواز پر لبیک کہا ۔۔۔ ہم سب ڈاکٹر کتنے خوش نصیب ہیں جن کی قسمت میں اتنے روشن مینار خدا پاک نے لکھا اور پھر ہمیں یہ موقع بھی عطا کیا کہ ہم مل کر ان کا شکریہ ادا کر سکیں ۔ بیشک یہ بہت بہت کم ہے ۔ ڈاکٹر سر نیازی کی جتنی خدمات اس ملک اور ہمارے زندگی کے لئے ہیں اس کا احسان شمار ممکن نہیں ۔ ہم بس ان کی منت کر سکتے ہیں کہ ہم پر اپنا دست شفقت ہمیشہ رکھیں ۔ ۔۔۔۔ اور ہمیں اپنے جیسا کشادہ دل ہونے کی دعا دے دیں ۔۔۔ جزاک اللہ سر نیازی ۔۔ اللہ پاک آپ کو ہماری حیات میں بعد از حیات بھی رکھے ۔۔۔ الہی آمین

    ڈاکٹر نگہت نسیم

  15. I am honored that he remembers me and has visited me in Saudi Arabia…. A great human being and a great teacher…..

LEAVE A REPLY