گیارہ مئی 1949ء اسرائیل کی اقوام متحدہ میں شمولیت ہوئی

0
71

اسرائیل مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو بحیرہ روم کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام، مشرق میں اردن، مشرق اور جنوب مشرق میں فلسطین اور جنوب میں مصر، خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر واقع ہیں۔ اسرائیل خود کو یہودی جمہوریہ کہلاتا ہے اور دنیا میں واحد یہود اکثریتی ملک ہے۔

۔۔۔۔۔۔29 نومبر، 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کیا۔ 14 مئی، 1948ء کو ڈیوڈ بن گوریان نے اسرائیل کے ملک کے قیام کا اعلان کیا۔ 15 مئی، 1948ء کو یعنی اعلان آزادی کے اگلے روز کئی ہمسائیہ ممالک نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ بعد کے برسوں میں بھی کئی بار اسرائیل کے ہمسائیہ ممالک اس پر حملہ کر چکے ہیں۔

اسرائیل کا معاشی مرکز تل ابیب ہے جبکہ سب سے زیادہ آبادی اور صدر مقام یروشلم کو کہا جاتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی طور پر یروشلم کو اسرائیل کا حصہ نہیں مانا جاتا۔

نسلی اعتبار سے اسرائیل میںاشکنازی یہودی، مزراہی یہودی، فلسطینی، سفاردی یہودی، یمنی یہودی، ایتھوپیائی یہودی، بحرینی یہودی، بدو، دروز اور دیگر بے شمار گروہ موجود ہیں۔ 2014ء میں اسرائیل کی کل آبادی 8146300 تھی۔ ان میں سے 6110600 افراد یہودی ہیں۔ اسرائیل کا دوسرا بڑا نسلی گروہ عرب ہیں جن کی آبادی 1686000 افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ عیسائی اور افریقی ممالک سے آنے والے پناہ گزین اور دیگر مذاہب کے افراد بھی یہاں رہتے ہیں۔

اسرائیل میں نمائندہ جمہوریت ہے اور پارلیمانی نظام چلتا ہے۔ حق رائے دہی سب کو حاصل ہے۔ وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے اور یک ایوانی پارلیمان ہے۔ اسرائیل ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور دنیا کی 43ویں بڑی معیشت ہے۔ مشرق وسطیٰ میں معیار زندگی کے اعتبار سے اسرائیل سب سے آگے ہے اور ایشیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ دنیا میں اوسط زیادہ سے زیادہ عمر کے حوالے سے اسرائیل دنیا کے چند بہترین گنے چنے ممالک میں شامل ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY