حضرت صدیق اکبر(رض) 10 شمس جیلانی

0
93

ہم حضرت ابو بکر (رض)کا ذکر کر تے ہو ئے احد تک پہو نچے تھے۔اس کے بعد سانحہ بئرِ معونہ ہوا ۔ جس میں نجد کے ایک قبیلہ کا ایک شخص ابو براءبن مالک جس کا تعلق بنو عامر سے تھا حضور (ص) کے پا س مدینہ منورہ آیا۔ اس کو حضو ر (ص)نے سلام کی دعوت دی۔ مگر اس نے خو د تو اسلام قبو ل نہ کیا مگر اس کے خلاف بیزاری بھی نہیں دکھا ئی۔ بلکہ مشورہ دیا کہ اگر کچھ لو گ بطور مبلغ میرے ساتھ بھیجدیں تو مجھے امید ہے کہ اہل ِ نجد آپ کی دعوت قبو ل کر لیں گے۔ پہلے تو حضو ر (ص) نے اس خد شے کا اظہا ر فر مایا کہ مجھے (ص) نجدیوں سے خو ف آتا ہے کیونکہ نجدی اور قریش میں ہمیشہ سے مخاصمت رہی ہے ۔ لیکن جب اس نے ان کی حفا ظت کی یقین دہا نی کرا ئی کہ میں بطور ہمسا یہ ان کی نگہبا نی کرونگا۔ تو ان کے ساتھ دین کی تعلیم کے لیئے ، حضور (ص) نے قبیلہ کی کثیر آبادی کو دیکھتے ہو ئے اس کے ساتھ سترصحا بہ کرام (رض)کو روانہ کر دیا ۔ وہ جب بنو عامراور بنو سلیم کی بستی کے درمیان میں واقع بئرِ معونہ پہو نچے تو وہا ں ٹھہر گئے اور حضرت حرام (رض) بن لحان کو رئیس ِ نجد عامر بن طفیل کی طر ف حضو ر (ص)کا نامہ مبا رک دے کر بھیجا ۔اس دشمن ِ خدا نے نامہ گرامی دیکھے بغیر ان کو شہید کر دیا ۔اور اپنی مدد کے لیئے بنو عامر کو آواز دی مگر انہوں نے یہ کہہ کر انکا ر کر دیا کہ ابو برا ءنے ان کو پنا ہ دی ہو ئی ہے تو ہمیں ایک غلط کا م کی طر ف بلا رہا ہے ۔پھر اس نے بنو سلیم کو آوا ز دی وہ آگئے اور ستر صحا بہ میں سے سوائے صرف کعب بن زید کے جنہیں وہ مر دہ سمجھ کر چھو ڑ گئے تھے ، باقی سب کو شہید کر دیا۔

ان کے علاوہ دو حضرات اور تھے حضرت امرو (رض) بن امیہ اور منذر (رض) بن عمرو انصاری، وہ کسی ضرورت سے کہیں گئے ہوئے تھے ہوئے تھے جب وہ واپس آئے اور وہا ں چیلیں اور کو ئے اڑتے ہو ئے دیکھے ،تو صورت ِ حال کاادراک کر کے حضرت عمرو (رض) واپس ہو نے لگے۔مگر حضرت منذر (رض) نہیں مانے انہوں نے فر مایا میں ان لو گوں سے لڑے بغیر نہیں جا ؤنگا۔ پھر تم حضو ر (ص)کو جا کر بتا دینا کہ انہو ں نے مجھے کیسے قتل کیا تھا ۔ ۔تب حضرت عامر (رض) بھی ساتھ ہو گئے دو نوں بہت بہا دری سے لڑے حضرت منذر (رض) شہید ہو گئے اور حضرت عامر (رض) گر فتار کر لیئے گئے ۔ جن کو بعد میں عامر بن طفیل نے اپنی ماں کے عیوض با ل کا ٹ کر رہا کر دیا ۔لیکن جب وہ مد ینہ آرہے تھے تو راستہ میں انہیں بنو عامر کے دو شخص ملے ،اور انہو ں نے حالات سے با خبر نہ ہو نے کی وجہ سے دشمن سمجھ کر قتل کر دیا۔ چونکہ بنو عامر قبیلہ بنو نضیر کے حلیف تھے اور بعض مور خین نے لکھا ہے کہ مقتولین میں سے ایک مسلمان تھا۔ لہذا جب حضو ر (ص)کو پتا چلا تو انہو ں نے افسوس کا اظہا ر فر ما یا۔پھروہ (ص) صحابہ کرام کی ایک جمعیت لے کر بنو نضیر کے پا س تشریف لے گئے تا کہ ان کو خو نبہا لینے پر آمادہ کر یں اور اگر راضی ہو ں تو ادا فر ما دیں ۔ ان کے سرداروں نے کہا کہ اے ابو القاسم (ص) جیسا آپ فر ما ئیں گے ویسا ہی ہو گا ۔ اور یہ کہہ کر وہا ں سے اٹھ گئے کہ ہم آپ (ص) کی ضیافت کی تیا ری کر تے ہیں ۔صحابہ کرام مطمعن ہو گئے اور اپنے دوستوں سے ملنے ان کی بستی میں چلے گئے ۔ان میں حضرت ابو بکر (رض) بھی شامل تھے ۔مگر بنو نضیر کے دل میں کھو ٹ تھا۔ انہو ں نے آپس میں میٹنگ کی کہ اس سے بہتر مو قعہ پھر حضور (ص) کو شہید کر نےکا نہیں ملے گا ۔اور اپنے ایک آدمی کو تیار کیا کہ وہ چھت پر جہا ں حضور (ص) کو دیوار کے زیر ِ سایہ کمبل بچھا کر بٹھا یاہوا تھا۔

ایک بھا ری پتھر گرا دے ۔ چونکہ موقع کا کوئی گواہ نہیں ہو گا ،بعد میں ہم لا علمی ظاہر کر دیں گے۔ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی حضور (ص) کو مطلع فر ما دیا اور حضور (ص) وہا ں سے اچانک روانہ ہو گئے۔ جب صحابہ کرام واپس آئے اور حضور (ص) کو نہ پا یا تو پریشان ہو گئے ۔اتنے میں کسی مسا فر نے آکر کے بتایا کہ اس نے حضور (ص)کو مدینہ کی طر ف جا تے ہو ئے دیکھا ہے ۔اس سے پہلے چو نکہ ان کے خلا ف رئیس المنا فقین ابی سلو ل کے اورقریش ساتھ مل کر ساز شو ں کی خبر یں آرہی تھیں۔ اور ان میں سے کچھ لو گو ں نے اسلام اور حضور (ص) کی ہجو میں تو ہین آمیز اشعاربھی کہے تھے ۔لہذا حضور نے پہلے تو انہیں الٹی میٹم دیا کہ وہ دس دن کے اندر مدینہ خالی کردیں ۔ مگر وہ عبد اللہ بن ابی سلول کے بہکا وے میں آگئے کہ اگر تم پر حملہ ہوا تو ہم تمہاری مدد کرینں گے۔ کچھ مو رخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ قریش نے بھی مدد کا وعدہ کیا تھا۔ مگر جب حضو ر (ص) نے ایک لشکرتیا ر کیا اور ان کی طر ف روانہ ہو گئے جس میں حضرت ابو بکر (رض) بھی شامل تھے ۔ تو وہ قلعہ بند ہو گئے۔ جب پندرہ دن تک کہیں سے کوئی مدد نہ آئی، تو وہ مایو س ہو کر ہتھیار ڈالنے پر آما دہ ہوگئے ۔یہا ں بھی ر حمت اللعالمین (ص) کی رحمت جو ش میں آئی اور ان کو اجا زت دیدی گئی،کہ وہ اپنی تمام جا ئدادِ منقولہ وہا ں سے لے جا سکتے ہیں اور انہوں نے اس سے فا ئدہ اٹھا تے ہو ئے۔ اپنے مکان خو د گرا ئے اور اس کا کا ر آمد ملبہ بار برداری کے جا نوروں پر لا د کر اس طر ح روانہ ہو ئے کہ انکی لونڈیا ں آگے آگے گیت گاتی جا رہی تھیں ۔ ان کا خیا ل تھا کہ وہ خیبر کے علاقے میں فل الحا ل چلے جا ئیں گے۔ پھر وہاںسے مو قعہ پا کر حملہ کر دیں گے ۔جوکبھی پورا نہیں ہو ا اور وہاں سے بھی نکلنا پڑا،جیساکہ آپ آگے چل کر پڑھیں گے ۔

غزوہ بنو مصطلق۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر (رض) کا کردار غزوہ بنو مصطلق میں نظر آتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضور (ص) کو خبر ملی کہ بنوں مصطلق نے آس پاس کے قبائل کوجمع کر رکھا ہے اور اندرونی طورپرانہیں بھی ابی سلول اور قریش کی حمایت حا صل ہے۔ حضو ر (ص)نے اس فتنے کا اس سے پہلے کہ وہ اپنے عزائم میں کا میا ب ہو تے، سر کو بی کا فیصلہ فر ما یا اور ایک لشکر مجا ہدین اور انصارکا لے کر کے روانہ ہو گئے۔ جس میں مہا جرین کی قیا دت حضرت ابو بکر (ص) کے ہا تھ میں تھی ۔پہلے انہوں نے مقابلہ کیا مگر بعد میں اسلام لے آئے اور صلح کر لی ۔

واقعہ افک۔ بنو مصطلق کی مہم سے واپسی پر یہ واقعہ پیش آیا جو کہ حضرت ابو بکر (رض) اور ان کے اہل ِ خاندان کے لیئے بہت بڑا امتحان تھاکیو نکہ انسا ن خود تو سب کچھ بر داشت کر لیتا ہے مگر جب اولا د کو مشکل میں دیکھتا ہے تو پھر برداشت نہیں کر پا تا ۔مگر اس مر حلہ پر حضور (ص) اور ان کے در میا ن رتی بھر فر ق نہیں آیا۔ ہو ا یہ کہ جب حضور(ص)واپس تشریف لا رہے تھے ۔تو ام المو نین عا ئشہ (رض) صدیقہ ان کے ہمرا ہ تھیں۔ جب مدینہ ایک منزل رہ گیا تو حضور (ص) نے بنو قر عہ کی بستی کے قریب پڑا ؤ کا حکم دیا ۔ وہ رفع حا جت کے لیئے صبح سے کچھ پہلے تشریف لے گئیں ۔ جب واپس تشریف لا ئیں تو قافلہ روا نگی کے لیئے تیا رتھا۔ مگر انہو ں نے دیکھا کہ ان کا ظفار کا ہا ر گلے میں نہیں ہے لہذا وہ اس کو تلا ش فر ما تی ہو ئی وہا ں تک تشریف لے گئیں پہلے تشریف لے گئیں تھیں،وہا ں وہ مل گیا ۔جب وپس اپنی قیام گاہ پر پہو نچیں تو قافلہ کو چ کر چکا تھا۔ “ ان کے مطا بق سار بان غلط فہمی کا شکا ر ہو گئے تھے ۔ کیونکہ طر یقہ کا ر یہ تھا کہ امہا ت ِ مو منین پہلے سے کجا دوں میں تشریف فر ما ہو جا تی تھیں ۔اور سار با ن اسے اٹھا کر اونٹ پر رکھدیتے تھے ۔ اور اونٹ کو کھڑا کر کے چل دیتے تھے ۔ چو نکہ حضر ت عا ئشہ (رض) ہلکی پھلکی تھیں لہذا ان کو اندا زہ نہ ہو سکا اور وہ اونٹ پر کجادہ رکھ کر چل دیئے ۔ ان کی غیرمو جو د گی کا انہیں ادراک نہیں ہو سکا۔ پھر وہ وہیں چا در اوڑھ کر لیٹ گئیں ۔کہ جب انہیں غلطی کا احساس ہو گا تو لوگ ڈھونڈتے ہو ئے وہیں آئیں گے۔ جبکہ حضو ر (ص)نے حضرت صفوان (رض) بن معطل سلمی کو اس خدمت پر مقر رفر ما یا ہو ا تھا کہ وہ لشکر کے چل نے کہ بعد گری پڑی چیزو ں کو اٹھا تے ہوئے آئیں ۔ جب انہو ں نے مجھے دیکھا تو انہو ں نے بغیر با ت کیئے ۔اپنا اونٹ بٹھا دیا اور میں اس پر بیٹھ گئی اور وہ مہا ر پکڑ کر چلنے لگے ۔انہو ں نے بہت کوشش کی وہ قافلہ کو پکڑ لیں مگر نہ پکرسکے۔ جب ہم پہو نچے تو دن نکل چکا تھا ۔اور میں بے خبر تھی کہ وہا ں ایک طو فان بر پا ہو چکا ہے اور عبد اللہ ابی سلو ل اس میں پیش پیش تھا ۔ پھرمیں بیما ر ہو گئی ۔اورمیں نے حضو ر (ص)کی خلا ف معمول بے اعتنا ئی دیکھ کر اپنے میکے جا نا چا ہا۔ جو حضور (ص) نے عنایت فر ما دی۔ وہا ں بھی کسی نے مجھ سے کسی نے ذکر نہ کیا ۔ جب تک کہ مسطح کی والدہ نے نہیں بتا یا ۔پھر ایک دن حضو ر (ص)ہما رے گھر تشریف لا ئے ۔ اور مجھ سے فر ما یا کہ اگر مجھ سے کو ئی غلطی ہو ئی ہے تو میں اللہ سے مغفرت ما نگ لو۔ میں نے کہا کہ میں ایسی با ت کیسے تسلیم کر سکتی ہو ں جو میں نے کی ہی نہیں ۔اور میں نے بڑی امید سے اپنے والدین کی طر ف دیکھا کہ وہ صفا ئی میں کچھ کہیں گے !مگر والد ِ محترم نے یہ فر ما کر معذرت کر لی کہ جس کے با رے میں ہمیں علم ہی نہیں ہے ہم کیسے صفا ئی پیش کر سکتے ہیں ۔پھر میں اتنا روئی کہ مجھے ایسا لگا کہ میرا کلیجہ نکل پڑے گا ۔ اتنے میں حضور (ص) پراللہ سبحا نہ تعالیٰ نے میری برا ءت میں و حی نا ز ل فر ما دی۔ حضور (ص) نے مجھے مبا کبا د دی میرے والد فر ما نے لگے اٹھواور حضو ر (ص) کا شکریہ ادا کرو۔ میں نے عر ض کیا میں اس کا شکرنا پسند کرو نگی، جس نے مجھے بری کیاہے۔
(باقی آئندہ )

SHARE

LEAVE A REPLY