تری چوڑیاں میرا ہاتھ تھامے رہتی ہیں

تری بالیاں کانوں میں سرگوشیاں سی کرتی ہیں

بس تری باتیں ترے قصے سناتی  رہتی ہیں

جتنے پل تجھ بن بیت رہے ہیں  ماں

سب ان سے مل کر بانٹ رہی  ہوں

یہ ترے تحفے  نہیں  تری خوشبو ہیں

جہاں جاؤں ساتھ  ساتھ رہتے ہیں

ماں ۔۔

تو سو گئی ہے جس خاک میں

مرے سجدے اس پہ قربان رہتے ہیں

آسماں کا ہر چمکتا ستارہ چہرہ تیرا بن جاتا ہے

بادل کی ٹکڑیاں تصویر تری ہو جاتی ہیں

میری پیاری … میری سوہنی میری دلدار

تری غمگساری میرے آنسو پونچھ لیتی ہے

پر تو اپنی سنا ۔۔ ۔۔۔ میری سہیلی

کچھ تو بتا توں اب کیسی ہے ؟

لاکھوں درد تھے ا’س تن کو

دوا .. دعا سے  ۔۔۔  دور

 توں  آرام سے  تو  ہے نا ؟

SHARE

LEAVE A REPLY