عجب دستور ھوتے جارھے ھیں۔ اشرف علی

0
73

عجب دستور ھوتے جارھے ھیں
وہ ھم سے دور ھوتے جارھے ھیں

کوئی بتلا دے ہم کو یہ خدارا
یوں کیوں رنجور ہوتے جا رہے ہیں

قدم پتھر کے جیسے ہو گئے ہیں
تھکن سے چور ہوتے جا رہے ہیں

کبھی پُرنور آتے تھے نظر جو
وہی بے نور ہوتے جا رہے ہیں

یہ چشمِ باوفا کا معجزہ ہے
کہ غم کافور ہوتے جا رہے ہیں

کوئی بتلائے گا یہ راز کیا ہے
عدو مسرور ہوتے جا رہے ہیں

یہ اشرف حُسن کا ہے سب کرشمہ
جو یوں مغرور ہوتے جا رہے ہیں

اشرف علی

SHARE

LEAVE A REPLY