سولہ مئی 1943ء کوجرمنی میں یہودی بغاوت کو کچل دیا گیا

0
78

جرمن افواج نے بغاوت کے شروع ہونے کے بعد چند دنوں کے اندر منظم فوجی مزاحمت ختم کر دی تھی، تاہم انفرادی طور پر اور چھوٹے گروپوں کی شکل میں لوگ چھپے رہے اور وہ لگ بھگ ایک ماہ تک جرمنوں سے لڑتے رہے۔

جرمن فتح کو علامت بناتے ہوئے اسٹروپ نے 16 مئی، 1943 کو ٹلوماکی اسٹریٹ پر واقع عظیم سیناگاگ کی تباہی کا حکم دیا۔ یہودی بستی اب خود کھنڈر بن چکی تھی۔ اسٹروپ نے رپورٹ دی کہ اس نے 56,065 یہودیوں کو گرفتار کر لیا ہے اور 631 بنکروں کو تباہ کر دیا ہے۔ اس نے اندازہ لگایا کہ بغاوت کے دوران اس کے یونٹوں نے 7,000 تک یہودیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ جرمن حکام نے وارسا کے تقریباً 7,000 مزید یہودیوں کو ٹریبلنکا کی قتل گاہ میں جلاوطن کر دیا جہاں پہنچنے پر تقریباً تمام ہی گیس چیمبروں میں ہلاک کر دئے گئے۔ جرمنوں نے باقی تقریباً تمام 42,000 یہودیوں کو لوبلن/مجدانیک حراستی کیمپوں، اور پونیا ٹووا، ٹرونیکی، بڈزائن اور کراسنک کے جبری مشقت کے کیمپوں میں جلاوطن کر دیا۔ جرمن ایس ایس اور پولیس یونٹس نے بعد میں بڈزائن اور کراسنک کے چند ہزار جبری مزدوروں کے سوا وارسا کے تقریباً تمام یہودیوں کو “آپریشن ہارویسٹ فیسٹیول” (اُنٹرنیہمن ارنٹافیسٹ) کے دوران قتل کر دیا جنہیں نومبر 1943 میں لوبلن/مجدانیک، پونیا ٹووا اور ٹرونیکی جلاوطن کیا گیا تھا۔

جرمنوں نے تین دن میں وارسا یہودی بستی کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن یہودی بستی کے مزاحمت کاروں نے ایک ماہ سے زیادہ تک مزاحمت جاری رکھی۔ 16 مئی، 1943 کو بغاوت کے اختتام کے بعد بھی یہودی بستی کے کھنڈرات میں چھپے ہوئے یہودیوں نے انفرادی طور پر گشت کرنے والے جرمنوں اور ان کے حلیفوں پر حملے جاری رکھے۔ وارسا کی یہودی بستی کی بغاوت یہودیوں کی طرف سے سب سے بڑی بغاوت تھی اور علامتی طور پر بھی سب اہم بغاوت تھی۔ یہ جرمن مقبوضہ یورپ کے شہری علاقوں میں ہونے والی پہلی بغاوت تھی۔ وارسا کی مزاحمت نے دیگر یہودی بستیوں (مثلاً بیالسٹاک اور مینسک) اور قتل گاہوں (ٹریبلینکا اور سوبیبور) کو متاثر کرتے ہوئے وہاں بھی بغاوت کو اُبھارا۔

SHARE

LEAVE A REPLY