کبھی کبھی جب میرا دل
تنہائی سے بھر جاتا ہے…
تو مَیں دنیا، تیری جانب
کچھ بھی لینے چل پڑتا ہوں
تیرے بازار میں دنیا
ریستوران ہیں، اونچے اونچے ہیبت ناک پلازے ہیں
سہ جہتی فلموں والے سنیما گھر ہیں
شاپنگ مال ہیں
شاپنگ مال جہاں پر
ایک ہی چھت کے نیچے
شیلفوں، ریکوں میں ہر چیز قرینے سے رکھی ہے
ہاتھ بڑھاؤ، لے لو
جو چاہو، جتنا چاہو
رکھ لو مال ٹرالی میں
جتنا جیب اجازت دیتی ہو

دنیا، تیرے دل میں پتھر کی آنکھیں ہیں
جو ان شیشوں سے، شو کیسوں سے جھانکتی رہتی ہیں
جن میں مجھ جیسوں کے خواب رکھے ہیں
جینے مرنے کے اسباب رکھے ہیں
مُلکوں اور زمینوں کی ہر جنس پڑی ہے
افلاک، ستارے، مہتاب رکھے ہیں
تیرے ظرفاب میں دنیا
نیلی، پیلی، سرخ، سنہری
کتنے رنگوں کی اسماک سجی ہیں
کتنے سورج زیرِ آب رکھے ہیں
کچھ چیزوں پر سیل لگی ہے
کچھ کی قیمت پوری ہے
لیکن ہر خواہش کی تکمیل ادھوری ہے

تیری “سٹاپ اینڈ شاپ” میں دنیا
میرے مطلب کی ایک بھی چیز نہیں
مجھ کو تو یہ بھی معلوم نہیں کیا لینے آتا ہوں
دنیا، تجھ کو دیکھ کے واپس آ جاتا ہوں!

LEAVE A REPLY