آپ نے ممکنہ طور پر یہ ضرور سنا ہوگا کہ روزانہ کم از کم 8 گلاس پانی کو پینا چاہئے، ٹھیک ہے؟ اگر ایسا ہے تو جان لیں یہ بکواس سے زیادہ کچھ نہیں۔

ورج سائنس کی ایک فیس بک ویڈیو کے مطابق سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسانوں کو کتنی مقدار میں پانی پینا چاہئے، اس کی کوئی حد طے نہیں کی جاسکتی۔

درحقیقت ہر فرد کے لیے پانی کی ضرورت مختلف ہوتی ہے، جس کا انحصار صحت، حجم، غذا، موسم، پسینے کی مقدار اور دیگر متعدد عوامل ہیں جن کے لیے ضروری نہیں کہ روزانہ آٹھ گلاس پانی پیا جائے۔

پانی سے ہٹ کر بھی جب آپ چائے، کافی یا سافٹ ڈرنک کا استعمال کرتے ہیں تو یہ بھی روزمرہ کی پانی کی ضرورت پوری کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

بنیادی طور پر آپ کے لیے تو یہ بھی ضروری نہیں کہ صرف پانی کو نوش کریں، آپ کی غذا کا بیس فیصد حصہ بھی پانی پر ہی مشتمل ہوتا ہے۔

اگر کسی طرح سائنس آٹھ گلاس پانی کی ضرورت کی حمایت کردے تو بھی بیشتر افراد کو ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کے لیے اس کی ضرورت نہیں۔

نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی ایک تحقیق کے مطابق صحت مند افراد اپنے جسم میں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اپنی پیاس سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔

یعنی آپ پیاسے ہیں، آپ کا منہ خشک ہورہا ہے یا پیشاب کی رنگت گہری ہوگئی ہے تو پانی پی لیں۔

پانی کی کمی خطرناک ہوتی ہے مگر حد سے زیادہ پانی بھی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

ویسے چند علامات کے ذریعے بھی جسم میں پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈریشن کے بارے میں جانا جاسکتا ہے، جیسے سانس میں بو، ہر وقت سردرد رہنا، گہرے زرد رنگ کا پیشاب، قبض کی شکایت، ہر وقت تھکاوٹ، کھانے کی خواہش، خشک جلد اور جھریاں، کھڑے ہونے پر سرچکرانا اور مسلز اکڑنا وغیرہ۔

واضح رہے کہ 8 گلاس کے برابر پانی جسم کے لیے ضروری قرار دیا جانے والا مشورہ 1945 میں فوڈ اینڈ نیوٹریشن بورڈ کی سفارشات میں شامل تھا جس میں کہا گیا تھا کہ روزانہ ڈھائی لیٹر پانی جسم کا حصہ بننا انسانی ضرورت ہے مگر اس جملے کے ساتھ موجود الفاظ کو نظر انداز کردیا گیا جو یہ تھا کہ اس میں سے بیشتر مقدار کھانوں کے ذریعے جسم کا حصہ بنتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY