سیکیورٹی ماہرین نے مزید سائبر حملوں کا خدشہ ظاہر کردیا
دنیا کے 150 سے زائد ممالک اس وقت کسی نہ کسی حد تک سائبر حملے کی زد میں ہیں اور سیکیورٹی ماہرین مزید جامع حملوں کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

سائبر حملے نے دنیا کے مختلف اداروں کو بھی نشانہ بنایا ہے جن میں برطانوی ادارہ نیشنل ہیلتھ سروس اور یورپ کی بجلی و گیس کمپنیاں بھی شامل ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ، برطانیہ، چین، روس، اسپین، اٹلی اور متعدد ایشیائی ممالک سمیت 150 سے زائد ملکوں سے رینسم ویئر کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس نے فیکٹریوں،اسپتالوں، کاروباری اداروں اور اسکولوں کو بھی متاثر کیا ہے ۔

رینسم ویئر وہ کمپیوٹر وائرس ہوتا ہے جو کمپیوٹرز لاک کر دیتا ہے اور اُنہیں کھولنے کے لیے تاوان مانگا جاتا ہے،ادھر یورپ کی پولیس ایجنسی یوروپول کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ ممالک کے ساتھ مل کر سائبر حملے کا مقابلہ کر رہی ہے۔

بعض سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق ان مشترکہ سائبر حملوں کے پیچھے ایک ہیکر گروپ ‘دی شیڈو بروکرز ہے، جس نے حال ہی میں امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی سے ہیکنگ ٹولز چرا کر نشر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اُدھر برطانوی وزارت دفاع نے میزائلوں سے لیس اپنی آبدوزوں کے ہیک ہونے کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروسز کے برعکس برطانیہ کی ایٹمی آبدوزوں کے کمپیوٹر سسٹم کو انٹرنیٹ گرڈ سے مکمل طور پر علیحدہ رکھا گیا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY