پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کرکٹر محمد نواز کو پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف وررزی کرنے پر 2 ماہ کے لیے معطل کرکے 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔

پی سی بی کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق محمد نواز کی معطلی کی سزا کا اطلاق 16 مئی سے ہوگا جبکہ اگر محمد نواز پی سی بی کی جانب سے دی جانے والی شرائط پر پورا اترتے ہیں تو ان پر عائد کی جانے والی سزا میں ایک ماہ کی کمی کی جاسکتی ہے۔

پی سی بی کی جانب سے دی جانے والی شرائط کے مطابق محمد نواز آئندہ 6 ماہ تک پی سی بی کے زیر انتظام چلنے والے اینٹی کرپشن پروگرام کا حصہ رہیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ محمد نواز کو 2 لاکھ روپے جرمانے کی رقم بھی معطلی کے دوران ادا کرنی ہوگی۔

اگر محمد نواز نے اپنی معطلی کی مدت کے آغاز کے بعد دوبارہ کسی بھی پی سی بی کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی تو پی سی بی ان کے خلاف آزادنہ تحقیقات کا آغاز کرے گا۔

یاد رہے کہ 12 مئی کو پی سی بی کی جانب سے محمد نواز کو نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محمد نواز نے بکیز کے رابطہ کرنے کی تفصیلات کوغیر ضروری تاخیر سے پی سی بی کی نگرانی اور سیکیورٹی کمیٹی کو آگاہ کیا تھا۔

جس کے بعد محمد نواز نے پی سی بی سے متفقہ پابندی کی درخواست کی تھی جس کے نتیجے میں پی سی بی نے محمد نواز کو بکیز کے رابطے کی تمام معلومات، نوٹس کا جواب اور اپنا تحریری بیان جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔
گذشتہ روز محمد نواز نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا تحریری بیان پی سی بی کی نگرانی اور سیکیورٹی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر جمع کرایا تھا۔

غلطی تسلیم کیے جانے کے بعد پی سی بی نے محمد نواز کو 2 ماہ کے لیے معطل کردیا اور اس کے ساتھ ساتھ 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔

یاد رہے کہ آل راؤنڈر محمد نواز کو دسمبر میں دورہ آسٹریلیا کے دوران اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش ہوئی جس کے بارے میں محمد نواز پی سی بی حکام کو بروقت آگاہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔

رواں سال پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوسرے ایڈیشن کے پہلے ہی میچ کے بعد اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے سر اٹھایا تھا جس کے بعد پی سی بی نے 5 کھلاڑیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY