لندن میں پی آئی اے کے طیارے سے ہیروئن نکلی یا نہیں، دو دن گزر گئے، معمہ حل نہ ہوسکا، اگر ہیروئن برآمد ہوئی تو اس کی مقدار کتنی تھی، کیا مالیت تھی، جہاز کے کس خانے میں چھپائی گئی تھی۔

لندن میں پی آئی اے حکام ساری صورت حال سے لاعلم ہیں،پاکستانی ہائی کمیشن کے پاس بھی کوئی جواب نہیں۔

برطانوی حکام کا دعویٰ ہے کہ ہیروئین نکلی ہے اور پاکستان میں متعلقہ حکام کو ساری تفصیل سے آگاہ کردیا ہے،لیکن پاکستان میں کس کو بتایا،کیا بتایا،کوئی نہیں جانتا۔

لندن میں پی آئی اے کے طیارے سے کس مقدار میں ہیروئن برآمد کی گئی، کتنی مالیت کی تھی، جہاز کے کونسے خانے میں چھپائی گئی تھی، دد دن کا وقت گزر گیا، قومی ائیرلائن کے نام پر دھبہ لگ گیا، لیکن اس معاملے سے پردہ اٹھایا نہ جاسکا۔

برطانوی حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستان اور برطانیہ میں حکام کو تفصیل بتادی گئی ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر برطانوی بارڈر فورس اور نیشنل کرائم ایجنسی نے پی آئی اے لندن آفس سے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا۔

برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن بھی لاعلمی کی چادر اوڑھے بیٹھا ہے، ہائی کمیشن کے مطابق وہ برطانوی محکمہ خارجہ اور دولت مشترکہ کے دفتر سے رابطے میں ہے اور صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، جیسے ہی کوئی معلومات ملیں گی آگاہ کردیا جائے گا۔

برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے بھی تفصیلات جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا بتایا کہ جہاز کے خفیہ خانوں سے اعلیٰ کوالٹی کی ہیروئن برآمد کی گئی ہے، تاہم کسی بھی مرحلے پر نیشنل کرائم ایجنسی نے عملے کے کسی فرد سے پوچھ گچھ نہیں کی۔

دوسری جانب پاکستان میں مشیر ہوابازی مہتاب عباسی نے جہاں برطانیہ کو مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی ہے، وہیں یہ بھی بتادیا کہ پہلے اپنا گھر صاف کرنا ہوگا، ایئرلائن کو بدنام کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

لندن میں پی آئی اے کے جہاز پر یوکے بارڈر فورس کا ایکشن دو روز پہلے ہوا تھا جس میں 30سے زیادہ اہلکار شریک تھے۔

تقریباً 3گھنٹوں کے سرچ آپریشن میں سراغ رساں کتوں کی مدد سے اسلام آباد سے پہنچنے والی پرواز کا نہ صرف کونا کونا کھنگالا گیا تھا، بلکہ مسافروں کی نشستوں، ٹوائلٹ میں نصب کموڈز اور کچن کے ساتھ چھت کا بھی تیا پانچا کردیا گیا تھا۔

دوسری جانب برطانوی بارڈر فورس نے پی آئی اے کے 15رکنی عملے کے پاسپورٹ واپس کردیے، عملہ آج لندن سے کراچی کی پرواز آپریٹ کرے گا۔

پی آئی اے لندن کے اسٹیشن منیجر ساجد اللہ نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو میں کہا کہ برطانوی بارڈر فورس نے تصدیق کی ہے کہ جہاز کا عملہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث نہیں

SHARE

LEAVE A REPLY