سرد آندھیاں ہیں اور ہم جنوں میں جلتے ہیں, سہیل ملک

0
80

سرد آندھیاں ہیں اور ہم جنوں میں جلتے ہیں
ظاہرا نہیں لیکن اندروں پگھلتے ہیں

بھینٹ لے کے قرنوں کی اک طلسم ٹُوٹا تھا
ساحرانِ دنیا پھر کیوں فسوں بدلتے ہیں

ہوش آ گیا ہے کیا آپ منزلوں کو تو
کل تلک نہ جاتے تھے آج کیوں نکلتے ہیں

گو رموزِ فطرت کو کچھ سمجھ رہا ہے دل
واہموں کا میں لیکن کیا کروں جو پلتے ہیں

کاروانِ وحشت میں ہمسفر ملے کیسے
گر چلوں تو رک جائیں گر رکوں تو چلتے ہیں

سیر کیوں نہیں ہوتا پیاس کیوں نہیں بجھتی
چشمہ ہائے فطرت تو جب تکوں ابلتے ہیں

جو یقینِ کامل کی سان پر چڑھیں وہ ہی
خام حوصلے آخر کو جنوں میں ڈھلتے ہیں

منظرِ گلستاں پر دھند چھا گئی کیسی
چین کھو گیا ہے ہم بے سکوں مچلتے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY