عالمی عدالت کے فیصلے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جا سکتی

0
62

عالمی عدالت کے جج رونی ابراہم نے کہا ہے کہ عالمی عدالت کے فیصلے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے پاکستان کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کر دیا اور کہا کہ عالمی عدالت اس معاملے کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل1کےتحت عدالت کےپاس ویانا کنونشن کی تشریح میں تفریق پرفیصلہ دینے کااختیار ہے،دونوں ملکوں کے درمیان ویانا کنونشن کے تحت کونسلر رسائی پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کومطلع کرنے میں ناکامی ویانا کنونشن کے دائرے میں آتی ہے،ویانا کنونشن سے جاسوسی میں گرفتار افراد کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا،کلبھوشن یادیو کا معاملہ عالمی عدالت انصاف نے دائرہ کارمیں آتا ہے۔

عالمی عدالت کے جج رونی ابراہم نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو تین مارچ 2016 سے پاکستان کی قید میں ہے۔پاکستان نے بتایا کہ اس نے یادو کا معاملہ بھارتی ہائی کمیشن کےساتھ اٹھایا۔

جج نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ جنوری 2017میں پاکستان نے بھارت سے تحقیقات میں معاونت کے لیے خط لکھا،پاکستان نے بھارت کوبتایا کہ قونصلررسائی کا فیصلہ پاکستانی خط کےجواب پرہوگا۔

انہوں نے اپنے فیصلے کے دوران اس کیس سے متعلق مختلف دفعات کا خلاصہ بھی پیش کیا جس میں پاکستان اور بھارت کے سیاسی معاملات کے پس منظر کا تذکرہ تھا۔

عالمی عدالت انصاف میں پاکستانی وکیل خاور قریشی نے نہ صرف پاکستانی موقف بھر پور انداز میں پیش کیا کرتے ہوئے عالمی عدالت میں ثبوت دکھائےبلکہ کلبھوشن کے کرتوت بتائےاوراس کے سہولت کاروں کے نام بتائے۔

بلکہ دنیا کے سامنے یہ بات بھی دہرائی کہ پاکستان نے بھارت سے جو معلومات مانگیں ،بھارت نے ان پر تعاون کرنے کے بجائے فرار اختیار کیا۔

بھارتی جاسوس اوربھارتی نیوی میں حاضر سروس آفیسر کلبھوشن یادیوکی گرفتاری 16مارچ 2016کو حساس اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی مدد سے بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں عمل میں آئی جہاں وہ حسین مبارک پٹیل کے نام سے پاکستان مخالف تخریبی اور دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا ۔

گرفتاری کے چند روز بعد ہی کل بھوشن یادیو کا اعترافی بیان جاری کیا گیا جس میں اس نے اعتراف کیا کہ وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا،اس سے پہلے 2004اور2005میں وہ ’را‘ کے دہشت گرد مقاصد کے حصول کیلئے کراچی کے دورے بھی کرچکا ہے ۔

جاسوسی اور دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے اعتراف بعد فوجی عدالت نے10اپریل 2017 کو موت کی سزا سنائی۔

پاکستان نے بھارت کی پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردی سے متعلق کل بھوشن کے انکشافات پر اقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی فورمز پر آواز اٹھائی ۔اس متعلق ثبوت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے حوالے بھی کیے گئے ۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی جاسوس کل بھوشن کا آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیا گیا ۔اسے اپنے دفاع کے لیے لیگل ٹیم بھی فراہم کی گئی اور تمام الزامات ثابت ہونے پر فوجی عدالت نے اسے سزائے موت سنائی

SHARE

LEAVE A REPLY