عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کی جانب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن کی سزائے موت پر عمل درآمد روکے جانے کے حکم کے حوالے سے تجزیہ کاروں نے حیرانی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

فیصلے سے قبل پاکستانی تجزیہ کار پر اعتماد تھے کہ آئی سی جے کلبھوشن کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کا اختیار نہیں رکھتا تاہم اب مبصرین یہ کہہ رہے ہیں کہ دائرہ اختیار کے حوالے سے دیے جانے والے دلائل کمزور اور نقصان دہ تھے۔

’پاکستان نے غلطی کی‘
جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا کہ یہ فیصلہ حیران کن ہے کیوں کہ ’ایہ ٓئی سی جے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آئی سی جے میں پیش ہوکر غلطی کی، ’جب تک آئی سی جے اپنا فیصلہ نہیں دیتی، یہ کیس پاکستان میں چلتا رہے گا البتہ کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جاسکتی کیوں کہ عدالت نے حکم امتناع دے دیا ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کلبھوشن پر مقدمہ چلانے والے فیڈل جنرل کورٹ مارشل نے سزا کے خلاف اپیل کے لیے 40 روز کی مہلت دی تھی جو میرا خیال ہے کہ ختم ہونے والی ہے البتہ اگر عدالت چاہے تو اپیل کرنے کی مدت بڑھا سکتی ہے‘۔

’ضروری نہیں فیصلہ مانا جائے‘
تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ ممالک عالمی عدالت انصاف اور بین الاقوامی اداروں کے فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند نہیں ہوتے البتہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ عالمی عدالت انصاف نے بھارت کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عدالت نے ابھی محض پھانسی پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا ہے اور پاکستان کے دائرہ اختیار کے اعتراض کو مسترد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار کو امریکا سمیت کئی ممالک نہیں مانتے، ہم یہ فیصلہ کر سکتے تھے کہ اس مقدمے میں غیرحاضر ہو جاتے۔

زاہد حسین نے کہا کہیہ بات بحث طلب ہے کہ آیا پاکستان کو آئی سی جے میں جانا چاہیئے تھا یا نہیں۔

ہمارا کیس مضبوط ہے
سینیئر صحافی نصرت جاوید نے کہا کہ ہمارا نقصان یہ ہوا ہے کہ ہماری بات نہیں مانی گئی تاہم ایسے جاسوسوں سے معلومات نچوڑ کر ایک فریزر میں رکھ دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا معاملہ دشمن ملک میں ہو جائے تو ایسے افراد کا تبادلہ کر لیا جاتا ہے،ہمیں اس سے اس کے نیٹ ورک کے بارے میں جو معلوم کرنا تھا ہم کر چکے ہیں۔

نصرت جاوید کے مطابق ہمارا کیس مضبوط ہے اور تب یہ اور مضبوط ہوگا جب یہ بات سامنے آئے گی کہ یہ شخص مسلمان شناخت لے کر پاکستان میں تھا۔

کلبھوشن کے پاس اپیل کا وقت ہے
ڈان نیوز کے بیورو چیف اسلام آباد افتخار شیرازی کہتے ہیں کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے سے بھارت کو ایڈوانٹیج مل گیا ہے کیوں کہ وہ اپنے لوگوں سے کہے گا کہ ہم ہاکستان سے جیت گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے پاس 20 مئی تک آرمی چیف کے پاس اپیل کرنے کا حق ہے، اس فیصلے سے پاکستان میں جاری اس کیس پر اثر نہیں پڑے گا۔

آئی سی جے میں نہیں جانا چاہیے تھا

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا، پاکستان کو آئی سی جے میں نہیں جانا چاہیے تھا‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY