وزیر دفاع خواجہ آصف کا سزائے موت کے منتظر جاسوس کلبھوشن یادیو کی بھارت حوالگی کے امکانات کو رد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کلبھوشن کے لیے کسی قسم کے ریلیف کا کوئی امکان نہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’پاکستان کی قومی سلامتی سب سے مقدم ہے جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں اور کلبھوشن کیس میں کوئی بھی فیصلہ بیرونی دباؤ کے بجائے قومی سلامتی کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔‘

کلبھوشن یادیو کے کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے سے متعلق وزیر دفاع نے کہا کہ ’یہ صرف عبوری فیصلہ ہے اور اس سے کسی کی جیت یا ہار کے بارے میں نہیں کہا جاسکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کلبھوشن کے پاس اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنے کے لیے دو پلیٹ فارمز ہیں، وہ سپریم کورٹ کے پاس بھی جاسکتے ہیں اور پھر صدر کے پاس بھی، جبکہ انہیں تو ویسے بھی ابھی پھانسی نہیں دی جارہی تھی۔‘

خواجہ آصف نے کہا کہ ’کلبھوشن یادیو کی پھانسی میں تاخیر نہیں کی گئی بلکہ قانونی کارروائی کا ٹائم فریم طے ہے جس پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔‘

کلبھوشن یادیو کو کسی مرحلے پر بھارت کے حوالے کرنے کے امکان کو رد کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’کلبھوشن پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے لیے نہایت سرگرم رہے ہیں جس کے بعد اب ان کے لیے کسی قسم کے ریلیف کا کوئی امکان نہیں۔‘

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف ہندوستان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جاسکتی۔

بھارتی درخواست پر فیصلہ عالمی عدالت انصاف کے جج رونی اَبراہم نے سنایا، جسے 15 مئی کو محفوظ کیا گیا تھا۔

انہوں نے پاکستان کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کر دیا اور کہا کہ عالمی عدالت اس معاملے کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY