عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار تسلیم نہیں کرتے،پاکستان

0
84

ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار سے متعلق ڈکلیریشن جمع کرا چکا ہے، عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار تسلیم نہیں کرتے،عالمی عدالت نے ماضی میں 3 مرتبہ ایسا فیصلہ دیا۔

نفیس زکریا نے کہا کہ بھارت کلبھوشن یادیو کے سہولت کاروں تک رسائی فراہم کرے، بھارت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کریں گے ۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈکلیریشن کے تحت قومی سلامتی کے معاملات پر عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار تسلیم نہیں کرتے ، بھارت نے کلبھوشن کے سہولت کاروں تک رسائی کے معاملے پر کوئی مثبت جواب نہیں دیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 2008 کا قونصلر رسائی معاہدہ موجود ہے، معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت رسائی کا فیصلہ میرٹ آف دی کیس پر ہوتا ہے، پاکستان نے بھارت سے کلبھوشن یادیو کے ساتھیوں تک رسائی مانگی ہے۔

نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر اعلیٰ سطح پر مشاورت کے بعد رد عمل دیا جائے گا، عالمی عدالت کا دائرہ اختیار چیلنج کرنے کا فیصلہ تمام اداروں نے مشاورت کے بعد کیا تھا، قومی سلامتی پر کوئی بھی فریق نہیں بن سکتا
……………
مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ہمارے وکیل نے عالمی عدالت میں کیس اچھی طرح پیش کیا، پوری تیاری سے پیش کیا ۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے کیسز میں اپیل پر حکم امتناع مل جاتا ہے، عبوری فیصلے میں حکم امتناع کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کے مطالبات عالمی عدالت میں مان لیے گئے، حکومت ایک طرح سے سکتے میں چلی گئی ہے، ہم نے دائرہ اختیار چیلنج کیا تھا لیکن عالمی عدالت نے اسے مسترد کردیا۔

وزیرمملکت اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عالمی عدالت میں بہترین انداز میں کیس لڑا، عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سمیت سب کو قومی مفاد کے فیصلے پر متحد ہونا چاہیے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ قومی سلامتی سب سے مقدم ہے، کلبھوشن کیس میں کوئی بھی فیصلہ بیرونی دباؤ کے بجائے قومی سلامتی کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ صرف ایک عبوری فیصلہ ہے اور اس سے کسی کی جیت یا ہار کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو اپنی سزا کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں بھی کر سکتا ہے اور صدر کے پاس بھی، ویسے بھی ابھی اسے پھانسی نہیں دی جا رہی تھی۔

خواجہ آصف نے پاک بھارت اعتماد سازی کے لیے کسی مرحلے پر کلبھوشن یادیو کی بھارت کو حوالگی کے امکان کو رد کر دیا اور کہا کہ کلبھوشن کے لیے کسی ریلیف کا کوئی امکان نہیں

SHARE

LEAVE A REPLY