انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے اینٹی کرپشن اور سیفٹی یونٹ کے سربراہ سر رونی فلینیگن نے بتایا ہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے پاکستان سپر لیگ کا اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل منظر عام پرلانے میں مدد کرتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔

آئی سی سی کے اہم آفیشل آج پاکستان پہنچے ہیں جہاں وہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث شرجیل خان کے خلاف گواہی دینے کیلئے پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے۔

پی سی بی نے اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے ایک تین رکنی ٹریبونل تشکیل دیا تھا جو شرجیل خان کے ساتھ ساتھ خالد لطیف، شاہ زیب حسن اور ناصر جمشید کے خلاف معمالے کی چھان بین میں مصروف ہے اور ان دنوں شرجیل خان کے خلاف معاملے کی سماعت جاری ہے۔

اسپاٹ فکسنگ کیس میں محمد عرفان اور محمد نواز پر پابندی کے ساتھ ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا جا چکا ہے جہاں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے بکیز کی جانب سے رابطے کا بورڈ کو بروقت نہیں بتایا اور اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کی۔

2010 سے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اور سیفٹی یونٹ کے سربراہ کے عہدے پر فائز فلینیگن نے بتایا کہ اس معاملے کی مکمل طور پر تحقیقات پی سی بی کر رہا ہے اور ہمارا کردار محض یہ تھا کہ ہمیں پی ایس ایل کے آغاز سے قبل برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

شرجیل خان پر الزام ہے کہ انہوں ے بکیز کی جانب سے رابطوں کے بارے میں بورڈ کو مطلع نہیں کیا اور پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے افتتاحی میچ میں دو ڈاٹ گیندیں کھیلنے کے عوض بکیز سے پیسے وصول کیے۔

خالد لطیف کے خلاف سماعت کا آغاز اس کے بعد ہو گا جن پر الزام ہے کہ انہوں نے دوسروں کو اسپاٹ فکسنگ پر اکسایا۔

رونی فلینیگن نے کہا کہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اور سیفٹی یونٹ کے سربراہ کی حیثیت سے میں دنیا بھر میں ڈومیسٹک اینٹی کرپشن یونٹ کے ساتھ انتہائی باریک بینی سے کام کرتا رہا ہوں چاہے کیس کا نتیجہ کچھ بھی ہو۔ پی سی بی اور اس کے اینٹی کرپشن یونٹ نے کھیل کو شفاف رکھنے کیلئے بہت ثابت قدمی اور مکمل عزم کے ساتھ کام کیا۔

شرجیل خان کے وکیل نے بتایا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے کوچ ڈین جونز، ایک سابق آسٹریلین بلے باز، پاکستان کے سابق کپتان محمد یوسف اور سابق اوپنر صادق محمد آئندہ ہفتے ٹریبونل کے سامنے پیش ہو کر شرجیل کے حق میں گواہی دینے کے ساتھ ساتھ ثبوت بھی پیش کریں گے۔

میچ فکسنگ کے الزام میں پاکستان کے سابق کپتان سلیم ملک، جنوبی افریقہ کے سابق کپتان ہنسی کرونئے اور بھارت کے سابق کپتان محمد اظہر الدین پر اپنے اپنے ممالک کی جانب سے لگائی گئی تاحیات پابندی کے بعد 2001 میں آئی سی سی اینٹی کرپشن اور سیفٹی یونٹ کا قیام عمل میں آیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY