صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں گذشتہ ہفتے اپنے مالک کے گھر میں مردہ حالت میں پائی جانے والی گھریلو ملازمہ کے جنسی استحصال کا انکشاف ہوا ہے۔

ضلع وہاڑی سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ منزہ کو ماڈل ٹاؤن کے رہائشی اسد عباس نے ایک کمپنی کے ذریعے 2 ماہ قبل ہی ملازمت پر رکھا تھا۔

منزہ رواں ماہ 14 مئی کو پراسرار حالات میں اپنے کمرے میں بے ہوش پائی گئی تھیں، جنھیں گھر کے مالک اسد عباس اور ان کے بھائی عادل عباس نے جناح ہسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔

ہسپتال انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی کہ دو افراد ایک خاتون کو مردہ حالت میں ہسپتال لائے ہیں جس کے بعد سب انسپکٹر ارشد کی سربراہی میں پولیس ٹیم بھی ہسپتال پہنچ گئی جبکہ لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوادیا گیا۔

پولیس نے ملازمہ کے والد اللہ وسایا کی مدعیت میں منزہ کو ملازمت پر رکھنے والوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔

بعدازاں پولیس نے ملزمان کو حراست میں لیا، تاہم انھوں نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ملازمہ کو اپنے کمرے میں بے ہوشی کی حالت میں دیکھ کر صرف ہسپتال منتقل کیا تھا۔

اس سے قبل پولیس نے اپنی تفتیش میں کہا تھا کہ خاتون کے جسم پر تشدد کے کوئی نشانات موجود نہیں، ساتھ ہی اس بات کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ خاتون کو کسی نے زہر دیا یا انھوں نے خود زہر کھا کر خودکشی کی۔

پولیس کو کمرے سے کچھ پاؤڈر بھی ملا تھا، جسے ٹیسٹ کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھجوا دیا گیا تھا، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ خاتون کو گلا گھونٹ کر مارا گیا۔

تفتیشی افسر سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) مبشر میکن نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا اور بعدازاں ان کا گلا گھونٹ دیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس گھر کے ڈرائیور کو تلاش کر رہی ہے، جو اس کیس میں ملوث ہوسکتا ہے اور اسے جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY