امریکا میں مقیم ایک انیس سالہ افغان ہواباز نے ہوا بازی کے میدان میں مردوں کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کے لیے تنہا ہوائی جہاز میں دنیا کا چکر لگانے کا مشن شروع کیا ہے۔ اس منفرد سفر میں گذشتہ روز 19 سالہ شائستہ ویز کا طیارہ کینیڈا کے شہر مانٹریال کے ہوائی اڈے پراترا۔ شائستہ اپنے طیارے میں تنہا سفر کررہی ہیں۔ وہ ایک جانب بالعموم پوری دنیا بالخصوص افغان خواتین کو ہوابازی کے میدان میں جوہر دکھانے کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں اور دوسری جانب یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہیں کہ ہوابازی کے میدان میں خواتین بھی مردوں سے پیچھے نہیں ہیں۔
شائستہ ویز افغان پناہ گزین میں رہنے کے بعد امریکا منتقل ہوئی تھیں۔ اس کا خاندان سنہ 1987ء سے امریکا میں مقیم ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے شائستہ نے کہا کہ جب مجھے اندازہ ہوا کہ میں طیارہ اڑانے کی بے حد شوقین ہوں تو میں اس مقصد کے حصول کے لیے اپنے اہداف متعین کیے۔ زیادہ سے زیادہ مطالعہ اور ورزش کو اپنا معمول بنایا۔ میں دنیا اور آسمان کو دنیا سے مختلف نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
اس کا کہنا ہے کہ انسان کے لیے اہم یہ ہے کہ وہ جس میں دلچسپی رکھتا ہو اس کے پیچھے لگا رہے۔
شائستہ نے انجینیرنگ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ افغانستان کی کم عمر ترین دو شیزہ ہیں جو ہوا بازی کے میدان میں جوہر دکھا رہی ہے۔
بین الاقوامی سول ایو ایشن آرگنائزیشن کے تعاون سے شائستہ نے دنیا کے گرد انتہا چکر لگانے کا سفر شروع کیا ہے۔ اس کا اصل ہدف خواتین کی ہوابازی کے شعبے میں حوصلہ افزائی کرنا ہے کیونکہ دنیا بھر میں کمرشل جہازوں کی صرف تین سے پانچ فی صد ہوا باز خواتین ہیں، باقی مردوں کی اجارہ داری ہے۔
شائستہ ویز نے دنیا کےگرد چکر لگانے کا سفر ہفتے کے روز امریکا کی جنوب مشرقی ریاست فلوریڈا کے ڈائٹون بیچ شہر سے کیا۔ سوموار کو وہ مونٹریال پہنچیں۔ وہ پانچ براعظموں کے 18 ملکوں میں 30 مقامات پر پڑاؤ کریں گی۔ اس کے سفر میں مصر، قطر، بھارت، انڈونیشیا شامل ہیں۔ اس کا یہ سفر اگست میں اختتام پذیر ہوگا۔ وہ 320 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے طیارہ اڑا رہی ہیں۔ شائستہ ویز کا طیارہ جہاں بھی لینڈ کرتا ہے وہاں بین الاقوامی شہری دفاع کی تنظیم کی طرف سے اس کا بھرپور استقبال کیا جاتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY