حضرت صدیق ِ اکبر (11)۔۔۔ شمس جیلانی

0
36

ہم گزشتہ مر تبہ واقعہ افک تک پہو نچے تھے۔جو اس پر ختم ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ (رض) کی صفائی میں قر آن کی چند آیا ت نازل فر ما ئیں اور اس طر ح یہ معا ملہ ختم ہو ا۔ اس سلسلہ میں ان لو گوں پر حضور (ص) نے حد جا ری فرما ئی جو افواہیں اڑانے کے ذمہ دار تھے ۔اورمجرمین کو اسی کوڑوںکی سزا بر سر ِعام دی گئی اس میں حضرت ابو بکر (رض) کا ایک بھا نجہ مسطح بھی شامل تھے۔ جو کہ مالی طو ر پر کمزور تھےاور ان کی وہ مدد فر ما یا کرتے تھے ۔لہذا انہو ں نے قسم کھا ئی کہ میں اس کو اب کچھ نہیں دو نگا ۔ مگر اللہ تعا لیٰ نے چند آیا ت نازل فرماکر ان کو اس فعل سے منع فر ما دیا ۔جبکہ ان کا جرم وحی کے ثابت ہوچکا تھا۔یہا ں یہ نکتہ واضح ہو تا ہے کہ اللہ صرف نبیو ں (ع) ہی کی نہیں بلکہ تمام اصفیا ء (رح)کی بھی رہنما ئی کر تا ہے ۔ جس طرح اس نے اپنے صدیق کی راہنمائی فر مائی کیونکہ وہ اپنے بندو ں کو انتہا ئی اخلاقی بلندیوں پر دیکھنا چا ہتا ہے “ اسے وہ عزیز ہیں جو غصے کو پی جا نے والے ہیں “ بات با ت پرمغلو ب الغضب ہو نے والے نہیں۔ اس لیئے اسے اپنے صدیق کا یہ کہنا بھی گوارہ نہ ہوا کہ میں آئندہ اس کی مدد نہیں کرونگا ۔اس میں ہما رے لیئے ایک سبق ہے ۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ انسان اپنی حد تک تو کچھ بھی بر داشت کر لیتا ہے۔ مگر اپنی اولاد اور خصو صا ً لڑ کی پر تہمت ،اور وہ بھی جھو ٹی ۔ مگروہ احکامات ربانی پر نہ صرف رجو ع کر لیتے ہیں،بلکہ یہ بھی فر ماتے ہیں میں اب اسکو دوگنا کردونگا۔ اس سے حضرت ابو بکر (رض) کا تقویٰ ظا ہر ہو تا ہے۔ اور اسلام کی اعلیٰ کومعیار بھی، کہ وہ پو ری طر ح را ضی بہ رضا تھے ۔یہ وہ خو بی تھی جس کی وجہ سے اللہ تعا لیٰ نے ایسے تمام لو گوں کے لیئے فر ما یا کہ “میں ان سے را ضی ہو ں اور وہ مجھ سے را ضی ہیں “اس کے بعد پھر حضرت ابو بکر (رض) کا کردار غزوہ خندق میں نظر آتا ہے۔ قریش نے ایک مر تبہ پھر قسمت آزما ئی کی اورتمام عرب قبا ئل کو اکٹھا کر کے لے آئے ۔ اس میں تمام یہو دی قبا ئل بھی شامل تھے ۔ حضور (ص) کی سنت مبا رکہ تھی کہ وہ ایسے مو قعوں پر مجلس مشا ورت طلب فر ما یا کر تے تھے ۔ اس مر تبہ بھی جب پتہ چلا کہ قریش اتنا بڑا لشکر لے کر آرہے ہیں ۔ جس کی تعداد دس ہزار ہے تو سب کو تشویش ہو نا ایک فطری امر تھا ۔ سب نے اپنی را ئے دی، مگر حضور (ص) نے حضرت سلیمان فا رسی (رض) جو کہ ایران سے متعلق تھے ۔ان کی اس رائے کو پسند فرمایا کہ ایک خندق کھو د لی جا ئے۔ جس کو وہ آسا نی سے عبو ر اس لیئے نہیں کر سکیں گے کہ ہم خندق کے اس پا ر رہ کر مدا فعت کر یں گے ۔ یہاں بہت سے لو گ یہ کہتے ہیں ۔ کہ حضور (رض) کو مشوروں کی کیا ضرورت تھی، وہ تو اللہ تعا لیٰ سے براہ راست رہبری پا تے تھے ۔ اس کے کئی جواب ہیں ایک تو یہ کہ اللہ خو د داناو بینا ہے ہر چیز اس کے علم میں ہے جوچاہے فیصلہ کرے ۔ پھر اسے یوم ِ قیامت گوا ہوںکی کیا ضرورت ہے ؟ دوسرا جو اب یہ ہے کہ ہمیں آداب سکھانا تھا کہ را ئے عامہ کا احترام کس طر ح کیا جا تاہے ۔اور تیسرا جو اب ہے ۔ایک حدیث کے ہر کام کے لیئے تم میرے پا س کیو ں آتے ہو، جو جس کام کاما ہر ہے اس کے پا س جا یا کرو۔ اورچو تھا جواب یہ ہے کہ کیا پتہ کہ صلح حدیبہ کی طر ح یہ رائے بھی اللہ تعا لیٰ کی پسند ہو۔ در اصل اس کی افا دیت یو ں تھی کہ مد ینہ منورہ کا محلِ وقوع ایسا تھا کہ وہ تین طر ف سے محفو ظ تھاصرف ایک طر ف کھلا میدان تھا ۔ لہذا اسی طر ف یہ خندق بنا نے کا فیصلہ ہوا ۔اس کی بنیا د کی نشاند ہی حضور (ص) نے خود فر ما ئی اور دس آدمیو ں کی ایک ٹو لی ہر دس گز کے لیئے بنا دی گئی ۔جس میں سے ایک کے امیر حضر ت ابو بکر (رض) تھے ۔ انہو ں نے بہ سرعت خندق تیا ر کر لی اور یہ ہی نہیں بلکہ بعد میں اس کا دفا ع بھی بہت احسن طر یقہ سے فر ما یا ۔ جس جگہ حضور(ص) اور خلفائے راشدین(رض) کا قیام تھا وہاں ترکو ں نے ایک ایک مسجد بنا دی تھی جو کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک محفو ظ تھیں اور وہ مسا جد ِ خمصہ میں کہلاتی تھیں۔ اب نہیں معلوم کہ عظیم تر مدینہ اسکیم میں اس کا کیا بنا؟ جہاں حضرت ابوبکر (رض) قیام فرم تھے اس کا نام مسجد ِ صدیق تھا ۔

اس جنگ میں مسلمانوں کو پہلی دفعہ اندورونی سا زش کا بھی مقابلہ کر نا پڑا ۔ یہو دیوں کا ایک قبیلہ بنو قریظہ جو کہ ابھی تک مدینہ میں رہا ئش پذیر تھا اور بنی اوس کا حلیف تھا ۔اس نے بھی اپنے دو سرے قبا ئل کی تحریص میں آکر ان کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ انہو ں نے اندرونی خبریں ان تک پہنچا نے کے علا وہ یہ سا زش بھی کی کہ ایک گڑھی جس میں کے احتیاطً تمام خواتین جمع کر دی گئیں تھیں ۔ ان کو ڈرانے کے لیئے ایک آدمی بھیجا منشا یہ تھا کہ جب خواتین ڈر کر شو ر پکا ر کر یں گی، تو مجا ہدین ان کی خیرخبر لینے کے لیئے پلٹ آئیں گے ۔اور اس طر ح لشکر ِ کفا ر با سانی خندق عبور کر لے گا۔ مگر مسلمان خواتین نے بہت بہادری کا ثبوت دیا ۔ نہ انہوں نے شور کیا۔نہ مجاہداپنی جگہ سے ایک انچ ہٹے جن میں حضرت ابو بکر (رض) بھی شامل تھے ۔ کیونکہ اس کو جب وہ دیوار پر چڑھ رہا تھا ایک مجاہدہ نے سر میں ڈنڈا ما رکر قتل کر دیا۔ پھر جب اس کی پہچا ن کی گئی تو وہ بنو قریظہ کا آدمی نکلا ۔ لہذا حضو ر (ص) نے حضرت سعد (رض) بن عا ص کو ان کے پا س بھیجا تاکہ انہیں وہ معا ہدہ یا د دلا ئیں جو ان کے اور بنی اوس کے در میان ہے ۔ اس پیغام کے جواب میں انہو ں نے انتہا ئی رعونت سے کہا کہ ہم کسی رسول (ص) خدا کو نہیں جانتے، اور ہما رے اور تمہا رے در میان اب کو ئی معا ہدہ نہیں ہے ۔ دوسری طرف اللہ تعا لیٰ نے مسلمانوں کا ایک ماہ تک امتحان لینے کے بعد ہو اؤں کو اس طرف پھیر دیا شدید طو فان آیا اور کفا ر کی یہ حالت ہوگئی کہ ان کے کیمپ میں آگ تک بھج گئی ۔اور وہ سردی سے کا نپنے لگے ۔ مسلمانوں کے پاس توراشن شروع سے ہی نہیں تھا اوراس دوران متعدد معجزے بھی ہو ئے، جس میں تھو ڑی سی کھجو روں اور تھو ڑے سے مشروب سے حضور (ص) نے پو رے لشکر کو کھلا یا اور پلا یا ۔ جبکہ دوسری طرف کفا ر کا بھروسہ سامان پر تھا، اس دوران ان کا راشن بھی ختم ہو گیا اور ان کے پاس کو ئی چارہ ہی نہ رہا کے وہ محا صرہ اٹھا ئیں اور چلدیں ۔اس جنگ سے فارغ ہو تے ہی حضور (ص) نے بنو قر یظہ کی سر کو بی کا فیصلہ فر مایا، حضرت ابو بکر (رض) اس لشکر کے ایک حصہ کی قیا دت فر ما رہے تھے۔یہو دی قلعہ بند ہو گئے ۔اور لشکرِ اسلام نے ان کا محا صرہ کر لیا ۔ وہ پندرہ دن تک امیدپر قلعہ بند رہے کہ مدد آ جائے گی۔ حالانکہ ان کے ایک لیڈر کعب بن اسعد نے انہیں مشورہ بھی دیا کہ تم نے جو حرکت کی ہے یا تو مسلمان ہو جا ؤ ورنہ نتا ئج بھگتنے کہ لیئے تیار ہوجاؤ ۔ مگر وہ اس خیال میں تھے کہ حسب وعدہ بنو نضیر اور دوسرے اسلام دشمن قبائل ان کی مدد کر ینگے جو کہ خیبر اور اطراف میں آباد تھے ۔جب مدد نہ آئی تو انہو ں نے ہتھیا ر ڈالنے کا فیصلہ کیا ۔ انہو ں نے بنی اوس کے ہی حضرت سعد (رض) بن معادذکو اپنے مقدمہ کے فیصلے کے لیئے حکم مقرر کیا ۔جن کو حضور (ص) نے بھی تسلیم کر لیا۔ انہو ں نے دو نو ں پا رٹیو ں سے عہد لیا کہ وہ جو فیصلہ کر یں گے انہیں منظور ہو گا ۔ پھرانہو ں نے ان سے پو چھا کہ تمہا ری شر یعت میں غداری کی سزا کیا ہے ؟انہو ں نے بتا یا کہ ہمارے یہاں غدار کی سزا قتل ہے ۔پھر انہو ں نے پو چھا کہ کیا تمہا رے اور بنو اوس کے در میان کو ئی معا ہدہ تھا ؟ انہو ں نے تسلیم کیا ۔لہذا انہو ں نے انہیں کی شریعت کے مطابق فیصلہ دیا کہ سب کو قتل کر دیا جا ئے ۔

اس کے بعد پھر جو اہم واقعہ ملتا ہے ۔جس میں حضرت ابو بکر (رض) شریک تھے ۔ وہ ہے صلح حدیبیہ ۔ حضور (ص) نے خواب دیکھا کہ وہ (ص) اور ان کے ساتھی احرام میں ہیں اور قر بانی اور عمرہ کر رہے ہیں۔لہذا انہو ں ستر اونٹ ساتھ لیئے اور مکہ کی طر ف مع صحابہ کرام کے روانہ ہوگئے ۔کچھ لو گوں نے ان کی تعدا سات سو بتا ئی ہے اور کچھ نے چو دہ سو بتا ئی ہے واللہ عالم ۔ چو نکہ ہمیشہ سے یہ دستور چلا آرہا تھا کہ زائرین حرم کو کو ئی کچھ نہیں کہتا تھا ۔ حتیٰ کہ اپنے دشمن سے بھی اگر وہ حدو د ِ حرم میں دا خل ہو جا ئے تو بھی تعرض نہیں کر تا تھا ۔ مگر کفا ر ان تمام قوائد کوبا لائے طاق رکھتے ہوئے مکہ سے آگے بڑھ کر مدا فعت پر آمادہ ہوئے ۔ تو حضور (ص) نے پو چھا کہ کو ئی ایسا را ستہ ہے جس سے ہم ان سے بچ کر حدود ِ حرم میں دا خل ہو جا ئیں۔ ایک گا ئیڈ نے کہا کہ جی ہا ں ! میں وہ راستہ جانتا ہو ں مگر ذرا مشکل اور طویل ہے ۔ حضور(ص) گو کہ ہمیشہ آسان راستے کی تلقین فر ما تے اور پسند فر ما تے تھے ۔مگر یہاں یہ سکھا نا مقصود تھا کہ بوقت ِ ضرورت شر سے بچنے کے لیئے مشکل را ستہ بھی اختیا ر کیا جا سکتا ہے۔اوروہ (ص) اس راستہ سے گذر کر حدیبیہ کے مقام پر جا اترے جوکہ حدود ِ حرم میں تھا۔ جب قریش کو خبر ہو ئی تو ان کی طر ف سے عروہ بن مسعود آیا ، تاکہ حضور (ص) کے ارادے معلوم کرے ۔حضو ر (ص) نے فر مایا تم خو د دیکھ لوہم صرف عمرے کے لیئے آئے ہیں اور قر با نی کے اونٹ ہما رے سا تھ ہیں جن کے گلے میں قلا ئد بڑے ہو ئے ہیں ۔اس نے عرب کے دستور کے مطابق حضور (ص) کی ریش ِ مبارک پکڑ کر بے ادبی سے مخا طب کرنا چاہا۔ جس پر حضرت ابوبکر (رض)نے تلوار سونت لی جو اس وقت پہرے پر تھے اور فر ما یا کہ تو ریش ِ مبا رک سے اپنے ہا تھ ہٹا لے ورنہ میں سر اڑا دونگا ۔تو اس نے حیرت سے حضور (ص) سے پو چھا یہ کون ہیں؟ حضور (ص) نے فر مایا کیا تم نہیں جانتے یہ ابو بکر (رض) ہیں۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY