مصر اور بحرین نے بھی الجزیرہ نیٹ ورکس کی ویب سائٹس بلاک کر دیں

0
71

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بعد مصر اور بحرین نے بھی قطر میں قائم الجزیرہ نیٹ ورک کے زیر اتنظام چلنے والی متعدد ویب سائٹس تک رسائی کو بند کر دیا ہے جس سے قطر کے ساتھ دیگر عرب ریاستوں کے تعلقات میں تناؤ کی عکاسی ہوتی ہے۔

قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو مبینہ طور پر ہیک کر لیا گیا تھا اور اس پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے منسوب یہ بیان جاری کیا گیا کہ ایران ایک “اسلامی قوت” ہے اور قطر کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات “اچھے” ہیں۔

دیگر عرب ریاستیں پہلے ہی تیل کی دولت سے مالامال اس ملک پر دہشت گردوں کی مبینہ معاونت کا شبہ ظاہر کرتی ہیں اور ایران پر بھی دہشت گردوں کی حمایت کا الزام عائد کرتی ہیں۔

گو کہ قطر نے فوری طور پر اس خبر کی تردید تھی لیکن سعودی عرب کے متعدد سیٹیلائٹ چینلز نے بدھ کو دن بھر نیوایجنسی کی اس خبر کو دہرایا۔

سرکاری خبر ایجنسی کی ویب سائیٹ پر منگل شیخ تمیم کی ایک تقریب میں شرکت کی فوٹیج چلائی جاتی رہی جس میں ان کی آواز تو نہیں تھی لیکن فوٹیج کے نیچے چلنے والی تحریر میں ان سے منسوب یہ بیان تھا کہ حماس “فلسطینی عوام کی حقیقی نمائندہ ہے” اور امریکہ اورایران کے ساتھ قطر کے تعلقات “بہت مضبوط” ہیں۔

مبینہ طور پر ہیکرز نے نیوزایجنسی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی ہیک کیا اور اس پر قطر کے وزیر خارجہ کی طرف یہ بیان جاری کردیا کہ عرب اقوام مبینہ طور پر قطر کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔

قطری حکومت کے وزیرمواصلات شیخ سیف بن احمد الثانی نے ایک بیان میں کہا کہ ہیکنگ کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور اس کے ذمہ داروں کا کڑا احتساب کیا جائے گا۔

تاحال کسی گروپ نے اس مبینہ ہیکنگ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اس سے قبل بھی قطر ہیکروں کا نشانہ بن چکا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں ہیکرز نے قطر نیشنل بینک کے ہزاروں صارفین بشمول سرکاری ملازمین کی معلومات سمیت شاہی خاندان کی حساس معلومات افشا کی تھیں۔

2012ء میں ایک کمپیوٹر وائرس سے قطری کی قدرتی گیس کی پیداوار کے ادارے ‘راس گیس’ کے کمپیوٹر سسٹم کو نقصان پہنچا تھا۔ ایسا ہی حملہ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی پر بھی کیا جا چکا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY