حضرت صدیقِ اکبر (12)۔۔۔شمس جیلانی

0
79

ہم گزشتہ ہفتے حضرت ابو بکرصدیق (رض) کاذکر کر تے ہو ئے ۔ حد یبیہ کے قیام تک پہو نچے تھے۔اب آگے بڑھتے ہیں۔عروہ نے جو یہاں در بار محمدی (ص) کے نرالے اندازدیکھے۔ تواس نے واپس جا کر قریش کو صلا ح دی کہ میں نے تمام جہا ں کے با دشاہوں کے در با دیکھے ہیں ۔مگر اس جیسا نہیں دیکھا ،جیسا محمد (ص) کا ہے نہ ایسی محبت اور نہ ایسا احترام دیکھا ۔ کہ ا ن کے ساتھی وضو کا پانی تک بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے وہ اسے بھی منہ پر مل لیتے ہیں۔ انکا (ص) موئے مبارک تک زمین پرگرنے سے پہلے اٹھا لیتے ہیں ۔وہ جان دیدین گے مگر محمد (ص)کی نافر مانی نہیں کر یں گے۔ آگے تمہا ری مرضی تم جو چاہو کرو ( بہتر ہے کہ ان سے صلح کر لو )۔لیکن انہوں نے اس کی بات کو نہیں مانا۔اور مزید تحقیق اور بات چیت کے لیئے، اپنے ایک حلیف کوجو مکہ کے حبشی قبیلہ کا سردار تھا بھیجا۔ اس کو آتا دیکھ کر حضو ر (ص) نے فر مایا کہ یہ صحیح آدمی ہے۔جبکہ عروہ کودیکھ کرحضور (ص) پہلے ہی فر ماچکے تھے کہ یہ غلط آدمی ہے ۔وہ بھی حضو ر (ص) سے ملا حضو ر (ص) نے اس کو کہا کہ جا ؤ، اور ہما رے قر بانی کے
جا نور جاکر خو د دیکھ لو۔ جو اس با ت کا ثبو ت ہے کہ ہم صرف عمرہ کے لیئے آئے ہیں لڑنے کے لیئے نہیں ۔اس نے دیکھا اور وہ مطمعن ہو کر چلا گیا۔ا س نے جا کر قریش سے کہا کہ تم انہیں نہ روکو، وہ لڑنے کے لیئے نہیں بلکہ عمرہ کر نے کے لیئے آئے ہیں ۔ اور یہ ہمارے دستو رکے خلاف ہے کہ کوئی عمرہ کر نے آئے اور اسے روکا جا ئے۔ اس کو ابو جہل نے یہ کہہ روکدیا کہ تو جاہل آدمی ہے تو کیا جانے امو رِ سلطنت ۔وہ اس پر ناراض ہو گیا، اور کہنے لگا کہ میں تم سے اپنے معا ہدہ کو چاک کر تا ہو ں۔ لو گو ں نے بیچ میں پڑکراسے ٹھنڈا کیا ۔حضو ر (ص) نے یہ سوچا کہ کسی کو اپنی طر ف سے بھی بھیجا جا ئے تاکہ مسئلہ حل ہو ۔ ان کی نگا ہ ِ انتخاب حضرت عمر (رض) پر پڑی مگر انہوں نے فر ما یا کہ میرے قبیلے والوں میں سے اب وہا ں کو ئی نہیں ہے۔ جو مجھے قریش کے ہا تھ سے چھڑا سکے۔ لہذا میں آپ کوایسا آدمی نہ بتا ؤں جو مجھ سے زیادہ مو زوں ہو ۔حضور (ص) نے اجا زت دیدی ۔تو انہوں نے فر ما یا کہ وہ شخص حضرت عثمان (رض) ہیں۔ اس لیئے کہ انکا نہ صرف قبیلہ وہا ں مو جود ہے۔ بلکہ ان کے اہل ِ خاندان بر سر ِ اقتدار بھی ہیں ۔لہذا یہ خدمت حضرت عثمان (رض) کے سپرد ہو ئی ۔انہوں نے حضرت عثمان (رض) کو اپنے حق میں ہموار کر نے کے لیئے روک لیا۔ اور یہ پیشکش بھی کی کہ وہ عمرہ کر سکتے ہیں۔ مگر ان کی غیرت نے گوارہ نہ کیا کہ وہ حضو ر (ص) کو چھو ڑ کر عمرہ کریں۔ لہذا انہو ں نے اپنا عذر پیش کر دیا ۔ ادھر اسلامی کیمپ میں یہ افواہ اڑ گئی کہ وہ قتل کر دیئے گئے ہیں۔ اوران کے قصا ص کے لیئے ۔ حضو ر (ص) نے بیعت ِ عامہ طلب فر مائی ،جو تاریخ میں بیعت ِ رضواں کے نام سے مشہو ر ہے۔ اور اللہ تعا لیٰ نے اس ہاتھ کو جس پر لو گوں نبی (ص) کے بیعت کی تھی اپنا ہاتھ فر ما یا ۔جب یہ خبر قریش کو پہو نچی، تو انہو ں نے حضرت عثمان (رض) کو واپس بھیجدیا اور بات چیت کا سلسلہ شروع کیا ۔ آخر میں جو معا ہدہ طے پا یا وہ یہ تھا۔ کہ “ یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد (ص) بن عبد اللہ نے سہیل بن عمرو سے صلح کی،دو نوں نے اتفاق کر لیا،کہ دس سال تک جنگ بند رہے گی ۔ ان دس سالوں میں لو گ امن کی زندگی بسر کریں گے۔ اور وہ ایک دوسرے پرہاتھ نہیں اٹھا ئیں گے۔( مزید شرائط) )شرط یہ ہے کہ قریش کاجو آدمی اپنے ولی کی اجا زت کے بغیر محمد (ص) کے پا س جا ئیگا اس کو واپس کر نا ہو گا ۔اور محمد (ص) کے ساتھیوں میں سے جو آدمی قریش کے پاس چلا آئے گا وہ واپس نہیں کر یں گے۔ اوردو نوں کی عدا وتیں دلو ں میں رہیں گی انہیں ظاہر نہ کیا جا ئے گا۔نہ بد عہدی اور نہ خیانت کی جا ئے گی اور یہ کہ جو پسند کرے محمد (ص) کے ساتھ معا ہدہ کر لے وہ ان کے ساتھ عہد میں داخل ہو جا ئے اور جو پسند کر ے قریش سے معا ہدہ کر لے “اس معا ہدہ پر سب سے پہلا تنا زع لکھتے ہو ئے یہ ہو ا کہ حضور (ص) نے حضرت علی (رض) کو کہا لکھو ، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ ۔ مگر سہیل نے کہا کہ نہیں “یا ا سمک الھم “ لکھو جو ہمیشہ سے ہم لکھتے آئے ہیں۔حضو ر (ص) نے فر مایاکہ جو یہ کہہ رہے ہیں وہ ہی لکھو۔ پھر حضو ر (ص) نے فر ما یا لکھو یہ وہ معا ہدہ ہے جس پر محمد (ص) اللہ کے رسول نے سہیل بن عمرو سے صلح کی۔ اس پر اس نے کہا کہ اگر میں یہ تسلیم کر تا کہ آپ (ص) اللہ کے رسو ل ہیں تو پھر ( عدم )جنگ کے معا ہدہ کی کیا ضرورت تھی؟۔ دریں اثنا حضرت علی محمد (ص) رسول اللہ لکھ چکے تھے۔ ا ن کوحضو ر (ص) نے حکم دیا کہ اس کو مٹا دو، اور جو یہ کہیں لکھدو ۔ اس پر حضرت علی (رض) نے ہچکچا ہٹ کا اظہا ر فر ما یا کیو نکہ ایسا کرنا ان کے عقیدہ کے خلا ف تھا۔ محمد (ص) لکھا جا ئے اور رسول نہ لکھا جا ئے۔ تب ان سے حضو ر (ص) نے قلم لے کر خو د مٹا دیا۔دو نو ں نے معا ہدہ پر دستخط کر دیئے۔ ابھی معاہدے پر دستخط ہو ئے ہی تھے کہ اس معا ہدہ کو ایک عظیم امتحان سے دو چار ہو نا پڑا۔ ابو جندل جو سہیل کے صاحبزادے تھے وہ پا بہ زنجیر مکہ سے کسی طر ح نکل کر یہاں پہنچ گئے۔ اور حسب معاہدہ سہیل نے مطالبہ کیااورحضور (ص) کو واپس کر نا پڑا ۔اس پر تمام صحا بہ کرام میں اضطراب پید اہو گیا۔اس معا ہدہ میں غیرتحریر شدہ ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ اس سال تم لو گ واپس بغیر عمرہ کیئے جا ؤ گے ،اور آئندہ سال دو بارہ آؤ گےاور عمرہ کروگے۔ تمہیں تین دن ملیں گے جس میں ہم مکہ کوخالی کر دیں گے۔ اور تم مکہ میں دا خل ہو
سکو گے۔تمہا رے ساتھ( رواجی) ہتھیا ر ہو نگے، مگر تلواریں نیا موں میں ہو نگی۔ یہ تمام کا تمام معا ہدہ مسلما نوں کو بہت ہی تو ہین آمیزلگا ،عام مسلمان تو خامو ش رہے مگر حضرت عمر (رض) ،حضرت ابو بکر (رض) کے پا س پہو نچے اور کہا کہ کیا ہم حق پر نہیں۔ آپ حضو ر (ص) سے با ت کر یں اور ان سے درخواست کریں کہ وہ اس معا ہدے کو توڑ دیں ۔ ایک طویل مکالمہ ان دو نوں کے در میان ہوا۔مگرحضرت ابو بکر (رض) نے یہ کہہ کر معاملہ ختم فرما دیا ۔ “ عمر رسول (ص)اللہ ہی کا دامن تھا مو!میں گواہی دیتا ہو ں کہ وہ (ص)اللہ کے رسول ہیں اور وہ اللہ اور دین کے معاملہ میں ہم سے زیادہ جانتے ہیں ۔ حضرت عمر (رض) نے فر مایا کہ میں بھی گواہی دیتا ہو ں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ۔لیکن ان کا دل پھر بھی نہیں مانا اور وہ با ر گاہ ِ رسالت (ص) میں حاضر ہو گئے۔ اور وہی کلمات حضو ر (ص) کے سامنے دہرا ئے۔یا رسول (ص) اللہ کیا آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔حضور (ص) فر مایا ؛کیوں نہیں ہیں۔پھر عمر (رض) نے فر مایا کہ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں۔حضور (ص) فرمایا کیو ں نہیں ہیں۔پھر عمر نے کہا کیا وہ مشرک نہیں ہیں۔ حضو ر (ص) نے فر مایا کیوں نہیں ہیں۔یہ سن کر عمر (رض) نے فر مایا کہ پھر ہمیں دین کے معا ملہ میں یہ ذلت کیو ں دی جا رہی۔ حضو ر (ص) نے فر مایا کہ میں (ص) اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہو ں، میں اس کے حکم کی خلا ف وارزی نہیں کر سکتا وہ مجھے کبھی ضا ئع نہیں کرے گا ۔
اس کے بعد اس کی تصدیق کے لیئے۔سورہ فتح کا نزول ہوا اور اللہ نے اپنے نبی (ص) کے فیصلہ پر مہر ِ تصدیق ثبت فر مادی ۔ اس معاہدے کو فتح مبین سے تشبیہ دی(ملا حظہ کیجئےآیت نمبر48 سے71 تک)۔اس معا ہدہ کا پہلا فا ئدہ یہ ہوا کہ اسلام کو ایک طا قت تسلیم کر لیا گیا ۔اور سب سے پہلا معا ہدہ اس کے تحت فورا ً بعدحدیبیہ کے قیام کے دوران ہی ہوا وہ بنو خزاعہ کے ساتھ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم محمد (ص) کے ساتھ معا ہدہ میں شا مل ہو تے ہیں۔ اس کے بر عکس ان کے حریف بنو بکر نے کفا ر سے معا ہدہ برقرار رکھا جو کہ پہلے ہی ان کے حلیف تھے۔ آپ آگے چل کر پڑھیں گے کہ آ خرکار یہ ہی معا ہدہ بعد میں فتح مکہ کابا عث ہوا ۔یہاں اس پو رے واقعہ میں ایک مر تبہ پھر حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے اپنی صدیقیت کا ثبوت دیا۔ جبکہ بڑو ں بڑو ں کے پائے استقامت میں لغزش آچکی تھی ۔اس کے بعد حضو ر (ص) حدود حرم سی باہر ہی، حرم شریف کے اندر گئے بغیراور عمرہ کیئے بغیر قر بانی فر مائاکر اورحلق ( سر منڈایا)کراکر مدینہ منورہ روانہ ہوگئے۔ یہیں وہ واقعہ پیش آیا ۔جس میں حلق کر نے والوں کے لیئے حضو ر (ص) نے تین مر تبہ د عا فر مائی، جبکہ تینو ں مرتبہ لو گ کہتے رہے کہ حضو ر(ص) تھو ڑے با ل کٹوانے والوں کے لیئے بھی دعا فر ما ئیے ۔ مگر حضو ر (ص)نے تینو ں مر تبہ پہلے گر وہ کے لیئے دعاکی اور چو تھی مرتبہ کہنے پر بقیہ کے لیئے دعا فر ما ئی۔اسکے بعد حضو ر (ص) بھی احرام سے با ہر آگئے اور با قی ساتھیوں کو بھی حکم دیا کہ احرام کھو لد یں ۔اور مدینہ واپس چلیں ۔ باقی آئندہ

SHARE

LEAVE A REPLY