اسلام آباد کے جوڈیشل اکیڈمی میں جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کے صاحب زادے حسین نواز سے ساڑھے 6گھنٹے طویل پو چھ گچھ کی۔

ذرائع کے مطابق حسین نواز 9بج کر57منٹ پرفیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کےاندرگئےتھےجو ساڑھے 4بجے باہر آئے،حسین نواز سے کم و بیش ساڑھے6گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔

باہر آکر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے ساتھ طویل سیشن کرکے آیا ہوں،مجھے دو گھنٹے انتظار بھی کرایا گیا ،مجھے دوبارہ بھی بلایا گیا ہے ، جس کا سمن مجھے مل جائے گا۔

1999ء کے حوالے سے حسین نواز نے کہا کہ اس وقت قید تنہائی میں طویل پوچھ گچھ ہوتی تھی، وکیل سے ملنے نہیں دیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم کے بڑے صاحبزادے نے مزید کہا کہ اگر معاملات قانون کے مطابق چلتے رہے تو ٹھیک ورنہ سپریم کورٹ جائیں گے۔

حسین نواز کا یہ بھی کہنا تھا کہ حسین شہید سہروردی سے آج تک یہ سب کچھ ہمارے ساتھ ہی ہوتا آیا ہے، جس جس کو یہاں بلایا جائے گا وہ پیش ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ،میرے یا میرے بھائی بہن کے خلاف کسی بے ضابطگی کا ثبوت نہیں،میرے خاندان کے خلاف کوئی ثبوت ہے ہی نہیں تو سامنے کیسے آئے گا۔

حسین نوازکا کہنا ہے کہ ہمیں وکیل کو ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی ،ہم سےجوسوالات پوچھےگئے انکاجواب دیا،مطمئن ہوئے یا نہیں یہ ان سے پوچھیں ۔

حسین نواز نے میڈیا سے گفتگو کے دوران یہ نہیں بتایا کہ ان سے جے آئی ٹی نے کیا پوچھا۔

حسین نواز کی میڈیا سے گفتگو کے بعد مسلم لیگی کارکنوں نے نعرے لگائے۔

واضح رہے کہ حسین نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے 5روز میں تیسری پیشی ہوئی ہے،جے آئی ٹی اس سے قبل حسین نواز کو 28اور 30مئی کو طلب کرچکی ہے،جس میں ان سے 4گھنٹے پوچھ گچھ بھی کی گئی تھی۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ خاردار تاریں اور رکاوٹیں لگا کر راستہ بند کردیا گیا تھا

SHARE

LEAVE A REPLY