اللہ سبحانہ تعالیٰ مسلمانوں کوکیسا دیکھنا چاہتا ہے۔شمس جیلانی

0
66

اس مرتبہ سوشیل میڈیا نے ایک کار نامہ نجام دیکر یہ ثابت کردیا کہ کوئی چیز جو اچھائی میں استعمال میں کی جا ئے وہ اچھی، اور جو برائی میں ستعمال کی جا ئے وہ بری ہے۔ کیونکہ ہر اچھائی یا برائی کا دار مدار نیت پر ہے۔ ہم نے متقی دولتمندوں کو ثواب اور دنیادونوں کمانے کا طریقہ بتایا تھا کہ اگر وہ اس نیت سے رمضان سے پہلے اشیائے ضرورت ذخیرہ کر لیں کہ ذخیرہ اندوز ڈریں کہ اگر انہوں نے اپنے ذخیرے کا منہ تین دن کے لیے کھول دیا تو ان منصوبے خاک میں مل جائیں۔ لیکن ہماری تجویز اللہ سبحانہ تعالیٰ نے نوجوانوں کے ذہنوں تک پہونچا دی اور انہوں نے وہ کرشمہ کر دکھایا کہ عوام سے اپیل کر ڈالی کے تین دن کے لیے پھل افطاری میں نہ کھانے کا فیصلہ کرلیں تو پھل خراب ہونے والی چیز ہیں سڑنے لگیں گے اور ان کی قیمتیں خود بخود نیچے آجا ئیں گے؟ اس میں عوام نے ان کا ساتھ دیا اور انہوں نے پھل تین دن نہ کھانے کا اعلان کردیا؟ یہ ہی ہمارا مقصد تھا؟ اس سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ ہمارے نوجوان پوری طرح بیدار ہیں اور اس کامیابی سے انشا ءاللہ ان کے حوصلے اور بھی بلند ہونگے۔ اور وہ شاید عوام کے تعاون وہ کچھ حاصل کرلیں جو ہمارے سیاست داں نہیں کرسکے یعنی قوم اور اس کے لیڈروں کواخلاقی بلندیوں کی طرف واپس لے آئیں جو کہ آجکل خود کو ہر قسم کی اخلاقی پابندیوں سے آزاد سمجھتے ہیں؟
ہم نے اپنے پچھلے کالم میں تحریر کیا تھا کہ ہم بجا ئے حالات حاضرہ پر تو ،تو،میں، میں کرنے کے اب مہینہ بھر صرف اور صرف رمضان پر بات کریں گے ۔ کیونکہ آج کے حالات بھی وہی ہیں جو حضور (ص) سے پہلے عرب کے تھے۔ سچ ناپید ہے جس کا مظاہرہ ملک میں عام ہے۔ مگر اس سے مطلب یہ نہ سمجھ لیں جیسے کہ ہمارے بھائی بند سمجھتے ہیں ۔ کہ بس یہ ہی مہینہ نیکیاں کرنے کا ہے۔اور رمضان کے بعد سب اس طرح واپس آجا تے ہیں جیسے پرندے سردیوں میں واپس لوٹتے دکھا ئی دیتے ہیں ؟ وجہ یہ ہے کہ ہم میں اور پرندوں میں بہت فرق ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں تو سمجھ ہی اتنی دی ہے کہ وہ جان لیں کہ موسم بدلنے والا ہے لہذا وہ اس کے حساب سے اپنی رہائش بد لیں تاکہ تباہیوں بچ سکیں۔ جبکہ ہمیں خلیفہ بنا کر پوری دنیا کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ ا س کے تقاضے اس طرح پورے کریں؟ جیسے کہ دنیا کے سب سے کامل تریں انسان(ص) نے پورے فرماکر دکھائے جنہیں بطور ہادیِ اسلام (ص) اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بھیجا؟ اور ہمیں قیامت تک کے لیئے ایک راستہ عطا کر دیا کہ اس کے خلیفہ کو کیسا ہونا چاہیئے؟ اور ہم کو ہدایت عطا فرمادی کے تمہا رے سامنے ہر معاملہ زندگی میں بسر کر نے کے لیے جو مثال ہے وہ تمہا رے نبی(ص) کا اسوہ حسنہ ہے۔ اس کو اپنا لو اور فلاح پا جاؤ ؟ جبکہ ہمیں اپنی کتابِ مقدس میں یہ بھی بتا دیا کہ “ فلاح سے مراد کیا ہے؟ دوسری طرف یہ بھی بتادیا کہ تمہارا دشمن شیطان ہے وہ کیوں دشمن ہوا وہ سورہ بقرا میں آدم (ع) کے قصہ میں موجود ہے۔ اس سے بچتے رہنا وہ تمہارا دوست کبھی نہ بن سکے گا کیونکہ تمہارے اور اس کے راستے مختلف ہیں ۔ اتنے مختلف کے جنتا مشرق اور مغرب میں فرق ہے۔ پھر ( سورہ ا لبقرا ءکی آیت 256 اور 257) میں پہلے تو دین کے معاملہ میں جبر کے استعمال سے منع فرمایا پھروجہ بتائی کہ ہم نے دونوں راستے دکھادیئے ہیں۔ کہ اللہ اپنے دوستوں کو تاریکیوں سے روشنیوں کی طرف لے جاتا ہے اس لیے اس کا نبی (ص) جس طرف بلاتا ہے صرف اسی رستہ کو تھامے رہو؟ اس کے برعکس شیطان اپنے دوستوں کو جہنم کی طرف کھینچتا ہے؟ اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم اللہ کے مضبوط سہارے کو پکڑے ر ہو اور فلاح کے راستہ پر چلتے ہو؟ یا اس پر گرفت ڈھیلی رکھتے ہوئے اور اپنے ازلی دشمن کے کہنے پر چلو؟ ان دونوں آیات میں ہمیں بتایا یہ گی ہے کہ ڈنڈے کے زور پر ہم کسی سے کوئی بات منوا لیں! وہ وقتی ہو گی ڈنڈا کمزور پڑا اور لوگ دین چھوڑ کر بھاگ جا ئیں گے ؟ اس کے بر عکس اپنا کردار اتنا بلند رکھوکہ تمہیں دیکھ کرہر ایک کو اللہ یاد آئے؟ با الفاظ دیگر مومن کی پہچان ہی یہ ہے کہاا سے دیکھ کر اللہ یاد آئے؟ لیکن ملت کچھ زیادہ گہرائی میں چلی گئی ا ور اس نے اس کا الٹ سمجھ لیا کہ اگر ہم صرف ظاہر میں متقیوں جیسا خود کو بنا لیں تو ہم میں یہ خوبی پیدا ہو جا ئے گی۔ اسی لیے اللہ نے اس کی نفی رمضان بھیج کر کردی اور اس کو بھیجنے کا مقصد یہ بتایا کہ روزے تم سے پہلے بھی ہم نے تمام امتوں پر فرض کیئے تھے اور اب تمہارے اوپر بھی فرض کیے ہیں تاکہ تم “متقی “بن جا ؤ؟ متقی بننے کا مقصد یہ نہیں کہ تم ثوب (توب) پہن لواور بس، بلکہ تم اس طرح ڈرنے والے بن جا ؤکہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے خلاف نہ کرو؟ پھرتم میں وہ کردار سراحیت کر جا ئے گا جو نبی (ص) کا تھا، اور وہ کردار کیا تھا۔( سورہ العقلم کی آیت 2نمبرتا7) “بے شک تو بہت بڑے خلق ِ عظیم مالک ہے “ یہ کون فرما رہا جواس انسانِ کامل (ص)کو بنا نے والا ہے۔ آگے فرما رہا ہے اب یہ بھی دیکھ لیں گے ،تو بھی دیکھ لے گا کہ کون مجنون ہے اور کون عقلمند ہے۔تیرا رب بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے اور راہ یافتہ لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ پھر ایک اور جگہ فرمایا کہ تمہارا کام صرف پیغام پہونچا دینا ہے ؟ کون ایمان لاتا ہے کون نہیں لا تا یہ دیکھنا ہمارا کام ہے اس لیے کہ ہدایت دینا یا نہ دینا ہمارا کام ہے۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے اس کامل(ص) بندے کو نبوت پر فائز کرنے سے پہلے جو تمام عرب سے تسلیم کرایا ، وہ ان(ص) کا صادق اور امین ہونا تھا؟جبکہ اس سے پہلے ایک یتیم کی اس معاشرے میں کوئی اہمیت نہ تھی جس کو کہ قرآن میں متعدد جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ان کی رب نے وجہ شہرت کیا پسند فرمائی“ سچ بولنا “ اور ان کا پہلا معجزہ بھی یہ ہی تھا کہ پورا معاشرہ جھوٹا تھا اور وہ (ص)سچ بول کر ان کے درمیان ممتاز ہوئے اوراپنا لوہامنوایا؟ اسی بنا پر نبوت سے پہلے اہلِ عرب نے حضور (ص) کو اپنا اس میدان میں راہنما تسلیم کر لیا تھا۔ مگر جب وہ (ص) نبوت پر فائز ہوئے اور کفار کی انا اور تکبر کو ٹھیس پہنچی تو پورا معاشرہ چیخ اٹھا۔ لیکن ہر جگہ ان کو شکست ان (ص)کے اسی کردار کی وجہ سے ہوئی کہ ہر ایک پوچھتا تھا کہ کیا انہوں نےپہلے کبھی جھوٹ بولا؟ تو دشمن بھی یہ کہنے پر مجبور تھے کہ نہیں!چونکہ قر آن ہر دانشور سے مخاطب ہے ؟ سفہا سے نہیں؟ لہذا ہر دانشور یہ ہی پوچھتا تھا کہ جب یہ (ص) پہلے کبھی جھوٹ نہیں بولے ؟ تو پھر یہ (ص) اللہ پر کیسے بہتان باندھ سکتے ہیں؟ جیسے کہ قیصر روم اور نجاشی وغیرہ نے یہ ہی سوال کیا؟ اور یہ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی ہے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا مطالبہ اپنے ہر بندے سے یہ ہی ہے کہ وہ پہلے یہ مان لے کہ قرآن کے اندر کسی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور کتاب صرف متقیوں اور غیب پر یقین رکھنے والوں ور اس کی راہ میں خرچ کرنے ولوں کے لیے ہے؟ جب بندہ یہ مان لے گا تو اسے آگے چل کر اس کا ہر لفظ ماننا پڑیگا ۔ اس لیے کہ یہ کتاب ایک صادق اور امین (ص) پر اللہ سبحانہ کی طرف سے حضرت جبرئیل (ع) کے ذریعہ اتری ہے اور یہ پوری کی پوری تسلیم کرنا ہوگی یہ نہیں چلے گا کہ کچھ مان لی ،کچھ نہیں مانی ؟ پھر ماننا پڑیگا کہ“ جو مجھ سے محبت کے دعوے دار ہیں ان سے فرمادیجئے کہ وہ تمہاری (ص)اطاعت کریں“اور یہ بھی کہ تمہار ے لیئے تمہارے نبی (ص) کا اسوہ حسنہ کافی ہے۔ اور یہ بھی کہ یہ (ص) اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے سوائے اس کے جوان پر ہماری ( اللہ سبحانہ تعالیٰ) طرف سے وحی کیا جائے؟ اور یہ بھی کہ جو یہ دیں لیلو ا ور جس سے منع کریں ا س سے رک جاؤ۔ صرف ان آیتوں کو ماننے کے بعد پوری دین تک رسائی ہوتی ہے اور پورا دین مکمل ہوتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی چونکہ ایک صفت “ بدیع السموات والارض “ہے چونکہ وہ قادر مطلق ہے وہی بغیر نمونے کے کوئی چیز تخلیق کرسکتا ہے صرف لفظ “ کن “ فرمانے سے، جبکہ انسان کو پہلے کوئی نمونہ چایئے ؟ جس کی راہ پر چل کر وہ آگے بڑھ سکے ؟ لہذا اخلاق کاایک نمونہ کامل بنا کر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضور (ص) کوپیدا فرمایا اور پورے عالم کے لیے اتمام حجت کردی کہ یہ رہا وہ (ص) ،ان (ص) کے کردار کو اپنا رول ماڈل بن جا ؤ؟ ورنہ لوگ قیامت میں عذر پیش کرتے کہ ہم کس کیئے پر عمل کرتے؟ کیا فرشتوں کے کیئے پر؟ جو سوائے عبادت کے نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں ۔جبکہ تونے ہمارے ساتھ ضروریات زندگی لگا دیں؟ اب اللہ سبحانہ تعالیٰ فرمادیگا کہ ہم نے تمہارے درمیان ایک کامل انسان (ص) مبعوث کردیا تھا جوکہ بشر یت میں تمہارے جیسا تھا۔ اور جوکہ ہر وقت ہمارے سامنے تھا جہاں اسے کوئی مشکل پیش آتی ہم فوراً وحی کے ذریعہ راہنمائی کرتے تھے ۔ا س (ص) نے اس پر عمل کر کے دکھا یا تاکہ تم بھی عمل کر کے اپنی جنت بناؤ؟ اور ہم تمہیں انعام سے نوازیں؟ ورنہ سزا کے مستحق ہوگے۔ مگر یاد رکھو کہ ہم کسی کو سزا دیکر خوش نہیں، بس تم ہماری بات مان لیا کرو ؟ تمہارے اوپر ہماری رحمتیں برسیں کو ہر وقت تیار ہیں اس لیئے کہ ہم نے اپنے ا وپر رحم کو لازم کر لیا ہے اور اگر غلطی ہوجا ئے تو توبہ کر لیا کرو ؟ ہمیں ہمیشہ مہربان پاؤگے؟ اور سال میں ہم نے تمہیں ایک مہینہ عطا فر یا تا کہ اس میں روزے رکھو اور متقی بن جا ؤ۔ اس لیئے کہ جنت متقیوں کی دائمی قیام گاہ ہے اور جہنم منکروں اور مشرکوں کی دائمی قیام گاہ ہے؟ پھر حضور (ص) نے خبردار فرمادیا کہ “ میرا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے اسی پر چلو فلاح پاجا ؤگے اس کے دونوں طرف اور بہت سے راستے ہیں ان پر پردے پڑے ہوئے ہیں ان کو اٹھا کر بھی مت دیکھنا ورنہ بھٹک جا ؤگے“ انہیں (ص) نے ہم سے رمضان کے بارے میں فرمایا کے اس میں داخل ہونے سے پہلے تمام تیاریاں مکمل کرلو؟اگر کوئی برا ئی کی ہے تو توبہ کرلو۔ اگر حقوق العباد کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کی تلافی کردو، مال و زمین دبایا ہے واپس کردو اگر زبان سے ستایا ہے تو معافی مانگ لو۔تاکہ تم متقیوں والی عید منا سکو ۔ اللہ کا نام لیکرا س مہینہ میں داخل ہو جا ؤ؟ پہلا عشرہ رحمت ہے ۔ دوسرا عشرہ مغفرت ہے اور تیسرا جہنم سے نجات ہے۔ یہاں مشعل راہ وہ حدیث ہے کہ ایک دن حضور(ص) نے تین مرتبہ آمین فرمایا صحابہ کرام(رض) نے پوچھا تو حضور (ص) نے فرمایا کہ جبرئیل (ع) آئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ وہ ہلاک ہوا جس نے آپ کانام سنا اور درود نہیں بھیجی! اس عشرہ میں کثرت سے درود پڑھئے یہ وہ عبادت ہے جس کی تعداد مقرر نہیں فرمائی گئی ایک صحابی (رض) نے ایک تہائی وقت سے بات شروع کی مگر حضور (ص) اور زیادہ کی تلقین فرماتے رہے آخر میں انہوں(رض) نے کہ کیا پورے وقت دور پڑھوں تو فرما یا ہاں یہ کافی ہے ۔ پھر حضور (ص) نے دوسری آمین کے کے بارے میں بتایا کہ“ جس کے والدین یا دونوں میں سے ایک زندہ ہواور اس نے ان سے دعا کراکراپنی مغفرت نہ کرالی وہ ہلاک ہوا“ میں نے کہا “آمین “پھرا نہوں نے کہا کہ وہ بھی ہلاک ہوا جس نے رمضان کا آخری عشرہ پایا اور اپنی نجات نہ کرالی میں نے کہا( آمین) بس پہلا عشرہ گزررہا ہے۔ رحمت کی بارش جاری ہے پہلے توبہ کیجئے پھر اس پر استقامت فرمائیے اور؟ ماں باپ سے مغفرت کراکر آخری ہفتہ میں داخل ہوجا ئیے۔تاکہ اس کی برکتیں سمیٹ کر جس میں لیلة القدر بھی ہے جہنم سے نجات حاصل کرسکیں؟ یاد رکھئے کہ حضور (ص) نے پانچ چیزوں سے مکمل پرہیز بتا یا ہے۔ شرک، تکبر، رشتہ داریاں منقطع کرنا، زبان یا ہاتھوں سے کسی کو تکلیف پہونچا نا۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو اسوہ حسنہ (ص) پر عمل کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے (آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY