برطانیہ میں سیاسی بے یقینی کی فضا،ماہ پارہ صفدر

0
269

برطانیہ کے سیاسی افق پر اس وقت ایک بھونچال کی سی کیفت ہے اور ملک بھر میں بے یقینی کی گھٹا چھائی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ آٹھ جون کو ہونے والے انتخابات ہیں جن کے نتائج نے کنزرویٹوز پارٹی کی اچھی خاصی مستحکم حکومت کو ہلاکر رکھ دیا، کنزرویٹو جماعت پارلیمان میں اپنی سادہ اکثریت بھی کھو بیٹھی اور ایک معلق پارلیمان وجود میں آگئی۔ کنزرویٹو پارٹی ہرگز ایسا نہیں چاہتی تھی۔ خصوصاً ایسے موقع پر جب برطانیہ یورپ سے علیحدگی کے تاریخ ساز مذاکرات شروع کرنے کے مرحلے پر کھڑا ہے۔

ٹریسا مے میڈیا اور مخالفین کی جانب سے تند و تیز حملوں کی زد میں ہیں، جس میں ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ خود ان کی اپنی پارٹی کے بھی بہت سے ارکان ٹریسا کے غلط اندازوں پرانتخابات کی کال دینے پر انھیں کھری کھری سنارہے ہیں۔ شائد خود ٹریسا مے کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ انھیں ایسے تباہ کن نتائج کا سامنا ہوگا جو ان کے سیاسی مسقبل کے آگے سوالیہ نشان لگا دیں گے۔ وہ جو انتخابی مہم کے دوران خود کو ایک مضبوط وزیر اعظم ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہیں، انتخابات کے بعد کمزور وزیر اعظم بن کر رہ گئیں۔

ان کی پارٹی کے کچھ ارکان اس لیے بھی سخت ناخوش ہیں کہ ٹریسا مے کو قبل از وقت انتخابات کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مگر کچھ جائزوں کے مطابق فوری انتخابات کی صورت میں ان کی جماعت لیبر پارٹی سے بہت آگے تھی جس سے ٹریسا اپنی مقبولیت کے نشے میں ایسی مخمورہوئیں کہ دو برس بعد ہی اس امید پر انتخابات کرواڈالے کہ پا رلیمان میں قطعی اکثر یت حاصل کرنے کا یہ اچھا موقع ہے۔ اس صورت میں وہ ’بریکسٹ’ یعنی یورپی یونین سے علحیدگی اور دوسرے پالیسی معاملات کواپنی خواہش کے مطابق طے کرسکیں گی۔

’ بریکسٹ‘ یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے کو کہا جا تا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ برس جون میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے ہوچکا تھا۔

کچھ دل جلے اور خود یورپی یونین کے کچھ اہلکار برطانیہ کی یورپی یونین سےعلیحدگی کو برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان طلاق قراردے رہے ہیں۔

اب یہ پاکستان کے ٹی وی ڈرامے تو ہیں نہیں کہ شوہر صاحب نے تین مرتبہ طلاق طلاق طلاق بولا اور کئی کئی بچوں کی اماں روتی بلکتی گھروں سے نکل گئی۔ مغربی ملکوں میں تو طلاق کا عمل بھی خاصا طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے۔

اور اگرطلاق کا تصفیہ کئی ملکوں کے درمیان طے ہونا ہو تو معاملہ اور بھی مشکل ہوجاتا ہے، وہ بھی ایک ایسی شادی جو لگ بھگ پچاس برس سے زیادہ پرانی ہو۔ برطانیہ کوئی پچاس برس سے مختلف صورتوں میں یورپی یونین کا مرکزی حصہ رہا ہے۔ گویا برطا نوی عوام نے ریفرنڈم میں جتنی آسانی سے الگ ہونے کا اپنا فیصلہ سنا دیا، اس کی تکمیل کا راستہ اتنا آسان نہیں، بلکہ کسی پیچیدہ گورکھ دھندے سے کم نہیں،

ایک ایسا گورکھ دھندا جس کا پہلا نشانہ خود سابقہ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بنے جو یورپی یونین میں رہنے کے حق میں تھے۔ فیصلہ خلاف آنے پرمستعفی ہوگئے۔ ٹریسا مے نے ڈیوڈ کیمرون کے مستعفی ہونے پر ملک کی باگ ڈورسنبھا لی تھی۔

حکومت بنانے کے بعد ٹریسا مے کے سامنے سب سے بڑی آزمائش بریکسٹ کے لیے مذاکرات کی تیاری ہے۔ وہ اپنی شرائط پر کوئی معاہدہ چاہتی ہیں۔ انھوں نے اشارا دیا کہ کسی برے معاہدے سے بہتر ہے کوئی معاہدہ نہ کیا جائے۔ گویا ھاتھ جھٹک کردامن جھاڑ کر اٹھ آئیں، کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ کرنے کی بجائے سخت گیری اختیار کی جائے۔ اسے برطانوی عوام میں ’ہارڈ بریکسٹ‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن برطانوی عوام کی بہت بڑی اکثر یت اور لیبر پارٹی کے مقبول رہنما جرمی کوربن یورپی یونین سے مکمل الگ تھلگ ہونے کے قطعی حق میں نہیں‘ بلکہ چاہتے ہیں کوئی بھی ممکنہ معاہدہ ’کچھ دو اور کچھ لو‘ کی بنیاد پر ہونا چاہیے، جس کا مطلب ہے ’سوفٹ بریکسٹ‘ یعنی مذاکرات میں لچکدار حکمت عملی اپنائی جائے۔

اب جبکہ معلق پارلیمان نے ٹریسا مے کے من مانی کرنے کے ارادوں پر پانی پھیر دیا ہے، تو وہ ایسے معاہدہ کرنے پرمجبور پر ہونگی جو عوام کی اکثریت کے لیے قابل قبول ہو اور حتمی معاہدے پر پارلیمان کی منظوری شرط ہو۔

SHARE

LEAVE A REPLY