کرکٹ ڈپلومیسی اور قومی وقار ۔ممتازملک. پیرس

0
55

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ کی ٹیم کیساتھ کھیل کر سیمی فائنل جیتنے پر ،ساری قوم کی جانب سے کپتان سرفراز احمد کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ….اس چمپئینز ٹرافی کے میچز میں ایک بات کو بہت غور سے دیکھیئے …

کیا وجہ ہے کہ ہماری بہترین اور خوب فارم میں کھیلنے والی ٹیم سب کیساتھ اچھا کھیلتی ہے لیکن جب یہ ٹیم ہمارے مخالف ملک انڈیا کیساتھ میدان میں اترتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے شاید کبھی اپنے محلے میں بھی کرکٹ نہیں کھیلی ہو گی .

کیا وجہ ہے ؟

کیا آپ کو بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ میچز انڈیا میں ہوں یا انڈیا سے باہر کہیں بھی… ہماری ٹیم کو جیسے ہماری حکومت کی جانب سے بھی آرڈر ہوتا ہے کہ یہ میچ انڈیا کے کشکول میں ڈال دیا جائے. ….
ہمارے کھیلوں اور خصوصا کرکٹ کو کب تک سیاسی گیم بنا کر انڈیا کو خوش کرنے کی کوشش کی جائے گی .

کیا ہماری حکومتوں کے لیئے سیاست سے بڑھ کر قومی غیرت و وقار بھی کوئی حیثیت رکھتا ہے یا نہیں .

ہماری ساری قوم کو اس بات پر غور کرنا چاہیئے کیونکہ ایسی بچگانہ ہار کے بعد بھی کسی کھلاڑی کے چہرے پر کبھی کوئی ملال نہیں ہوتا . کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ حکومت سے تو جا کر لڑ نہیں سکتے . انہوں نے جو کیا حکومتی آرڈر پر کیا …اس بار تو حد یہ بھی ہو گئی کہ انڈین کرکٹ ٹیم کا کیپٹن سارو گنگولی بھی ہکا بکا رہ گیا اور بول ہی اٹھا کہ ہمیں تو پاکستان کیساتھ میچ کھیلنے کا احساس ہی نہیں ہوا . بھئی احساس کیسے ہوتا میچ کھیلا جاتا تو مقابلے کا احساس ہوتا.. .. یہاں تو میچ آپ کو خیرات میں دے دیا جاتا ہے ..لیکن پاکستانیوں کو اپنی حکومتوں کے اسی کرکٹ ڈپلومیسی کے نام پر قومی وقار سے کھیلنے کا اب بھرپور نوٹس لینا ہو گا …

ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن مقابلہ کر کے ….جہاں ہر میچ کا بہترین کھلاڑی بوگیاں مارنے لگے سمجھ لیجیئے سرکاری آرڈر آ چکا ہے کہ میچ تحفے میں اگلے کے حوالے کر دیا جائے ..

ممتازملک

SHARE

LEAVE A REPLY