حضرت علی غیر مسلم مشاہیر کی نظر میں

0
75

اسلام کے نام پر مساجد میں دہشت گردی اور بغیر کسی جرم کے کلمہ گو
مسلمانوں کو بے گناہ شہید کرنے
کا سلسلہ کوئی نیا نہیں۔ پاکستان افغانستان اور دنیا کے دیگر ممالک سیریا عراق میں
داعش القاعدہ النصرہ و طالبان نامی فتنے یعنی دور حاضر کے خوارج کی
بربریت دراصل خوارج و بنی امیہ کے ملوکیتی حکمرانوں ہی کی پالیسیوں کا
حصہ ہے جنہوں نے امیر المومنین کو مسجد کوفہ میں نماز کے وقت شہید کیا
اور آپ ع کے فرزند امام حسن ع کو زہر دلوا کر شہید کرنے کے ساتھ ساتھ
کربلا میں نواسہ رسول ص و فرزند امام حسین ع کو شہید کردیا ۔جب میدان
کربلا میں سیدالشھدا حضرت امام حسینؑ نے افواج یذید لعین کو
مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نواسئہ رسول(ص( ہوں اس کے باوجود تم لوگ
میرے قتل کے کیوں پیاسے ہوں تو انہوں نے جواب میں کہا کہ دراصل
ہم اپنے ان ابا واجداد کا بدلہ لینے آئے ہیں جن کو تمہارے بابا علیؑ نے
جنگ بدر و احد میں مار ڈالا تھا۔یعنی نعوذبالللہ رسول الللہ(ص( اور اسلام
کی حمایت و دفاع کرکے دراصل امیرالمومنیںؑ نے جرم کیا تھا جس کا بدلہ یہ
ہے۔بقول شاعر
اک علی کی دشمنی کیا کیا ستم ڈھا گئی
بدر کی دشمنی چلتے چلتے کربلا تک آگئی

خوارج کی اس بربریت کو قرآن اور ااحادیث میں آخری زمانے کی علامات کے طور
پر درج کیا گیا، جو کی تفصیل یہاں تصویر میں دی گئی ہے اور اس کو علامہ
اقبال نے بھی بہترین تفسیر کی ہے۔
ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
کیا بدبختی کی انتہا ہے خوارج کے لئے۔۔۔ کہ رسول الللہ(ص( کا واضح حکم و
حدیث ہونے کے
باوجود کہ علیؑ حق کے ساتھ ہے اور حق علیؑ کے ساتھ خدایا حق کا رخ اس طرف
مڑیں جس طرف علیؑ جائے، کہ باوجود بھی دشمنان دین اسلام
نے امیرالمومنیںؑ کو اتنی اذیتیں دے کر مظالم کا نشانہ بنایا کہ جس کی
نظیر ملنا شاید مشکل ہوں۔رسول الللہ (ص( کے وصال کے بعد ایک دفعہ حضرت بی
بی فاطمہ الذھرا(س( نے حضرت علیؑ سے پوچھا کہ مجھے پتہ چلا ہے
کہ اے علیؑ کوئی آپ کو سلام نہیں کرتا تو حضرت علیؑ نے مظلومیت کا اظہار
کرتے ہوئے فرمایا بات اس سے آگے نکل چکی ہے اب حالت یہ ہے کہ سلام تو دور
…کی بات جب میں سلام کرتا ہوں تو کوئی جواب تک نہیں دیتا۔

اقوام متحدہ و غیر مسلموں کی نظر میں
مقام امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب:۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این
ڈی پی نے بھی امام علیؑ کی طرز حمکرانوں کو آئیڈیل قرار دے کر بارہ سال
پہلے اپنی رپورٹ میں عرب ڈکٹیٹرز کو اپنا قبلہ درست کرنے کا کہا تھا،
لیکن بدقسمتی سے عرب حکمرانوں بالخصوص مقدس سرزمین حجاز مقدس کے نام کو
اپنے ڈکٹیٹر خاندانی نام آل سعود کے نام پر سعودی عرب رکھنے والے مطلق
العنان بادشاہوں نے سبق نہیں سیکھا، بلکہ اپنے پڑوسی ملک یمن پر امریکہ و
اسرائیل کی مددسےیلغار کرکے معصوم بچوں و خواتین سمیت بے گناہوں کے خون
سے ہولی کھیل کر حتی کہ رمضان المبارک کے مہینے میں بھی جنگ وجدل میں پہل
کرکے زمانہ جاہلیت کے عربوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔۔آل سعود کی طرف سے
یمن میں معصوموں کے قتل عام نے اسرائیل کی طرف سے غزہ و فلسطین پر بمباری
کی یاد تازہ کردی ہے۔ اس کے علاوہر

دنیا بھر میں تکفیری دہشت گرد قوتوں نام نہاددولت اسلامیہ یا داعش
القاعدہ و طالبان کی سرپرستی کرکے آل سعود ایک طرف بے گناہ عوام کا قتل
عام اور دوسری طرف مقامات مقدسہ کو مسمار و شہید کردیا۔۔جس کی ایک مثال
معجزہ خداوندی کے تحت حضرت علی کی پیدائش کے لئے شگاف دیوار کعبہ کو
چھپانا ہے۔۔

مشہور عیسائی مصنف جارج جرداق کا امیر المو منین حضرت علی کے لئے خراج
عقیدت: ندائے عدالت انسانی۔

اس امر کا اقرار غیر مسلموں حتی کہ عیسائیوں نے بھی برملا طور پر کیا ہے،
لبنان کے مشہور عیسائی محققق دانشور اور لکھاری جارج جرداق جس نےامیر
المومنین حضرت علیؑ کی سیرت پر ندائے عدالت انسانی نامی مشہور کتاب لکھ
دی ہے، جارج جرداق کے مطابق جب اس نے اس کتاب کو مکمل کیا تو کوئی بھی
مسلمان پبلشر اس کتاب کو شائع کرنے پر راضی نہیں تھا،اسلئے بے چین ہوکر
لبنان کے ایک چرچ چلا گیا جہاں ایک عیسائی بشپ نے میری بے چینی کی وجہ
پوچھ کر مجھے ایک تھیلی میں رقم دے کر کتاب چھاپنے کا کہا، جب یہ کتاب
چھپ گیا اورلبنان سمیت دنیا بھر میں اس سے منافع حاصل ہوا تو میں نے بشپ
کو رقم تھیلی میں بند کرکے شکریہ کے ساتھ واپس کرنا چاہا لیکن بشپ نے
جواب میں کہا کہ اس میں شکریہ اور احسان کی کوئی بات نہیں میں یعنی بشپ
نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ امیر المومنین حضرت علیؑ کے ان
احسانوں کا ایک معمولی سا شکریہ ادا کیا ہے کہ جب حضرت علیؑ امیر
المومنین وخلیفتتہ المسلمین بن گئیے تو آپ نے تمام اقلیتوں بشمول
عیسائیوں کے نمائندوں کو طلب کیا اور فرمایا کہ مجھ علیؑ کے دور میں تم
اقلیتوں کو تمام تر اقلیتی حقوق اور تحفظ حاصل رہے گا اسلئے حضرت محمد
رسول اللہ ص کے بعد اس کے وصی امیر المومینن حضرت علیؑ کا دور خلافت
اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں کے ساتھ مثالی ترین دور تھا ،جس میں اقلیتوں
بالخصوص عیسائیوں کے خلاف کہیں بھی ظلم و جبر نہ ہوا اسلئے میں (بشپ) نے
علیؑ کے احسان کا معمولی شکریہ ادا کیا ہے جارج جرداق جا کر یہ رقم
غریبوں میں بانٹ دو۔

کسی شاعر نے مولود کعبہ کے بارے میں کیا خوب کہا ہے

میسر نہیں کسی کو یہ سعادت

بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت
دنیا کے بعض حصون بالخصوص مملکت خداداد پاکستان میں اسلام کے نام اور
لبادے میں خوارج نما دہشت گرد القاعدہ و طالبان کے نام پر مساجد و پبلک
مقامات میں خودکش حملے و دہشت گردی کرکے جس ظلم و جبر کے مرتکب
ہورہے ہیں ،جس کو عالم اسلام کے معروف سکالرز و علمائے کرام بشمول ڈاکٹر
طاہر القادری نے دور حاضر کا فتنئہ خوارج قرار دیا ہے۔خوارج کا فتنئہ
امیرالمومنیںؑ حضرت علیؑ کے مقابلے میں سر اٹھانے لگا اور یہاں تک کہ اس
فتنئے نے امیرالمومنیںؑ و خلیفئہ رسول(ص)کو مسجد و محراب عبادت میں شہید
کردیا۔خوارج نماز روزہ اور عبادات میں مشغول ہونے کے علاوہ حتی کہ ان میں
سے اکثریت حافظان قرآن تھی اور وہ یہ نعرہ لگا کر اسلام کے لبادے
میں ظلم و جبر اور عوام الناس پر دہشت گردی کا بازار گرم کرکے اپنے علاوہ
باقی تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے کر یہ شعار یا نعرہ بلند کرتے تھے کہ
لا حکم الا الللہ۔۔۔۔یعنی حکم صرف الللہ کے لئے ہے ،امیرالمومنیں حضرت
امام
علیؑ خوارج کے اس نعرے کے بارے میں فرماتے تھے کہ یہ نعرہ یا شعار تو حق
ہے لیکن اس کے پیچھے خوارج کے مقاصد و فتنئہ باطل اور فساد پر مبنی ہے۔ہم
اگر آج بھی اپنے ارد گرد پوری دنیا بالخصوص
مملکت خداداد پاکستان میں اسلام کے نام اور لبادے میں خوارج نما دہشت گرد
القاعدہ و طالبان کے غیر انسانی و غیر اسلامی افعال و کردار اور دہشت
گردی پر نظر دوڑائے تو فتنئہ خوارج کا عکس یا تاریخ اپنے آپ کو دہراتی
ہے کا نطارہ پیش کرتا ہوا نطر آئے گا۔
امیر المومنینؑ پر اسلام کے لبادے میں مسلط خوارج اور بنی امیہ کے ظالم و
جابر ملوکیتی حکمرانوں کے مظالم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
خلیفئہ رسول(ص) امیر المومنیںؑ حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ سلام
اور اہلبیت اطہار ؑ و اولاد رسول(ص) پر لعن طعن کے لئے کئی ہزار مساجد
کے منبر و محراب تک درہم و دینار سے خریدے گئیں۔جہاں سے باقاعدہ جمعہ کے
خطبات اور دیگر مواقع پر
امیر المومنیںؑ حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ سلام
اور اہلبیت اطہار ؑ و اولاد رسول(ص) پر لعن طعن کی جاتی تھی۔ظلم کی
انتہا دیکھئے کہ جب انیس رمضان کی صبح مسجد کوفہ میں نماز فجر کے لئے آنے
والے امیرالمومنین حضرت امام علیؑ پر اس وقت کے شقی
ترین ابن ملجم لعین نے سجدے میں وار کرکے مسجد کوفہ کے محراب کو خون میں
تر کردیا۔اور یہ خبر کوفہ سے باہر دیگر علاقوں بالخصوص ملوکیت اور بنی
امیہ کے پایہ تخت شام یا سیریا تک پہنچا۔کہ امیرالمومنینؑ
مسجد کوفہ میں نماز فجر کے وقت مجروح ہو چکے ہیں،تو لو گ ایک دوسرے سے
تعجب سے پوچھنے لگیں کہ علی مسجد میں کیا کر رہے تھے۔۔؟؟ جب بتایا گیا کہ
نماز فجر پڑھنے گئے تھے تو لوگ اور ذیادہ تعجب سے
پوچھنے لگیں کہ علی مسجد میں کیا کر رہے تھے۔۔؟؟یہ تھا اسلام کے لبادے
میں مسلط خوارج و بنی امیہ کے پروپیگنڈے اور اس زمانے کی باطل میڈیا کا
کردار کہ اپنے ناجائز مفادات اور اقتدار کے حصول کے لئے خلیفئہ وقت
امیر المومنینؑ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ سلام کے حوالے سے اتنا غلیظ و
گمراہ کن منفی پروپیگںڈہ کر رکھا تھا کہ زمانے کے متقی ترین
امیرالمومنینؑ کو نعوزبالللہ بے نمازی و لادین قرار دے کر عوام میں مشہور
کردیا تھا۔
اس سے خوارج اور بنی امیہ کی اسلام دشمنی اور بغض و عداوات امیر
المومنیںؑ حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ سلام
اور اہلبیت اطہار ؑ و اولاد رسول(ص) کا پتہ چلتا ہے۔
انیس رمضان نماز فجر کے وقت خوارج و بنی امیہ کی زہر میں ڈوبے تلوار کے
زخم کے بعد مسجد کوفہ میں امیر المومنینؑ کا یہ جملہ فزت برب کعبہ ۔۔۔رب
کعبہ کی قسم علیؑ کامیاب ہوگیا ۔۔۔دو دن بعد اکیس رمضان المبارک کو
امیر المومنیںؑ حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ سلام
شہید ہو گئے اور یوں علیؑ کا ظاہری سفر خانہ کعبئہ میں ولادت سے لے کر
مسجد کوفئہ میں شہادت تک ہر لمحہ الللہ پاک کی خوشنودی و رضا کی خاطر بسر
ہو کر رہتی دنیا تک مینارہ نور بن گیا۔

علی ابن ابی طالب (ع) ۔ صراط حیات
علی ابن ابی طالب (ع)

عالم اسلام بلکہ عالم بشریت کی مفتخرترین ہستیوں میں مرسل اعظم ، نبی
رحمت حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد سب سے پہلا نام
امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب کا آتا ہے لیکن آپ سے متعلق محبت و
معرفت کی تاریخ میں بہت سے لوگ عمدا” یا سہوا” افراط و تفریط کا بھی شکار
ہوئے ہیں اور شاید اسی لئے ایک دنیا دوستی اور دشمنیوں کی بنیاد پر مختلف
گـروہوں اور جماعتوں میں تقسیم ہو گئی ہے خود امیرالمومنین نے نہج
البلاغہ کے خطبہ ایک سو ستائیس میں ایک جگہ خبردار کیا ہے کہ : ” جلد ہی
میرے سلسلے میں دو گروہ ہلاک ہوں گے ایک وہ دوست جو افراط سے کام لیں گے
اور ناحق باتیں میری طرف منسوب کریں گے اور دوسرے وہ دشمن جو تفریط سے
کام لے کر کینہ و دشمنی میں آگے بڑھ جائیں گے اور باطل کی راہ اپنا لیں
گے ۔میرے سلسلے میں بہترین افراد وہ ہیں جو میانہ رو ہیں اور راہ حق و
اعتدال سے تجاوز نہیں کرتے ۔
علی ابن ابی طالب (ع)

عزیزان محترم ! وہ سچے مسلمان جو اہلبیت رسول (ص) سے محبت کرتے ہیں اور
ان کواپنے لئے ” اسوہ ” اور” نمونۂ عمل ” سمجھتے ہیں صرف اس لئے ایسا
نہیں کرتے کہ وہ ہمارے نبی (ص) کی اولاد ہیں اور ان کی نسل اور خاندان سے
تعلق رکھتے ہیں بلکہ اس لئے محبت و اطاعت کرتے ہیں کہ وہ خدا کی نگاہ میں
عزیز و محترم ہیں اور ان کو اللہ نے اپنا نمائندہ اورعالم بشریت کا امام
و پیشوا قراردیا ہے ۔البتہ جن کو اہلبیت (ع) کی صحیح معرفت نہیں ہے وہ ان
کو یا تو اولاد رسول (ص) سمجھ کر مانتے اور احترام کرتے ہیں یا پھر ایسے
بھی لوگ ہیں جو ایک اچھا انسان سمجھ کر ان کی تعریف و ستائش کرتے اور
عقیدت و ارادت کا اظہار کرتے ہيں ۔ لیکن مسلمانوں کے لئے سب سے اہم یہ ہے
کہ خدا نے ان کو امام و رہنما بنایاہے اور اسوہ و نمونہ قرار دے کر ان کی
اطاعت و پیروی واجب قرار دی ہے ۔ان کی سیرت سے سبق حاصل کرنا اور ان کے
آئینۂ کردار میں خود کو ڈھالنا ہمارا فریضہ ہے ۔چنانچہ حضرت علی (ع) کی
محبت اور معرفت میں اس پہلو کو سامنے رکھنا بے حد ضروری ہے مسلمانوں کو
دراصل اپنی رفتار و گفتار کے ذریعہ ثابت کرنا چاہئے کہ جب ہم ” علی کی
پیروی ” کی بات کرتے ہيں تو یہ اوروں کی پیروی سے الگ ، خدا و رسول (ص)
کی پیروی کے مترادف ہے ایک مسلمان حضرت علی (ع) سے محبت و اطاعت عبادت
سمجھ کر انجام دیتا ہے ۔جس طرح قرآن کی تلاوت رسول اسلام (ص) کی پیروی
،نماز و روزہ کی ادائگی ، حج کے اعمال اور راہ خدا میں جہاد و سر فروشی
عبادت ہے علی ابن ابی طالب (ع) کی محبت اور پیروی بھی عبادت ہے ۔ظاہر ہے
محبت و اطاعت اسی وقت کارساز ہے جب ان کی امامت و رہبری کی معرفت کے ساتھ
ہو ۔
علی ابن ابی طالب (ع)

ورنہ محبت کی ایک وہ صورت بھی ہے جو درویشوں اور فقیروں کے یہاں پائی
جاتی ہے وہ بھی حضرت علی (ع) کو اپنا قطب اور پیشوا مانتے ہیں مگر حضرت
علی (ع) کی عملی زندگی سے خود کو دورکئے ہوئے ہیں عیسائي دانشور جارج
جرداق ادعا کرتے ہیں کہ “میں خداؤں کی پرستش کرتا ہوں میرے لئے علی ابن
ابی طالب کمال اور عدالت و شجاعت کے پروردگار ہیں ” ۔ظاہر ہے اس عیسائي
دانشور کی محبت اور اس کا اظہار الگ عنوان رکھتا ہے وہ عیسائي تھے اور
عیسائي رہے ہیں انہوں نے” انسانی عدل و انصاف کی آواز” کے عنوان سے حضرت
علی (ع) کی مدح و ستائش میں ایک پوری کتاب کئی جلدوں میں لکھ دی مگر ان
کی محبت اسلام کی نظر میں کسی دینی معیار پر پوری نہیں اترتی ۔اسلام میں
وہی محبت کارساز ہے جو معرفت کےساتھ ہو ورنہ محبت میں سہی اگر کوئی حضرت
علی (ع) کو الوہیت یا نبوت و رسالت کی منزل میں پہنچانے کی کوشش کرے تو
یہ غلو اورشرک ہے جس کی طرف حدیث میں آیا ہے :

” ہلک فیہ رجلان مبغض قال و محب غال”

“مبغض قال ” سے مراد وہ کینہ توز دشمن ہیں جو جان بوجھ کر علی (ع) کے
فضائل چھپاتے یا انکار کرتے ہیں ۔ اور ” محب غال ” سے مراد محبت کے وہ
جھوٹے دعویدار ہیں جو حضرت علی (ع) کو خدا کی منزل تک پہنچا دیتے ہیں
۔ایک مسلمان کی حیثیت سے جب ہم علی ابن ابی طالب (ع) کی سیرت اورکردار کا
جائزہ لیتے ہیں تو وہ خدا کی بندگی رسول اسلام (ص) کی جانشینی اور
مسلمانوں کی امامت و پیشوائی کے لحاظ سے بہتریں مسلمان اور کامل ترین
انسان نظر آتے ہیں ۔اسی لئے ان کی شخصیت اور کردار ابدی اور جاوداں ہے
چنانچہ 19 ماہ رمضان المبارک کو وقت سحر سجدۂ معبود میں جس وقت
امیرالمومنین کی پیشانی خون میں غلطاں ہوئی خدا کے معتمد اور رسول اسلام
(ص) کے امین ، فرشتوں کے امیر ، جنگ احد میں ” لافتی الّا علی لاسیف الّا
ذوالفقار ” کا نعرہ بلند کرنے والے جبرئیل نے تڑپ کر آواز بلند کی تھی :
” ان تَہَدّمَت و اَللہ اَرکان الہُدیٰ” خدا کی قسم ارکان ہدایت منہدم ہوگئے

اور مسجد کوفہ میں جب سارے مسلمان اپنے امام وپیشوا کے غم میں نوحہ و
ماتم کرنے میں مصروف تھے خدا کا مخلص بندہ اپنے معبود سے ملاقات کااشتیاق
لئے آواز دے رہا تھا” فُزتُ وَ رَبّ الکَعبہ ” رب کعبہ کی قسم میں کامیاب
ہوگیا اور علی (ع) آج بھی کامیاب ہیں کیونکہ ان کی سیرت ،ان کا کردار ،ان
کے اقوال و ارشادات ان کی حیات اور شہادت کاایک ایک پہلو نہ صرف عالم
اسلام بلکہ عالم بشریت کی کامیابی و کامرانی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے اسی
لئے علی ابن ابی طالب (ع) سے محبت اور معرفت رکھنے والے کل بھی اور آج
بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ علی (ع) کی شہادت تاریخ بشریت کے لئے
ایک عظیم خسارہ اورایسی مصیبت ہے کہ اس پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے ۔نبی
اکرم (ص) کی رحلت کے بعد ملت اسلامیہ کا وہ کارواں جو 25 سال پیچھے ڈھکیل
دیا گيا تھا جب حضرت علی (ع) کی ولایت و امامت پر متفق ہوا اور حکومت و
اقتدار امیرالمومنین کے حوالے کردیا گیا تو 18 ذی الحجّہ سنہ 35 ہجری سے
21 ماہ رمضان المبارک سنہ 40 ہجری تک چار سال دس مہینہ کی مختصر مدت میں
علی ابن ابی طالب نے وہ عظیم کارنامے قلب تاریخ پر ثبت کردئے کہ اگر ظلم
و خیانت کی شمشیر نہ چلتی اور جرم و سازش کا وہ گھنونا کھیل نہ کھیلا
جاتا جو عبدالرحمن ابن ملجم اور اموی خاندان کے جاہ طلبوں نے مل کر کھیلا
تھا تو شاید دنیائے اسلام کی تقدیر ہی بدل جاتی پھر بھی علی ابن ابی طالب
(ع) نبی اکرم (ص) کی 23 سالہ زندگی کے ساتھ اپنی پانچ سالہ حکومت کے وہ
زریں نقوش تفسیر و تشریح کی صورت میں چھوڑ گئے ہیں کہ رہتی دنیا تک کے
لئے اسلام کی حیات کا بیمہ ہوچکا ہےاور قیامت تک روئے زمین پرقائم ہونے
والی ہر حکومت اس کی روشنی میں عالم بشریت کی ہر ضرورت کی تکمیل کرسکتی
ہے ، چونکہ 21 رمضان المبارک کو علوی زندگی کا وہ صاف و شفاف چشمہ جو
دنیائے اسلام کو ہمیشہ سیر و سیراب کرسکتا تھا ہم سے چھین لیا گيا لہذا
یہ مصیبت ایک دائمی مصیبت ہے اورآج بھی ایک دنیا علی (ع) کے غم میں
سوگوار اورماتم کناں ہے ۔

19 رمضان:

سن40 ھ ق : حضرت علی علیہ السلام مسجد کوفہ میں قاتلانہ حملہ سے شدید زخمی ہوۓ ۔

عبد الرحمن بن ملجم مرادی ، خوارج میں سے تھا اور ان تین
آدمیوں میں سے تھا کہ جنہوں نے مکہ معظمہ میں قسم کھا کر عہد کیا تھا کہ
تین افراد بشمول امام علی بن ابیطالب (ع) کو قتل کرڈالیں گے ۔

ھر کوئی اپنے منصوبے کے مطابق اپنی جگہ کی طرف روانہ ہوا اور
اس طرح عبدالرحمن بن ملجم مرادی بیس شعبان سن چالیس کو شھر کوفہ میں
داخل ہوا۔

انیسویں رمضان سن چالیس کی سحر کو کوفہ کی جامعہ مسجد میں
امیرالمومنین علی (ع) کے آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔ دوسری طرف قطامہ نے
” وردان بن مجالد” نامی شخص کے ساتھ اپنے قبیلےکے دو آدمی اسکی مدد کیلۓ
روانہ کیے.

اشعث بن قیس کندی جو کہ امام علی (ع) کے ناراض سپاہیوں اور
اپنے زمانے کا زبردست چاپلوس اور منافق آدمی تھا ،حضرت امام علی (ع) کو
قتل کرنے کی سازش میں ان کی رہنمائی کی اور انکا حوصلہ بڑھایا رہا ۔
حضرت علی علیہ السلام انیسویں رمضان کے شب اپنی بیٹی ام کلثوم کے ہاں
مہمان تھے .

روایت میں آیا ہے کہ آپ اس رات بیدار تھے اور کئی بار کمرے سے
باہر آ کر آسمان کی طرف دیکھ کر فرماتے تھے :خدا کی قسم ، میں جھوٹ نہیں
کہتا اور نہ ہی مجھے جھوٹ کہا گيا ہے ۔ یہی وہ رات ہے جس میں مجھے شھادت
کا وعدہ دیا گيا ہے ۔
علی ابن ابی طالب (ع)

بہر حال نماز صبح کیلۓ آپ کوفہ کی جامعہ مسجد میں داخل ہوے اور
سوۓ ہوے افراد کو نماز کیلۓ بیدار کیا، من جملہ خود عبد الرحمن بن ملجم
مرادی کوجوکہ پیٹ کے بل سویا ہوا تھا کو بیدار کیا۔اور اسے نماز پڑھنے
کوکہا ۔

جب آپ محراب میں داخل ہوئے اور نماز شروع کی تو پہلے سجدے سے ابھی سر
اٹھا ہی رہے تھے کہ شبث بن بجرہ نے شمشیر سے حملہ کیا مگر وہ محراب کے
طاق کو جالگی اوراسکے بعد عبد الرحمن بن ملجم مرادی نے نعرہ لگایا :” للہ
الحکم یاعلی ، لا لک و لا لاصحابک ” ! اور اپنی شمشیر سے حضرت علی علیہ
السلام کے سر مبارک پر حملہ کیااور آنحضرت کا سر سجدے کی جگہ( ماتھے )
تک زخمی ہوگیا .

حضرت علی علیہ السلام نےمحراب میں گر پڑے اسی حالت میں فرمایا : بسم اللہ
و بااللہ و علی ملّۃ رسول اللہ ، فزت و ربّ الکعبہ ؛ خدای کعبہ کی قسم ،
میں کامیاب ہو گيا ۔

کچھ نمازگذار شبث اورا بن ملجم کو پکڑنے کیلئےباھر کی طرف دوڑ پڑے اور
کچھ حضرت علی (ع) کی طرف بڑے اور کچھ سر و صورت پیٹتے ماتم کرنے لگۓ ۔

حضرت علی (ع) کہ جن کے سر مبارک سے خون جاری تھا فرمایا: ھذا وعدنا اللہ
و رسولہ ؛یہ وہی وعدہ ہے جو خدا اور اسکے رسول نے میرے ساتھ کیا تھا ۔

حضرت علی (ع) چونکہ اس حالت میں نماز پڑھانے کی قوت نہیں رکھتے تھے اس لۓ
اپنے فرزند امام حسن مجتبی (ع) سے نماز جماعت کو جاری رکھنے کو کہا اور
خود بیٹھ کر نماز ادا کی ۔
علی ابن ابی طالب (ع)

روایت میں آيا ہے کہ جب عبدالرحمن بن ملجم نے سرمبارک حضرت علی (ع) پر
شمشیر ماری زمین لرز گئ ، دریا کی موجیں تھم گئ اور آسمان متزلزل ہوا
کوفہ مسجد کے دروازے آپس میں ٹکراۓ آسمانی فرشتوں کی صدائيں بلند ہوئيں ،
کالی گھٹا چھا گئ ، اس طرح کہ زمین تیرہ و تار ہو گی اور جبرئيل امین نے
صدا دی اور ھر کسی نے اس آواز کو سنا وہ کہہ رہا تھا: تھدمت و اللہ اركان
اللہ ھدي، و انطمست اعلام التّقي، و انفصمت العروۃ الوثقي، قُتل ابن عمّ
المصطفي، قُتل الوصيّ المجتبي، قُتل عليّ المرتضي، قَتَلہ اشقي
الْاشقياء؛ خدا کی قسم ارکان ھدایت منہدم ہوگئے علم نبوت کے چمکتے ستارے
کو خاموش کیا گيا اور پرہیزگاری کی علامت کو مٹایا گيا اور عروۃ الوثقی
کو کاٹا گيا کیونکہ رسول خدا(ص) کے ابن عم کو شھید کیا گيا۔ سید الاوصیاء
، علی مرتضی کو شھید کیا گيا، انہیں شقی ترین شقی [ابن ملجم ] نے شھید
کیا۔

اس طرح بھترین پیشوا ، عادل امام ، حق طلب خلیفہ ، یتیم نواز اور ھمدرد
حاکم ، کاملترین انسان ، خدا کا ولی ، رسول خدا محمد مصطفے (ص) کے
جانشین، کو روی زمین پر سب سے شقی انسان نے قتل کرڈالا اور وہ لقاء اللہ
کو جاملے ، پیغمبروں اور رسول خدا (ص) کے ساتھ ہمنشین ہوے اور امت کو
اپنے وجود بابرکت سے محروم کر گۓ .

حضرت علی علیہ السلام کی منزلت پیغمبر اسلام (ص) کی نظر میں

یا علی

حضرت علی علیہ السّلام کے امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول اکرم
(ص) ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر
کرتے رہتے تھے کبھی یہ کہتے تھے کہ »علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں«
.کبھی یہ کہا کہ »میں علم کاشہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے . کبھی یہ
کہا »آپ سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے . کبھی یہ کہا»علی کومجھ
سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی . کبھی یہ کہا»علی
مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یاسر کو بدن سے ہوتا ہے .,,

کبھی یہ کہ»وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں ,, یہاں تک کہ
مباہلہ کے واقعہ میں علی علیہ السّلام کو نفسِ رسول کاخطاب ملا. عملی
اعزاز یہ تھا کہ جب مسجدکے صحن میں کھلنے والے، سب کے دروازے بند ہوئے
تو علی کادروازہ کھلا رکھا گیا . جب مہاجرین وانصار میں بھائی کا رشتہ
قائم کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر نے آپنا بھائی قرار دیا۔
اور سب سے اخر میں غدیر خم کے میدان میں مسلمانوں کے مجمع میں علی علیہ
السّلام کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس طرح میں
تم سب کا حاکم اور سرپرست ہوں اسی طرح علی علیہ السّلام، تم سب کے
سرپرست اور حاکم ہیں۔ یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمام مسلمانوں نے علی علیہ
السّلام کو مبارک باد دی اور سب نے سمجھ لیا کہ پیغمبر نے علی علیہ
السّلام کی ولی عہدی اور جانشینی کااعلان کردیا ہے

مشہور عیسائی عالم اور دانشور جارج جرداق کی ندائی عدالت انسانی سے اقتباس
علی بن ابی ابیطالب-ع-
رات تاریک اور ڈراؤنی تهی، آسمان پر ابر سیاه محیط تها کبهی کبهی بجلی
چمک جاتی تهی جس کی روشنی گهٹا ٹوپ اندهیرے میں اجالا پهیلادیتی تهی،
عقاب اپنے گهونسلوں میں سرچهپائے سو رہے تهے کہ کل ان کے بال و پر جهڑ
جانے والے تهے اور وه سرور جہان کے غم میں سوگوار ہونے والے تهے.

امام (علیہ السلام)جاگ رہے تهے آنکهیں خواب سے محروم تهیں کیونکہ روئے
زمین پر دکھ کے مارے ظلم کے پنجے میں تهے اور ان کا جینا دوبهر ہورہا
تها. کچھ لوگ لہو و لعب اور سرکشی میں مبتلا تهے،قوت اور طاقت والے ایک
طرف ظلم و جور کا بازار گرم کئے ہوئے تهے اور کمزور اور ناتوان طاقتور کا
لقمہ بنے ہوئے تهے، آپ (علیہ السلام)کے دشمن شر و فساد میں ایک دوسرے کا
ہاتھ بتا رہے تهے، کچھ بدکار تهے جو تعصب و نافرمانی کے کاموں میں ایک
دوسرے کی محبت کا دم بهرتے تهے، کچھ خود کو آپ (علیہ السلام)کے یاران و
انصار میں سے جانتے تهے مگر انہوں نے حق کو ترک کردیا تها اور ایک دوسرے
کی مدد سے گریزان تهے.
علی بن ابی ابیطالب-ع-

امام (علیہ السلام)بیدار تهے آنکهوں نیند سے کوسوں دور تهی کیونکہ عدل و
انصاف سے منہ موڑ لیا گیا تها، نیکی کو خیر باد کہہ دیا گیا تها، عوام
الناس کی تقدیر فسادیوں کے ہاتهوں میں کهلونا بنی ہوئی تهی . خلائق کی
جان خونریز مفسدوں کے اختیار میں تهی اور روئے زمین پر نفاق کی بہتات
تهی.

امام جاگ رہے تهے نیند کے ذائقے سے محروم وه دنیا میں ہمیشہ حق و انصاف
کے مددگار اور دست و بازو رہے ، مصیبت زدوں اور پریشان حالوں کے لئے
بمنزلہ شفیق و مہربان بهائی تهے، ظالموں اور سرکشوں کے سروں پر مثل صاعقہ
تهے، آپ (علیہ السلام)اپنی زبان اور شمشیر دونوں سے ظالموں کے خلاف بر سر
پیکار رہے.

اس شب آپ (علیہ السلام)نے اپنی پوری زندگی پر نظر دوڑائی، بچپن ہی سے آپ
(علیہ السلام)کے ہاتھ میں شمشیر بُرّان رہی، مشرکین مکہ کے کلیجوں کو
سہائے رہے دین اسلام کی ترویج و اشاعت کی اور نور رسالت کی خدمت میں جان
لڑاتے رہے. آپ (علیہ السلام)نے شب هجرت تلواروں تلے محو خواب رہنا یاد
کیا، آپ (علیہ السلام)نے گذشتہ صعوبتوں اور لڑائیوں کا تصور کیا جہان آپ
(علیہ السلام)نے اپنے ایمان اور پیغمبر اسلام (صلی الله علیہ و آلہ و
سلم) کی محبت کی قوت سے قلعوں کو منہدم کردیا اور ہر خبیث کو جہنم واصل
کیا، مؤمنین آپ (علیہ السلام)کی ہر ضربت پر سجده شکر بجا لاتے اور زمین
کے بوسے لیتے تهے کیونکہ وه دیکهتے تهے کہ ظالم آپ (علیه السلام) سے یوں
بهاگ رہے ہیں جیسے تیز آندهی میں ٹڈیاں تتر بتر ہوجاتی ہیں.
علی بن ابی ابیطالب-ع-

اپنے ابن عم الله کے رسول (صلی الله علیہ و آلہ و سلم) کا تصور کیا جو
کمال شفقت و محبت سے آپ (علیہ السلام)کو دیکھ رہے تهے اور آپ (علیہ
السلام)کو کلیجے سے لگاکر فرما رہے تهے “یہ میرا بهائی ہے”.

پیغمبر خدا (صلی الله علیہ و آلہ و سلم) تشریف لائے اورآپ محو استراحت
تهے جناب سیده (سلام الله علیہا) نے آپ (علیہ السلام)کو جگانا چاہا تو
پیغمبر (صلی الله علیہ و آلہ و سلم) نے ارشاد فرمایا ” انہیں سونے دو کہ
انہیں میرے بعد طویل مدت تک خواب سے محروم رہنا ہے” اس پر جناب سیده
(سلام الله علیہا) روئیں اور روتی رہیں.

آپ (علیہ السلام)کی نظروں میں رسول الله (صلی الله علیہ و آلہ و سلم) کی
رحلت کا منظر گذر گیا آپ اس وقت 33 برس کے تهے. آپ (علیہ السلام)نے الله
کے رسول (صلی الله علیہ و آلہ و سلم) اور اپنے بهائی کو غسل کفن اور دفن
کا انتظام خود اپنے ہاتهوں سے کیا. آپ (علیہ السلام)ایک دائمی رنج و
اندوه طاری ہوگیا، جناب سیده (سلام الله علیہا) اپنے پدر عالی قدر کے غم
اور ان کے بعد کی مصیبتوں سے 75 یا 95 دن بعد ہی ان سے جاملیں، فرط غم
نے آپ (علیہ السلام)کی نیندیں اڑادیں.

آپ (علیہ السلام)نے اصحاب رسول (صلی الله علیہ و آلہ و سلم) کی صورتیں
یاد کیں جو یہ فقره ہر وقت دہراتے رہتے تهے ” کنا نعرف المنافقین فی عهد
رسول الله (صلی الله علیہ و آلہ و سلم) ببغض علی (علیہ السلام)

یعنی: عہد پیغمبر (صلی الله علیہ و آلہ و سلم) میں ہم منافقوں کو ان
(علی علیہ السلام) سے دشمنی سے پہچانا کرتے تهے، رسول الله نے ایک بار
نہیں بارہا یہ فرمایا تها: یا علی لا یبغضک الا منافق. یعنی: ای علی
(علیہ السلام) صرف منافق ہی آپ سے دشمنی کرسکتا ہے.

ان ہی لمحوں میں آپ (علیہ السلام)نے ان رفقاء اور انصار کو یاد کیا جو
پیغمبر (صلی الله علیہ و آلہ و سلم) کی زندگی میں میں ایک دوسرے کے
مددگار تهے، آج انہی میں سے کچھ لوگ آپ (علیہ السلام)کے ساتھ تهے اور کچھ
لوک حکومت کی طمع کئی بیٹهے تهے، وه پاک طینت و پاکباز اصحاب جو وفادار،
حق و عدل کے حمایتی اور نیکیوں کا قول و قرار کئے ہوئے تهے خداوندا ان پر
رحمتیں نازل فرما جو اس دنیا سے اجنبی اور بیگانہ تهے، انہوں نے حق کی
خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تها اور دشمنوں کے جور و ستم نے انہیں
زمین کی گہرائیوں میں پوشیده کردیا.

ابوذر غفاری رسول خدا (صلی الله علیہ و آلہ و سلم) کے بزرگترین صحابی جن
سے زندگی کی ذلت و اہانت برداشت نہ ہوسکی اور وه اس کے خلاف اٹھ کهڑے
ہوئے. وه معززترین انسان جس کی حق پرستی کی وجہ سے علی (علیہ السلام)کے
سوا ان کا کوئی دوست نہ رہا، ہائے کتنا اندوہناک انجام ہؤا ان کا؟ وه جی
جان سے حق کے سرگرم حمایتی رہے یہاں تک کہ انہوں نے عہد عثمان میں
مظلومین کی خاطر سارے بنو امیہ کے خلاف محاذ قائم کیا بنو امیہ کے ہاتهوں
ان کا غمناک انجام.

ایسے ہی ایک رات کچھ عرصہ پہلے علی (علیہ السلام)کے رفیق و جان نثار متقی
و پرہیزگار، غموں میں شریک بهائی صحابی رسول (صلی الله علیہ و آلہ و سلم)
عمار یاسر رضوان الله تعالی علیہ شہید ہوئے، ان کو باغیوں نے صفین کی
لڑائی میں شہید کیا تها ( بالکل اسی طرح جیسا کہ رسول الله (صلی الله
علیہ و آلہ و سلم) نے انہیں بشارت سنائی تهی کہ تقتلک فئة باغیة= تم کو
باغی گروه قتل کردے گا)

آج ظلم و جفا، جور و ستم سے خونین جنگ اور ہولناک لڑائی لڑنے علی (علیہ
السلام)اکیلے ره گئے تهے. یہ ایسی جنگ تهی جس میں حق ایک طرف یکہ و تنہا
تها، یہ جنگ تهی علی کی، جو دنیا کی نعمتیں اور آسائشیں دوسروں کے لئے
چاہتے تهے اور ان لوگوں کے درمیان موجود کچھ لوگ، رعیت کو کو سرسبز
زمینوں اور مرغزاروں سے نکال کر بے آب و گیاه بنجر لق و دق صحراؤں اور
باد سموم کی تندیوں میں دهکیلنا چاہتے تهے.

کل کا دن، وه دن جس کا علی (علیہ السلام)اپنے قلب و عقل سے تصور کررہے
تهے، اس رات کے بعد کوئی بهی برا آدمی حق کو معزز کرکے ترجیح نہ دے گا جب
کہ کذب سے اسے فائده پهنچنے کی امید ہو. اس رات کے بعد کوئی ایسا حاکم نہ
ہوگا جو لوگوں کے لئے بمنزلت باپ کے ہو، جو باطل کی لذتوں کے مقابلے میں
حق کے مصائب و آلام کو دوست رکهتا ہو. اس رات کے بعد ایسے قلب و عقل کا
وجود نہ رہے گا جو خلائق کے ساتھ عادلانہ برتاؤ کرے. حق پر عمل پیرا ہو،
چاہے پہاڑوں میں زلزلہ آجائے یا زمین کا سنہ شق ہوجائے- امیر المؤمنین
(علیہ السلام)دیر تک روتے رہے.

وقت گذرتا گیا، رات تاریک ہوتی گئی، ابن ابی طالب (علیہما السلام) نے
محسوس کیا کہ وہ دنیا میں اکیلے رہ گئے ہیں. ہائے زمین کیسی وحشت کی جگہ
اور اجنبی بیگانہ و فریب کی منزل ہے؟ آپ (علیہ السلام)نے دنیا پر اپنے
چشم دل سے نظر کی اور فرمایا ” اے دنیا میرے سوا کسی اور کو فریب دینا”.
علی بن ابی ابیطالب-ع-

ہائے کیا زندگی تهی علی (علیہ السلام)کی جو یا تو جہاد کرتے گذر گئی یا
مصائب و آلام جهیلتے کٹی-

علی (علیہ السلام)صحن سے مسجد کی طرف روانہ ہوئے، آسمان قطرہ ہائے اشک
برسا رہا تها طائروں پر حزن و اندوه طاری تها. ابهی آپ صحن مسجد تک نہ
پهنچے تهے کہ بطخیں آپ کی طرف دوڑ کر چیخنے چلانے لگیں اور ان کے ساتھ
صبح کی برفیلی ہواؤں نے بهی فریاد و زاری کی صدائیں بلند کیں، نمازی سکوت
اور خاموشی کے ساتھ آپ (علیہ السلام)کی طرف بڑھے انہوں نے بطخوں کو امام
(علیہ السلام)کے پاس سے ہٹانا چاہا مگر نہ تو بطحیں آپ کے پاس سے دور
ہٹیں اور نہ ہی انہوں نے چلانا بند کیا. ہوا بهی سنسنا رہی تهی گویا یہ
سب اس مصیبت سے باخبر تهے جو جناب امیر (علیہ السلام)کی دنیا میں آخری
مصیبت ہوگی.

امیر المؤمنین (علیہ السلام)نے ان چیختی چلاتی بطخوں کی آوازوں کو غور سے
سنا اور لوگوں کی طرف مڑ کر فرمایا: انہیں نہ ہٹاؤ یہ نوحہ کرنے والیاں
ہیں. آپ (علیہ السلام)کا یہ جملہ آنے والی مصیبت کی پیشین گوئی تها، آپ
(علیہ السلام)نے محسوس کیا کہ ایک دور دراز کا سفر شروع ہؤا چاہتا ہے.آپ
تهوڑی دیر تک مسجد کے دروازے پر ٹہرے، ان بطخوں کی طرف نظر کی اور حاضرین
کی طرف رخ کرکے کئی بار یہ فقره دہرایا “لا تزجروهن انهن نوائح” (= انہیں
نہ ہٹاؤ یہ نوحہ کرنے والیاں ہیں)

علی (علیہ السلام)مسجد میں آئے رب العزت کے حضور سر جهکایا- ان ملجم زہر
الود تلوار ہاتھ میں لئے آیا اور حضرت کے سرپر وار کیا کہ جس کے متعلق اس
کاکہنا تها کہ اگر یہ وار سارے شہر کے باشندوں پر پڑے تو ایک شخص بهی
زنده نہ بچے.

خدا کی لعنت ہو ابن ملجم پر اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو اس پر،
اس پر دنیا میں ہر آنے والے اور دنیا سے ہر جانے والے کی لعنت ہو. ہر اس
شخص کی لعنت ہو جو خدا کے حکم سے پیدا ہؤا. خداوند عالم ابن ملجم پر ایسی
لعنت کرے کہ وہ لعنت دریاؤں پر پڑے تو وہ خشک ہوجائیں، کهیتوں پر پڑے تو
وه نیست و نابود ہوجائیں اور سرسبز پودوں کو زمین کے اندر ہی جلا کر راکھ
کردے. جہانوں کا خالق و مالک جہنم کے بهڑکتے شعلے اس پر مسلط فرمائے اور
اسے منہ کے بل جہنم میں دال دے. اس جگہ جہاں آگ کے شعلے لپک رہے ہوں اور
قہر الہی کا جوش و خروش ظاہر کررہے ہوں.

محبان علی (علیہ السلام)کو عظیم ترین صدمہ پهنچا، زمانے نے علی (علیہ
السلام)پر گریہ کیا، اور آنے والے صدیان بهی علی (علیہ السلام)پر گریہ
کریں گی. دنیا کی ہر چیز شکستہ و اندوہگین ہوئی سوائے علی ابن ابی طالب
(علیہما السلام) کے جن کا چہرہ ہشاش بشاش تها. آپ (علیہ السلام)نے نہ
انتقام کی خواہش ظاہر کی نہ غیظ و غضب کا اظہار کیا بلکہ ” فزت برب
الکعبة” کہہ کر اپنی کامیابی کا اعلان فرمادیا. لیکن آپ (علیہ السلام)کے
چہرے کی بشاشت تمام مصائب و آفات سے بڑھ کر اندوہناک تهی اس وقت آپ کا
چہره سقراط کے چہرے سے مشابہ تها جس وقت جاہل اورنادان عوام نے اسے زہر
پلایا تها، عیسی ابن مریم (علی نبینا و آلہ و علیہ السلام)کے چہرے جیسا
تها جب کہ قوم یہود آپ (علیہ السلام)کو کوڑوں سے اذیت پهنچا رہے تهے،
محمد مصطفی (صلی الله علیہ و آلہ و سلم) کے چہرے جیسا تها جب آپ (صلی
الله علیہ و آلہ و سلم) پر طائف کے نادان پتهر برسا رہے تهے اور یہ نہ
سمجھ رہے تهے کہ ہم کس بزرگترین ہستی کو یہ پتهر مار رہے ہیں.
علی بن ابی ابیطالب-ع-

کوفہ کا سب سے بڑا طبیب حاذق اثیر بن عمرو ہانی آیا اور زخم کے معائنے کے
بعد اس نے مأیوسی کا اظہار کیا، آپ نے حسن اور حسین (علیہما السلام) کو
اپنے پاس بلاکر وصیتیں فرمائیں جن میں سے چند جملے یہ ہیں:

” میرے قتل کی وجہ سے ہنگامہ یا خونریزی نہ کرنا، اپنے پڑوسیوں کا لحاظ
کرنا، فقراء اور مساکین کا خیال رکهنا اور انہیں بهی

ایس ایچ بنگش

SHARE

LEAVE A REPLY