اکیس رمضان المبارک۔یوم شہادت علی علیہ السلام

0
51

مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت خوارج کے ہاتھوں ہوئی۔ یہ وہی گروہ ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں شامل تھا۔ بعد میں اس پارٹی میں اختلافات پیدا ہو گئے اور خوارج نے اپنی جماعت الگ بنا لی۔ باغی پارٹی کے بقیہ ارکان بدستور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد و پیش میں موجود رہے تاہم ان کی طاقت اب کمزور پڑ چکی تھی۔

تین خارجی ابن ملجم، برک بن عبداللہ اور عمرو بن بکر تیمی اکٹھے ہوئے اور انہوں نے منصوبہ بنایا حضرت علی، معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں قتل کر دیا جائے۔ انہوں نے اپنی طرف سے اپنی جانوں کو اللہ تعالی کے ہاتھ فروخت کیا، خود کش حملے کا ارادہ کیا اور تلواریں زہر میں بجھا لیں۔ ابن ملجم کوفہ آ کر دیگر خوارج سے ملا جو خاموشی سے مسلمانوں کے اندر رہ رہے تھے۔ اس کی ملاقات ایک حسین عورت قطامہ سے ہوئی ، جس کے باپ اور بھائی جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔ ابن ملجم ا س کے حسن پر فریفتہ ہو گیا اور اسے نکاح کا پیغام بھیجا۔ قطامہ نے نکاح کی شرط یہ رکھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا جائے۔

روایت میں آیا ہے کہ آپ اس رات بیدار تھے اور کئی بار کمرے سے باہر آ کر آسمان کی طرف دیکھ کر فرماتے تھے :خدا کی قسم ، میں جھوٹ نہیں کہتا اور نہ ہی مجھے جھوٹ کہا گيا ہے ۔ یہی وہ رات ہے جس میں مجھے شھادت کا وعدہ دیا گيا ہے ۔

بہر حال نماز صبح کیلۓ آپ کوفہ کی جامعہ مسجد میں داخل ہوئے اور سوئے ہوے افراد کو نماز کیلۓ بیدار کیا، من جملہ خود عبد الرحمن بن ملجم مرادی کو بیدار کیا جو پیٹ کے بل سویا ہوا تھا ۔اور اسے نماز پڑھنے کوکہا ۔

جب آپ محراب میں داخل ہوئے اور نماز شروع کی تو پہلے سجدے سے ابھی سر اٹھا ہی رہے تھے کہ عبد الرحمن بن ملجم نے اپنی شمشیر سے حضرت علی کے سر مبارک پر حملہ کیااور آپ کا سر سجدے کی جگہ( ماتھے ) تک زخمی ہوگیا .

۔ آپ نے ابن ملجم کو پکڑ لیا اور فرمایا کہ ’’اگر میں زندہ رہا تو اسے خود سزا دوں گا اور مناسب فیصلہ کروں گا اور اگر جانبر نہ ہو سکا تو اسے قتل کردینا‘‘۔ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ۲۰/ رمضان ۴۰ ھ کو آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ اس طرح آپ خانۂ کعبہ میں پیدا ہوئے اور مسجد میں اپنے رب سے جا ملے۔ جب قاتل نے آپ کو تلوار ماری تو اس وقت آپ نے بلند آواز میں کہا کہ ’’رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا‘‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY