اسلام اور حقوق العباد۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی

0
84

شروع کرتا ہوں اس کے نام سے جو بڑا رحیم اور برکتوں والا ہے۔ اس کتاب کی داستان بڑی طویل ہے۔ ابتدا یہ ہے کہ میری نانی مرحومہ حمیدا لنساءبیگم (رح) جوکہ ولی صفت خاتون تھیں وہ ہمیشہ مجھ کو یہ ہی نصیحت فرماتی تھیں کہ بیٹا! ہمارے نبی (ص)ہمہ صفت تھے تم بھی ایسے ہی بننا اور اس طرح انہوں نے ا ن جیسا بننے کی دل میں جوت جگادی اسکے لیے قرآن اورحضور (ص) کی سیرت پڑھنے کا شوق پیدا ہوا پھر پوری اسلامی تاریخ پڑھی۔ مختصراً یہ کہ پھر یہ آیت راہنما بنی کہ “ جو اسکی راہ میں آگے بڑھتا ہے اللہ اس کی راہ آسان کردیتا ہے“ اس نے مجھے ہر طرح نوازا سب سے پہلے 1944 ءمیں حضرت نسیم انہونوی (رح) نے ہمت افزائی فرمائی اور اپنے پرچہ“ حریم لکھنئو “ میں جوکہ اس دورمیں خواتین کا بہت ہی باوقار مذہبی ماہنامہ تھا لکھنا شروع کیا پھر ایک طویل سفر طے کرتا ہوا جب میں کنیڈا پہونچا تومیں اپنے تمام فرائض سے فارغ ہوچکا تھا اور اللہ سے کیا ہوا وہ وعدہ نبھانے کا وقت آگیا تھا کہ “ جب میں اپنے فرائض سے فارغ ہوجا ؤنگا تو میں صرف انسانیت اور تیرے دین کی خدمت کرونگا۔ وینکور اپنا وطن بنایا اور ٹورنٹو اپنے بیٹے کے پاس جانا ہوا تو“ پاکیزہ ٹورنٹو “ کے ایڈیٹر جناب صبیح منصور (رح) سے ملا قات ہوئی جو ملت کا بے انتہا درد رکھتے تھے وہ اس کتاب کے چند اوراق کو دیکھ کر پھڑک اٹھے جس کو میں نے اپنی بیگم قریشہ جیلانی (مرحومہ) متواتر تقاضوں پر لکھا تھا اور انہیں کے نام سے موسوم بھی کیا تھا۔کہنے لگے کہ یہ تو بالکل میرے دل کی آواز ہے میں اسے قسط وار شائع کرونگا !مگر آپ مجھ سے چار ہزار کلومیٹر دور قیام پذیر ہیں وعدہ کریں کہ آپ وہاں سے اسے باقاعدگی سے بھیجتے رہیں گے۔ میں نے عرض کیا کہ مسلمان کبھی جھوٹا وعدہ نہیں کرتا؟ یہ سلسلہ شروع ہوا ور کبھی انہیں شکایت کاموقعہ نہیں دیا اللہ نے انہیں اپنے یہاں بلالیا مگر اسی دوران میرا رابطہ جناب صفدر ھمدانی جیسے ملت کا درد رکھنے والے انسان سے ہوگیاجوکہ اتحادِ بین المونین پر یقین رکھتے ہیں ا نہوں نے بھی عالمی اخبار میں میری بہت سی کتابیں قسطوار شائع کیں اب اس کی باری ہے۔ اس کتاب کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس کی رونمائی اپنے دور کے عالم با عمل حضرت مولانا وصی مظہر ندوی (رح) کے ہاتھوں انجام پائی۔ جنہوں نے بطور مئیر حیدر آباد سندھ اور پاکستان کے مرکزی وزیر اوقاف اور مذہبی امور، اپنے کردار سے چند عشرے پہلے یہ ثابت کرکے دکھایا کہ اسلام آج بھی قابل عمل ہے اور مسلمان حکمرانوں کو کیسا ہونا چاہیئے؟ وہ مجھ پر بہت مہربان تھے میراانکا ساتھ چالیس برس سے زیادہ رہا یہ ہی وجہ ہے کہ نہ صرف اس کتاب کا مقدمہ انہوں نے تحریر فرمایا بلکہ اس کی رونمائی کا شرف 2002ء میں، بمقام سینٹرل لئبریری ہال تورنٹو کنیڈا عطافرما یا جس سے مجھ ناچیز کی مزید ہمت افزائی ہوئی۔ جوکہ بطورِ تبرک ہدیہ قارئین ہے۔
“ د ل نشین اندازِ بیان“
اسلام کے بارے میں جب ہم کوکچھ کہنے یالکھنے کا موقع ملتا ہے توہم اپنی تحریر یا تقریر کے ذریعہ اکثر اپنی قابلیت اور دھونس جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔یاتو سیاسیات اور معاشیات کی بحثوں میں الجھے رہتے ہیں، یافرقہ وارنہ اختلافات اور فقہی موشگافیوں کواپناموضوع گفتگو بناتے ہیں ۔ مگر عام مسلمان ہماری ان تحریروں اورتقریروں میں بہت کم دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ بس فرقہ وارانہ فرقوں میں الجھے لوگ اپنے “پہلوان سخن “کو اپنے کندھوں پر اٹھائے لیئے لیے پھرتے ہیں۔اور ان عقیدت مندوں کے نذرانوں سے ہمارے ان وعظین اور مبلغین کی دنیا وی زندگی کے مسائل نا قابل رشک طریقہ ِپر اچھی طرح حل ہوجاتے ہیں۔
مگر ہمارے دوست جناب شمس جیلانی صاحب چونکہ اپنے احساسات کو نظم اور نثر میں بخوبی پیش کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ عملی انسان ہیں۔ اپنا شاندار ماضی رکھنے کے باوجود محض اپنے ماضی پر تکیہ کرنے کے بجا ئے خود اپنا جہاں آپ پیدا کرنے کے ا صول پر عمل پیرا ہیں۔اس لئے ان کو جب کنیڈا کے ایک مقبول نہایت قدیم ہفت روزہ اردو اخبارمیں اسلام کے بارے میں لکھنے کا موقعہ ملا توانہوں نے کینیڈا کے معاشرے اور یہاں آکر آباد ہونے والے اردوداں مسلمانوں کے حالات اور مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے جوسلسلہ ءمضامین شروع کیا وہ مکمل طور پر عملی زندگی سے تعلق رکھتا ہے اس سلسلہ ءمضامین میں عقائدو عبادات اور معاشرت کے معاملات کے صرف ان پہلووں کو اجاگر کیاگیا جن کا تعلق عملی زندگی کی ا صلاح سے ہے۔ مجھے اس سلسلہ مضامین میں نگاہ ڈالنے کاجو موقعہ ملا میں اس کی روشنی، میں یہ بات بلا خوف ِتردید کہہ سکتا ہوں کہ جناب شمس جیلانی نے نہایت دردمندی اور دل سوزی ساتھ ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کی نشان دہی کی ہے۔ اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان سے نجات پانےکے طریقوں کو دل نشین انداز میں بیان کیا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب یہ سلسلہ ءمضامین کتابی شکل میں شائع ہورہا ہے۔اس طرح اس کی افادیت میں انشاءاللہ بہت اضافہ ہو گا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کومقبول اورنافع بنائے اور کتاب کے موءلف نیزاس کی اشاعت میں کسی طور حصہ لینے والوں کو ان کی نیت کے مطابق اجر ِ عظیم سے نواز ے۔آمین
(مولانا ) سید وصی مظہر ندوی

SHARE

LEAVE A REPLY