کینیڈامیں دو عیدیں ایک ساتھ۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی

0
59

آپ یہ عنوان دیکھ کر پریشان ہو رہے ہونگے کہ ہمارے لیے یہ کوئی انہونی بات تو نہیں ہے وہ تو ہم ماشاءاللہ ہر سال ہی دو تین تک کرتے ہیں،ہاں! کبھی سب ایک ہی دن عید منائیں تو حیرت کی بات ہوگی؟ اصل میں وہ بات نہیں ہے جو آپ سمجھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا کالم ہفتہ میں ایک ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ ہم تعداد پر یقین نہیں رکھتے بلکہ معیار پر یقین رکھتے ہیں۔ اور گھاس کاٹنا ہماری عادت نہیں ہے؟ اس دفعہ ایسا ہو ا کہ ایک ہی ہفتہ میں دو عیدیں آگئیں ایک تو آپ سب ہی جانتے ہیں جو روزے رکھ رہے ہیں یانہیں رکھ رہے ہیں ،تو بھی؟ اب آپ پھر پوچھیں گے کہ روزے کیوں نہیں رکھ رہے ہیں اور کیا وہ بھی مسلمان ہیں جو روزے بغیر کسی شرعی عذر کے نہیں رکھ رہے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ یہاں ایک مفتی صاحب آئے تھے۔برسوں پرانا رمضان کاکلینڈر تبدیل کرکے نیا دے گئے ،جس میں سحری کچھ اور پہلے کردی ۔ جبکہ حضور (ص) نے اس شکایت پر کہ وہ“ نماز با جماعت“ میں بڑی سورتیں پڑھتے ہیں، ایک جید صحابی (رض) کو سرزنش بھی کی تھی کہ “ کیا تم اسلام سے لوگوں کو بھگانا چاہتے ہو! لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو مشکلات نہیں “مگر وہ شاید انکی نظر سے نہیں گزری؟ اب ہمارے ہاں کسی کی ہمت نہیں پڑ رہی ہے کہ وہ اس برائی کو ختم کرسکے اور روزہ وینکور اور اس کے اطراف میں 19 گھنٹے کا ہو گیا ہے۔ رہا امت میں اختلاف وہ کچھ اور بھی بڑھ گیا ہے اب ایک کے بجا ئے تین کلینڈر استعمال ہورہے ہیں, جبکہ کچھ نے روزے ہی رکھنا چھوڑ دیئے ہیں۔ آپ پھر پوچھیں گے کہ آپ تو پوری دنیا میں پڑھے جاتے ہیں۔ یہ مقامی مسئلہ آپ کے کالم میں کیوں؟ وہ اس لیے کہ امت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور ہمیں ا س میں مسلم امہ کے لیئے یہ سبقِ عبرت نظر آیا کہ بھائی جیسا چلتا ہے ویسے ہی چلنے دو ،برائی کی ابتدا تو کی جاسکتی ہے بھلائی کے نام پر۔ لیکن اسے ختم کر نے کے لیے “ اجمائے امت چاہئے “جو ہمارے یہاں سرے سے موجود ہی نہیں ہے جیسے ایک ملک نے بزعم خود پوری دنیا کو“ بدعت“ سے تو ہٹادیا اب وہ شدت پسند بن گئے ہیں اور بنانے والوں کے بھی کنٹرول میں نہیں ہیں۔ یہاں بھی یہ ہی ہوا کہ بہت سے لوگوں نے روزے ہی چھوڑ دیئے ؟ بہر حال جنہوں نے رکھے انہیں بھی روزے مبارک ،جنہوں نے نہیں رکھے انہیں بھی عید مبارک ۔
یہ تو تھی پہلی عید اب دوسری عید جو کنیڈین کے لیے عید ہے کہ وہ اسی ہفتہ کے اختتام پراپنا ایک سو پچاسواں یوم آزادی منا رہے ہیں اور ہمارے قارئین کا تقاضہ ہے کہ ہم دونوں پر لکھیں۔ ہم انہیں مایوس نہیں کرنا چاہتے لہذا س پر بھی لکھ رہے ہیں۔ اس لیے کہ ہم کینڈین ہیں، اس پر ہمیں فخر بھی ہے پھر اسلام میں احسان کا بدلہ احسان ہے! جبکہ آجکل ساری دنیا “اسلام فوبیہ“ کو پھیلانے پر لگی ہوئی ہے لیکن یہ دنیا کا واحد ملک ہے جو اپنے آپ کواپنی پالیسی کی بنا پر “ ملٹی کلچرل “ کہلا تا ہے اور جو کہتا ہے وہ اس پر عمل بھی کرتا ہے۔ جبکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت یعنی بھارت جیسا ملک جوکہ سکولرازم کے نام پر بنا تھا۔وہ بھی ا پنا چولہ اتار کر پھینک چکا ہے۔ مگر کنیڈا اس کے لیے تیار نہیں ہے وہ اس پر قائم ہے کہ“ جان جائے مگرآن نہ جائے“ لہذا سب سے پہلے تو اس نے یہ کیا کہ اپنی سرحدیں آنے والوں کے کے لیئے بند نہیں کیں ، دوسرا کام یہ کیاکہ پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کردیا ، جس میں کسی قسم کی بھی نفرت پھیلانا جرم قرار دیدیا ۔حالانکہ ایسے ہی قانون بہت سے ملکوں میں نافذ ہیں مگر بس اتنی سی بات ہے وہ ان پر عمل نہیں کرتے؟ مگر یہ ملک ان کے برعکس ہے کہ یہاں کوئی جرم کرے تو بغیر سزا کے بچتا نہیں ہے؟ لہذا جب سے یہ قانون بنا ہے کوئی جرم ہوابھی نہیں، خدا کرے کہ اس ا نصاف اورامن پسند ملک میں امن رہے (آمین) ۔دوسرے یہ کہ اس سال بھی ممبران پارلیمان نے باقاعدہ رمضان المبارک کے آنے پر مسلمانوں کو اخبارات کے ذریعہ مبارک باد دی۔جبکہ حکومت نے پہلی دفعہ عید پراستعمال کرنے کے لیئے “ عید مبارک “ کے پوسٹل اسٹامپ رمضان میں جاری کردیے۔جس کے لیے نہ صرف رائٹ آنر ابیل جسٹن ٹریڈو ، انکی لبرل حکومت قابل ِ مبارکباد ہیں بلکہ کنیڈین عوام بھی قابل ِ ستائش ہیں جوا س مسئلہ پر پوری طرح اپنی حکومت کے پیچھے کھڑے ہیں ۔ لہذا انہیں بھی ایکسو پچاسواں سال ِ آزادی مبارک ۔ اور اس میں مسلمانوں کو بھی جوق در جوق حصہ لینا چایئے کہ وہ اسلام کے یہاں سفیر ہیں، جسے انہیں اپنے بہترین کردار سے بھی اچھے شہری بن کر ثابت کرنا چاہیئے؟

SHARE

LEAVE A REPLY