پین یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ شام ڈھلتے ہی کھانا نہ کھانا جسمانی وزن میں اضافے، فیٹ میٹابولز، اور امراض قلب سمیت ذیابیطس کا خطرہ بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران دو ماہ تک صحت مند افراد کے غذائی اوقات کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ رات گئے کھانا کھاتے ہیں، ان میں انسولین کی مزاحمت، کولیسٹرول میں اضافہ اور ٹرائی گلیسیڈر کی سطح بدتر پائی گئی۔

اسی طرح ہارمونز کے نظام میں بھی منفی اثرات دیکھنے میں آئے اور بھوک کو بڑھانے والے ہارمون کی سطح میں تاخیر سے اضافہ دیکھا گیا۔

تحقیق کے مطابق نیند میں کمی کے اثرات تو جسمانی وزن اور میٹابولزم پر پڑتے ہی ہیں مگر رات گئے کھانا بھی صحت کے لیے فائدہ مند نہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ شام میں جلد کھانے سے مختلف امراض کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے جبکہ جسمانی توانائی اور ہارمونز کے نظام کو بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں تاخیر سے کھانا جسم میں گلوکوز اور انسولین کی مقدار بڑھاتا ہے جو کہ ذیابیطس جیسے مرض کا باعث بن سکتا ہے جبکہ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسیڈر امراض قلب، فالج اور ہائی بلڈ پریشر جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھانے والے عوامل ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY