عزیزی دوست ثروت حسین رضوی تمہاری محبتیں سدا ثمر بار رہیں ۔۔
میں اکثر سوچتی تھی محبت کیا ہے ؟ ۔۔۔
میں شاید کبھی نا سمجھ پاتی جو میں دوستوں ، مریضوں اور جانوروں سے نا ملتی ۔ مجھے لگتا ہے جو محبت کو سجھیں گے توہی کر پائیں گے ورنہ محبت صرف شکایت اور گلہ ہے ۔
مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے ۔ ایک دفعہ کیاہوا میں ایمرجنسی میں ڈیوٹی پر تھی ۔ کال آئی کہ ایک عورت ہے جو بے تکان بول رہی ہے اور اس کو دوا دینا نا ممکن سا ہو رہا ہے ۔۔۔ میں دوڑ کر ایمرجنسی وارڈ میں پہنچی کیا دیکھتی ہوں ایک خوبصورت عورت “ ٹینا “جس کی عمر کوئی 35 برس کی ہو گی مسلسل اپنے شوہر “ ڈیوڈ“ سے طلاق مانگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اور جازب نظر ڈیوڈ خاموشی سے ایک طرف کھڑا تھا ۔۔۔
سیکورٹی اسٹاف کی مدد سے ٹینا کو دوا دے کر سلا دیاگیا ۔۔ وہ وارڈ میں ایڈمٹ بھی ہو گئی ۔۔ ڈیوڈ روزانہ ملاقات کے وقت اس کے لیئے اس کی پسند کا کھانا اور اس کے کپڑے استری کر کے ہینگر پر لٹکا کر لاتا تھا ۔۔۔۔اس برس ٹینا کئی بار ایڈمٹ ہوئی تھی ۔۔ اس بار فیملی انٹرویو میں مجھ سے نا رہا گیا ۔۔ کہہ ہی دیا “ ڈیوڈ تم اس عورت کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے “ ۔ اس نے پہلے بے یقینی سے میری طرف دیکھا پھرمسکرا کر کہا ” ٹینا میری بیوی بعد میں پہلے یہ میری محبت ہے ۔۔ میرے بچوں کی ماں ہے ۔۔ آپ اسے میری نظروں سے دیکھئے دنیا کاہر حسن ٹینا میں نظر آئے گا ۔۔ آج اگر بیمار ہے تو کیا ہوا ۔۔۔ محبت کو اس سے کیا غرض ” ۔۔۔ ” ڈیوڈ جب کہہ رہا تھا اس کے چشم تصور میں یقینا ٹینا کا چہرہ ہوگا جبھی تو اس کی آنکھوں میں نمی محبت کی صورت چھلک رہی تھی ” ۔۔۔ اور جب ٹینا زہنی طور پر ٹھیک ہو جاتی تھی تو وہ ڈیوڈ کے گرد ایسے گھومتی جیسے چاند کے پیچھے چکور ۔۔۔۔۔ محبت اپنے وارث کو ڈھونڈ ہی لیتی ہے ۔ ڈیوڈ نے کتنا اچھا کہا تھا “ محبت کوبند دروازوں سے فرق نہیں پڑتا ۔۔“
محبت صرف تابعداری ہے ۔۔۔جیسے ہم اپنے پالتو جانوروں کی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ صرف محبت ۔۔ خالص محبت ۔۔۔ بے لوث کسی توقع صلے کے بغیر ۔۔صرف ایسی محبت ہی اپنے یقین کے ساتھ پر سکون سی ہو کر ایک جگہ ٹھہر جاتی ہے ۔۔ ہتھیار ڈال دیتی ہے ۔۔ انسان کو محبت کا تابعدار اور وارث بنا دیتی ہے ۔
میری خوش نصیبی ہے کہ میں نے محبت کو مجسم دیکھا ہے ۔۔ آمنے سامنے بیٹھ کر ہمکلامی کی ہے ۔۔ میں نے محبت میں تہذیب اور تہذیب میں محبت دیکھی ہے ۔محبتوں کی میراث بھی تو نسل در نسل چلتی ہے ۔ جبھی تو آفاقی محبتوں کی وارثت آفاقی ہستیوں کی تہذیب میں پنہاں ہے۔
میری دوست ڈاکٹر ثروت حسین رضوی محبت کی اسی تہذیب کا ایک کرشماتی تسلسل ہے ۔ میری بات کی دلیل ثروت کو ماہ رمضان میں روزانہ ایک نئی نعت مبارکہ اور ایک نئی منقبت آل بیت کا عطا ہونا ہے ۔ یہ وراثت بغیر محبت اور تابعداری کے ممکن ہی نہیں ۔ ایسی محبت جس کو بند دروازوں سے فرق نہیں پڑتا ۔۔ جو اپنا وارث ڈھونڈ لیتی ہے ۔
عزیزی دوست ثروت اللہ پاک سے دعا گزار ہوں تمہاری محبتیں سدا ثمر بار رہیں اور میں بعد از حیات بھی اپنی خوش نصیبی پر نازاں رہوں کہ تمہاری دعاؤں میں ہوں ۔ الہی آمین
تمہاری محبتوں کی نذر ۔۔۔
قطعہ
آج تک میں نے جو لکھا ہے محبت لکھا
صبر کو عشق کے میزان کی طاقت لکھا
لکھنا چاہا ہے کبھی میں نے جو نگہت تہذیب
بے دھڑک نام فقط ایک ہی ثروت لکھا
ڈاکٹر نگہت نسیم
انتیس جون دوہزار سترہ
سڈنی ، آسٹریلیا

SHARE

LEAVE A REPLY