گزشتہ دنوں عراق کے شہر موصل میں نام نہاد دولت اسلامییہ داعش کیطرف سے صدیوں پرانی نوری مسجد کی شہادت نے داعش کے چہرے پر پڑی اسلامی لبادے کی آخری نقاب الٹادی ہے لیکن اگر بقول قرآن کوئی عبرت حاصل کریں۔۔

پوری دنیا میں مدینتہ الرسول ص میں آٹھ شوال یوم انہدام جنت البقیع کے حوالے سے یوم سیاہ یعنی نوے سال پورے ہونے پرسالانہ احتجاج کے لئے تیاریاں جاری ہیں تو دوسری طرف گزشتہ سال مدینہ منورہ روضہ رسول ص کے جنت البقیع گیٹ پر حملے نے مقامات مقدسہ کے خلاف برسر پیکار یہودی لابی کے زیر اثر تکفیری نظریات کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔۔۔عالم اسلام کے لئے کعبتہ اللہ مکہ کے بعد دوسری اہم روحانی مرکز مدینہ منورہ روضہ رسول ص کے جنت البقیع گیٹ پر حملے نے اگر ایک طرف دنیا بھر میں مسلمانوں کے دلوں کو مغموم کردیا ہے تو دوسری طرف مقامات مقدسہ کی حفاظت کی بحث چھیڑ دی ہے۔۔۔۔مدینہ منورہ اور مقامات مقدسہ پر حملہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ نوے برس پہلے سن انیس سو چھبیس میں بوڑھے استعمار برطانیہ کی مدد سے مقدس سرزمین مکہ و مدینہ پر ایک نجدی وہابی خاندان آل سعود کی مدد سے قبضہ کرکے مقدس سرزمین مکہ و مدینہ کے صدیوں سے رائج نام حجاز مقدس کو اس ڈکٹیٹر خاندان کے نام آل سعود کی نسبت سے سعودی عرب رکھنے کے بعد مقامات مقدسہ کی تباہی شروع ہوئی۔ آل سعود نے صرف مقدس نام کی تبدیلی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مکہ میں جنت المعلی اور مدینہ میں جنت البقیع کے مقدس مقامات کو تاراج و شہید کرنے کے بعد اگلا اقدام روضہ رسول ص کو مسمار کرنا تھا (کیونکہ آل سعود ککے تکفیری وہابی نظرئے کے مطابق مقامات مقدسہ کی زیارات شرک و بدعت ہیں)، لیکن روضہ رسول ص کی مسماری کی خبر اس وقت کے اسلامی دنیا بالخصوص مصر سیریا عراق ایران اور برصیغر پاک و ہند کیونکہ اس وقت انڈیا پاکستان و بنگلہ دیش کا وجود نہیں تھا اور ساتھ ہی افغانستان کے مسلمانوں کے احتجاج اور آل سعود کے خلاف بغاوت کے خدشے پرآل سعود نے روضئہ رسوؒ ص کی مسماری کی منصوبہ ڈر کے مارے موخر کردیا۔۔۔لیکن آج تک آل سعود کے بانی ڈکٹیتڑز سے لیکر ان کے سرکاری مفتیوں کا یہ عقیدہ و فتوی بدستور موجود ہے کہ آل رسول ص بالخصوص روضہ رسول ص اور مقدس مقامات کی تباہی جائز اور باعث ثواب ہے۔۔۔اسی تکفیری و وبابی نظرئے سے دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیمں طالبان القاعدہ سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی اور حالیہ فتنہ داعش وجود میں آیا اور گزشتہ نوے برس میں ان تنظیموں کی نظریات کی جڑ اور ان کی معاونت آل سعود کر رہی ہے جس کی تازہ ترین شکل انہی نظریات کے حامل سعودی شہری کا مدینہ منورہ پر حملہ ہے۔
آل سعود کے خاندان بادشاہوں اور مفتیوں کے فتوی جات کہ نعوز باللہ روضئہ رسول ص مسمار و تباہ کرنا جائز ہے اس کی ایک دستاویز ثبوت یہاں اہلسنست کے عالمی ویب سائٹwww.najd2.wordpress.com سے قارئین کے لئے اٹیچ کی جارہی ہے۔۔۔اور سب سے بڑی ثبوت یہ کہ مدینہ منورہ پر حملے کے بعد آل سعود کے وزارات داخلہ و وازراے خارجہ کی طرف سے مسلسل کئی گھنٹے اس بات کو چھپانے کی کوشش اور اس کی تردید کرنا عالم اسلام کے آنکھوں میں دھول جونکھنے کی کوشش لیکن آل سعود کی یہ کوشش روضئہ نبی ص پر موجود عینی شاہدین اور زائرین نے آنکھوں دیکھا حال اور موبائل فون ویڈیوز سے بے نقاب کردیا وگرنہ آل سعود نوے سال پہلے جنت البقیع و جنت المعلی کے مقامات مقدسہ کی تباہی کی طرح یہ جنایت و ظلم بھی چھپانا چاہی تھی، لیکن اللہ اور رسول ص نے آل سعود کی جنایت و خیانت کو دنیا بھر پر عیاں کردیا۔

آجکل میڈیا پر مقامات مقدسہ کے لئے خطرہ اور تحفظ حرمین کے نام پر پاکستان میں حقائق کے برعکس پروپیگںڈے کا ایک بازار گرم ہے۔۔حالانکہ محقیقین کی تحقیق اور ماضی کے اقدامات سے یہ بات واضح ہے کہ مقامات مقدسہ کو حقیقی خطرہ کہاں سے ہے اور کس کس سال میں مقامات مقدسہ کو نقصان پنچا کر اسلامی ورثہ پامال کیا گیا ہے۔۔۔اسلئے میڈیا کو حقائق اور ثبوتوں پر مبنی بین القوامی محقیقن کےاس تحقیقی کام جس کے لنکس یہاں دئیے جا رہے ہیں اس پہلو کو بھی قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہئے اور فیصلہ قارئین پر چھوڑنا چاہپئے کہ مقامات مقدسہ کے لئے اصل خطرہ کون ہیں؟

تحقیق کے مطابق مقامات مقدسہ کی سرزمین مکہ و مدینہ کا اصل نام حجاز تھا۔اور یہ نام پیغمبر ختمی المتربت حضرت محمد ص کے زمانے سے صدیوں تک رائج رہا۔۔لیکن بیسیویں صدہ کے آغاز میں تکفیری نظریے کی حامل ایک خاندان آل سعود نے بوٹھے استعمار برطانیہ کی مدد سے پہلے نجد پھر پورے حجاز پر قبضہ کرکے صیوں سے رائج حجاز مقدس سے تبدیل کرکے اپنے خاندانی نام آل سعود کی مناسبت سے سعودی عرب رکھ دیا نہ صرف مقدس سرزمیں حجاز کا نام تبیدیل کردیا بلکہ اپریل سن انیس سو پچیس میں آل سعود کے تکفیری نظریے کے حامل ظالم حکمرانوں نے مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات جنت المعلی و جنت البقیع کو مسمار کرکے شہید کردیا اور آل سعود روضہ رسول ص کو بھی بدعت سمجھ کر مسمار کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن اس وقت مصر کے جامعہ ازھر کی طرف سے احتجاج اور اس خطرے کے پیش نظر کہ کہیں قادیانیوں کی طرح تکفیری آل سعود کو بھی غیر مسلم قرار نہ دیا جائے۔۔عوامی رد عمل کے خوف سے روضئہ رسول ص کو مسمار کرنے سے گریز کیا گیا۔۔۔لیکن آج بھی آل سعود کے مفتیاں چاہے امام کعبہ ہو یا مسجد نبوی کے امام ان کے بیانات فتوے و افکار واضح ہیں۔۔کہ ۔ روضئہ رسول ص بدعت ہے اسے مسمار ہونا چاہئے ۔۔(۔نعوز باللہ)

پاکستان جیسے ملک میں جہاں بیچارے عوام کو یہ تک پتہ نہیں کہ حجاز مقدس(مکہ و مدینہ) کا نام سعودی عرب کیوں ہے؟؟یعنی پیغمبر ص کا دیا ہوا نام حجاز تبدیل کرکے ایک خاندانی نام آل سعود پر کیوں رکھا گیا۔۔۔وہاں اس ملک کے عوام کو یہ کون سمجھائے کہ تکفیری نظرئے کے حامل آل سعود کے نظرئے اور اس کی پیداوار القاعدہ طالبان و داعش نے عراق شام افغانستان حتی کہ پاکستان میں مقامات مقدسہ کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟؟اس لئے یہ میڈیا کی زمہ داری ہے کہ وہ تاریخیحقائق تحقیقی و دستاویزی ثبوت کے ساتھ عوام قارئین کو سمجھائے۔ اور فیصلہ عوام و قارئین پر چھوڑے کہ مقامات مقدسہ کے لئے حقیقی خطرہ کون ہیں۔

چند ماہ پہلے عراقمیں حضرت یونس ع سمیت درجنوں پیغمبران خدا اور ان سے متصل مساجد مزارات و
مقدس مقامات کی کھلے عام نعرہ تکبیر کے نعروں میں تباہی اور پھر آل سعود و تکفیری نظرئے کی حامل داعش کیطرف سے اس کی فخریہ ویڈیوز شائع کرنے نے اسلام کو پوری دنیا میں بدنام
کردیا ہے۔۔۔اس کے علاوہ موصل اور تکریت کے علاقوں میں داعش کی طرف سے
خواتین کے لئے ختنہ کی شرط اور خواتین بالخصوص کنواری لڑکیوں کو اپنے آپ
کو نام نہاد داعش مجاہدین کی جنسی تسکین کے لئے جہاد بالنکاح کے لئے پیش
کرنے جیسی شرائط نے قبل از اسلام مشرکین کے دور سے بھی بدتر اقدامات کئیے
ہیں۔
یاد رہے تکفیری وہابی نظریئے کے حامل(یعنی اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو
کافر سمجھنی والی) داعش القاعدہ النصرہ طالبان و سپاہ یزید لعین جیسے
گروہوں نے عراق شام حجاز افغانستان و پاکستان میں مقامات مقدسہ اور
اسلامی ورثے کی تباہی و پامالی شروع کردی ہے لیکن اس پر عالم اسلام
بالخصوص او آئی سی کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے؟؟؟
نام نہاد دولت اسلامیہ فی عراق و شام داعش اور اس کے خلیفہ ابوبکر
البغدادی کی اصلیت گزشتہ دنوں سابق امریکی جاسوس ایڈورڈ سنوڈن نے واضح
کردی کہ کئی سال پہلے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے داعش کے خلیفہ سمیت
سینکڑوں تکفیری دہشت گردوں کو اردن کے خفیہ تربیتی کیمہپ میں تربیت دی،
جس کا مقصد مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے علاوہ مشرق وسطی میں اسرائیل
مخالف ممالک بالخصوص سیریا کے لئے داخلی محاز بنانا ہے اس بات کی حقیقت
یوں بھی عیاں ہے کہ ایک طرف غزہ فلسطین میں ظلم و جبر کی انتہاہے لیکن
مملکت شام یا سوریا میں نواسی رسول ص بی بی زینب س کے مزار پر حملہ کرنے
والی آئیڈیالوجی کوئی نئی بات نہیں بلکہ اسلام دشمن نواصب خوارج و تکفیری
عناصر بالخصوص بنی امیہ بنی عباس و گزشتہ صدی میں آل سعود یہ کام کرتے
رہے ہیں۔ حالانکہ دنیا بھر کے مذہب و تہذیبوں کی طرح اسلام بھی ایک ذندہ
جاوید مزہب اور مکمل ضابطہ حیات ہیں۔آج بھی دنیا کے مختلف مذاہب اور
تہذبیں بشمول مسلمان اپنا ورثہ محفوظ کر رہے ہیں، بلکہ اس کے لئے کوششیں
کر رہے ہیں۔ قبلہ اول بیت المقدس کو صیہونیوں کے چنگل سے چھڑانا اور اس
کے لئے کوشش کرنا بھی اس لئے ہے کہ قبلہ اول بیت المقدس دین حق اسلام کا
ہی ورثہ اور مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے قبلہ اول بیت المقدس کی پامالی تو
صیہونیوں کے ہاتھ ہوئی لیکن افسوس صد افسوس حجاز مکہ و مدینہ میں اسلامی
ورثہ اور شعائر اللہ کی پامالی اور انہدام اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے
وہابیوں آل سعود کے ہاتھ ہوئی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ آل سعود کی
مجرمانہ کردار کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ حجاز کی مقدس
سرزمین پر کئی دہائیوں سے قابض آل سعود کے مطلق العنان بادشاہوں کے ورثے
کو محفوظ بنانے کے لئے کروڑوں ڈالرز اور ریال کے منصوبے شروع کر دئیے
گئیے ہیں۔۔۔۔لیکن آل رسول ص اور اہلبیت اطہار ؑ کے صدیوں سے قائم مزارات
اور مساجد و مقدس مقامات اسلامی ورثے کو منہدم کر دیا گیا اور یہ سلسہ آج
بھی جاری ہے۔۔لیکن تکفیری وہابی نظریئے کے حامل(یعنی اپنے علاوہ تمام
مسلمانوں کو کافر سمجھنی والی) داعش القاعدہ النصرہ طالبان و سپاہ یزید
لعین جیسے گروہوں نے آج تک اسرائیل کے خلاف جہاد تو چھوڑئیے ایک لفظ تک
مزمت نہیں کی ہے۔۔۔۔؟

اسی طرح گزشتہ سال سوریا یا مملکت شام کے دارالخلافے دمشق کے مضافات میں
واقعے نواسی رسول ص حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہ کے مزار پر تکفیری و
وہابی نظریات کے حامل داعش القاعدہ النصرہ و طالبان دہشت گردوں کے حملے
نے اگر ایک طرف قلب اطہر رسول ص و آل رسول ص اہلبیت علیہم سلام کو زخمی
کردیا ہے تو دوسری طرف دنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں کے جزبات مجروح کرکے
عالمی احتجاج شروع ہو گیا تھا بی بی زینب کے مزار اقدس پر یزید وقت
امریکہ کی ایما پر حملہ کرکے دراصل تکفیری و وہابی نظریات کے حامل داعش
القاعدہ النصرہ و طالبان دہشت گردوں نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ یہی دور
حاضر کے ماڈرن یزیدت اور خوارج ہیں، کیونکہ تکفیری و وہابی نظریات کے
حامل داعش القاعدہ النصرہ و طالبان دہشت گردوں کا یہی گروہ عراق
افغانستان اور پاکستان میں بھی مساجد و مقدس مقامات کو خون کی ہولی میں
رنگین کر رہے ہیں اور اسی نظریہ وہابیت نے بیسویں صدی کے آغاز میں
برطانوی استعمار آل سعود کی شکل میں مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات جنت
المعلی اور جنت البقیع میں اہلبیت ع رسول ص و اصحاب رض کے روضے مسمار
کرکے یہاں تک کہ روضہ رسول ص کی مسماری کے فتوے دئیے تھے، لیکن عالم
اسلام میں متوقع شدید ردعمل اور قادیانیوں کی طرح غیر مسلم قرار دئیے
جانے کے ڈر سے آل سعود و وہابیوں نے یہ کام روکے رکھا۔ پاکستان کے جید
علما و سکالرز جیسے مفتی سرفراز نعینی اور نورالحق قادری بارہا اس بات کا
تذکرہ اپنے لیکچرز و انٹرویو میں کر چکے ہیں کہ آل سعود کو روضہ رسول ص
کی تقدس کا کوئی لحاظ نہیں صرف اور صرف حج و رمضان سیزن میں اگر کمائی نہ
ہوتی تو آل سعود مکہ و مدینہ کے باقی ماندہ مقامات مقدسہ بھی کب کے مسمار
کر چکے ہوتے۔

تکفیری و وہابی نظریات کے حامل القاعدہ النصرہ و طالبان دہشت گردوں کے
ہاتھوں بی بی زینب کے مزار اقدس پر حملہ اس وقت ہوا ہے جب تازہ ترین
رپورٹوں کے مطابق تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کے سینکڑوں دہشت گرد
دمشق میں داخل ہوئے ہیں۔۔۔۔یہ اقدام پاکستان کی سیکورٹی اداروں کی
کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان اور اگر طالبان کو امریکی اشیرباد کے تحت
ریاستی سطح پر دمشق پہنچایا گیا ہے تو یہ بات واضح ہے کہ بی بی زینب کے
مزار اقدس پر حملے کی زمہ داری براہ راست ان اداروں کے زمہ داران پر بھی
عائد ہوتی ہے۔۔وہی بی بی زینب س جس نے دربار یذید لعین میں یذید کو للکار
کر کہا تھا کہ تو چاہے جتنا جتن کرلیں ہم اہلبیت ع محمد و آل محمد ص کی
محبت تو دلوں سے ختم نہیں کرسکتا،،،یہی وجہ ہے کہ مزار اقدس پر حملے کے
بعد عالمی سطح پر احتجاج جاری ہیں۔۔اور حکیم الامت مفکر پاکستان علامہ
محمد اقبال نے اسلام کی بقا کو دو ابواب حسینی ع و زینبی س کردار میں
تقسیم کرکے کیا خوب نقشہ پیش کیا ہے

حدیث عشق دو باب است، کربلا و دمشق

یک حسین ؑ رقم کرد و دیگر زینب س

نواسی رسول ص حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہ کے مزار پر تکفیری و وہابی
نظریات کے حامل القاعدہ النصرہ و طالبان دہشت گردوں کے حملے کرنے والے
بزدل خوارج کے لئے مولانہ ظفر علیخان کا یہ شعر ہی کافی ہے کہ اب بھی
زمانے میں اہلبیت ع کا نام روشن اور اسلام دشمن جگر خوارہ ہندہ و
ابوسفیان کی سفیانی نسل یذید لعین اور اس کے اجداد کا نام لعنتوں کا
حقدار ہے۔

اب بھی چمک رہا ہے حسین و علی کا نام

اور خاک اڑ رہی ہے یذید و زیاد کی
سوریا دمشق یا برصیغر کی اصطلاح میں مملکت شام میں گزشتہ دو سالوں سے
جاری شورش دراصل غیر ملکی یلغار کے اندر رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق
پاکستان سمیت 29 ممالک سے القاعدہ و طالبان سے منسلک جنگجو فساد بنام
جہاد کے تحت مشغول ہیں(پاکستان سے دمشق کے لئے فساد بنام جہاد کے لئے ایک
سال پہلے وزیرستان سے جانے والے طالبان و القاعدہ سے وابستہ معروف چیچن
کمانڈر روسلان کیلائیو حلب شام کے مقام پر درجنوں جنگجووں سمیت پہنچ چکے
تھے جس پر برمنگھم سے پاکستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنیٹ خالد محمود نے
چیخ چیخ کر احتجاج بھی کیا کہ پاکستانی اور برطانوی خفیہ ادارے شامی
باغیوں کے لیے ہونے والی بھرتی سے چشم پوشی کر رہے جس کے نتیجے میں
پاکستان اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں نوجوانوں کو ضروری
تربیت کے بعد دمشق کے محاذ پر امریکی و اسرائیلی مفادات کے لئے بھجوایا
گیا۔۔۔۔۔ایک سال کی طویل خاموشی کے بعد گزشتہ دنوں ایک بار پھر چونکا
دینے والے میڈیا رپورٹس اور تحریک طالبان پاکستان کے عہدیداروں کی تصدیق
کہ طالبان دمشق میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے لئے امریکی امامت میں
جہاد کے لئے تازہ دم افرادی قوت بھیج رہی ہیں ایک بار پھر اس موضوع کو
میڈیا کے زریعے بازگشت سنائی دی ہے۔۔۔حالانکہ پاکستانی طالبان کی سوریا
یا شام میں موجودگی کوئی انہونی بات نہیں سوشل میڈیا اور سریا ٹیوب نامی
ایک ویڈیو سائیٹ میں دمشق میں ہلاک ہونے والے پاکستانی طالبان کی لاشوں
کی ویڈیوز گوگل سرچ پر بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ سوریا میں نام نہاد جہاد اصل میں فساد کی تمام
تر نگرانی اور امامت امریکہ بہادر کر رہا ہے کہ جو دہشت گردی کے خلاف نام
نہاد جنگ اور القاعدہ و طالبان اور کمیائی ہتھیاروں کے بہانے افغانستان
و عراق کو تباہ و برباد کر چکا پے اب یہی امریکہ اپنے ناجائز اولاد
اسرائیل کو استحکام دینے اور سوریا میں اسرائیل مخالف بشار الاسد کی
حکومت کے خاتمے کے لئے القاعدہ اور اس کے زیلی تنظیموں النصرہ اور طالبان
جییسے گروہوں کی سپرستی کرکے اپنے پٹھو عرب ممالک بالخصوص قطر سعودی عرب
اور نیٹو کے پلیٹ فارم کا ناجائز فائدہ لینے والے ترکی کی مدد سے امریکہ
اسلحہ سے لیکر لاجسٹک سپلائی و ڈالرز اور دنیا بھر سے جنگجووں کو جہاد
شام کے لئے بھجوا رہا ہے۔ سوریا یا شام میں موجود فلسطین کی حامی اور
اسرائیل مخالف بشار الاسد کا واحد جرم یہ ہے کہ بشار الاسد کی حکوم
اسارئیل مخالف گروہوں حماس و حزب اللہ کی طرفدار اور لبنان و غزہ پر
صیہونی جارحیت میں فلسطین کاز کی حمایت میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے
اور اب بھی ادا کر رہا ہے مشرق وسطی میں شام کی جغرافیائی اہمیت سب سے
ذیادہ اسلئے ہے کہ شام کی سرحدیں لبنان عراق ترکی کے علاوہ مقبوضہ فلسطین
جولان یا گولان کی پہاڑیوں پر قابض اسرائیل سے بھی ملتی ہیں۔ امریکہ اور
اسرائیل نے مشرق وسطی کی باقی عرب ریاستوں کو تو اپنی لونڈی بنا دیا ہے
اگر واحد رکاوٹ ہے تو وہ سوریا یا شام ہی ہے امریکہ و اسرائیل اور یورپی
یونین کی طرف سے جہاد شام کی سرپرستی کا مقصد اگر ایک طرف شام میں
اسرائیل نواز حکموت کا قیام ہے تو دوسری طرف شام پر قبضہ جمانے کی صورت
میں شام سے متصل لبنان میں اسرائیل مخالف مزاحمتی تحریک حزب اللہ اور اس
کے طرفدار غزہ فلسطین میں موجود حماس کے خلاف گھیرا تنگ کرکے اپنے ناپاک
مقاصد حاصل کرنا ہیں۔۔۔یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر
اللہ نے اس سازش کا پہلے سے ادراک کرتے ہوئے لبنان کی سرحد سے متصل قوصیر
شہر میں حزب اللہ کے جنگجووں کو شامی فوج کی حمایت میں بھجوا کر لبنان سے
متصل قصویر شہر کو آذاد کرکے امریکی و اسرائیلی جہادیوں 29 ممالک کے
باغیوں کو ایسی شکست دی کہ اسرائیل و امریکہ کو جولائی سن دو ہزار چھ کی
جنگ یاد دلادی ایسی جنگ جسمیں حزب اللہ نے اسرائیل کو باوجود اس کے
بدترین شکست دی جب وہابی مفتیوں نے اسرائیل کی حمایت اور حزب اللہ کے
خلاف فتوے تک دئیے تھے (یاد رہے حزب اللہ نے یہ جنگ اسرائیل کی طرف سے
فلسطین میں حماس کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور حماس کے خلاف مظالم کا بدلہ
لینے کے لئے قبلہ اول کے تحفظ کے لئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑی اگر
چہ اس وقت بھی مشرق وسطی بالخصوص آل سعود کے درباری وہابی مفتیوں نے
اسرائیل اور حزب اللہ کی جنگ میں حزب اللہ کی حمایت کو کفر اور حزب اللہ
کے مقابلے میں اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور آج بھی یہ سلسلہ
جاری ہے کہ جب آل سعود کے وہابی مفتی اور قطر کا مفتی اعظم قرضاوی اپنے
فتووں اور جمعہ کے خطبات میں چیخ چیخ کر اور اللہ کے واسطے دے کر امریکہ
سے شام یا سوریا میں مجاہدین کے لئے مذید اسلحہ بیجنے کی فریادیں کر رہیں
ہیں اور دوسری طرف نام نہاد مجاہدین کی جنسی پیاس بجھانے کے لئے جہاد
نکاح جیسے فتوے دیکر تیونس مصر و دیگر عرب ممالک سے نوجوان لڑکیاں تک
پہنچا رہے ہیں، اس شرمناک فعل نے تحریک طالبان کی طرف سے وزیرستان و سوات
میں خواتین کی عصمت دری جیسے واقعات سے ایک قدم آگے بڑھ گئیے ہیں۔۔۔
حالانکہ آج تک ان وہابی مفتیوں کا فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف
ایک فتوی بھی نہیں آیا۔۔۔؟؟ْمذید برآن اسلام کے نام نہاد جان لیوا
مجاہدین القاعدہ و طالبان کا اب تک ایک بھی بندہ بھی اسرائیل مخالف جہاد
فلسطین میں شامل نہیں ہوا اور نہ ہی قبلہ اول کی آزادی کی تحریک میں حصہ
لیا؟ْ؟؟ القاعدہ و طالبان نے اگر حصہ لیا تو صرف اور صرف عراق افغانستان
پاکستان اور اب سوریا یا شام میں امریکی و اسرائیلی مفادات کے لئے پبلک
مقامات مساجد مقدس مقامات پر خودکش حملے کرکے کلمہ گو مسلمانوں کو خون
میں نہلانے کے ساتھ ساتھ مقدس مقامات کی توہین کرکے حتی کہ سوریا یا شام
میں القاعدہ کے زیلی تنظیم النصرہ سے منسلک جہادیوں نے قتل ہونے والے
شامی فوجی کا دل چبا کر دور جہالیت کے ملعونوں ابوجہل ابوسفیان اور ہندہ
کی تاریخ دہرادی جب ابوسفیان کی بیوی اور یذید لعین کی دادی ہندہ نے رسول
اللہ ص کے چچا حضرت حمزہ رض کا کلیجہ چبایا تھا۔۔۔۔اسی طرح القاعدہ کے
زیلی تنظیم النصرہ کے نام نہاد جہادیوں نے سوریا یا شام ہی میں رسول اللہ
ص کے جید صحابی حضرت حجر بن عدی رض کی قبر کشائی کرکے جسد اقدس کی بے
حرمتی کرکے مزار اقدس کو مسمار کردیا۔۔۔۔پاکستان میں اپنے آپ کو صحابہ رض
اور اسلام کے ٹھیکدار کہنے والے سپاہ صحابہ و تحریک طالبان کے دہشت گرد
اس توہین صحابہ رض پر نہ صرف خاموش رہے بلکہ درااصل امریکی امامت میں
جہاد شام میں عملی حصہ لے کر یا اس جہاد کی حمایت کرکے یہاں تک کہ سپاہ
صحابہ نے پاکستان میں شام کے سفارتخانے پر حملے کے بیانات تک جاری کئیئ
دراصل اس جرم میں شریک رہے ہیں۔۔۔۔۔امریکی امامت میں لڑنے والے القاعدہ
کے زیلی تنظیم النصرہ اور سپاہ صحابہ و تحریک طالبان پاکستان کے ان
جہادیوں کے اس نام نہاد عظیم جہا ۔۔۔۔۔اور جنت جانے کے شوق۔۔۔۔۔۔کو حکیم
الامت علامہ اقبال نے کئی دہائیاں پہلے بیان کیا تھا۔۔
؎
ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
ایک حوصلہ افزا اور امید کی بات یہ ہے کہ مشرق وسطی میں امریکی و
اسرائیلی مفادات کے لئے فلسطین و قبلہ اول کی آزادی کی دو حامی تنظیمیں
حزب اللہ و حماس عالم اسلام کے دو بازوں کی طرح اگر چہ مختلف مسالک سے
وابستہ ہیں لیکن دونوں بھائیوں کی طرح یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ شام یا
سوریا میں جہاد دراصل امریکی و اسرائیلی مفاد کا جہاد ہے اسلئے حزب اللہ
اور حماس کی قیادت نے اس فتنہ کے خلاف مزاحمت کے لئے ایک بار پھر آپسمیں
اتحاد کرلیا ہے۔۔۔جس کا اظہار حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے
اپنے حالیہ تقاریروں میں کھل کر کیا ہے کہ اگرچہ حزب اللہ ہمیشہ سے
اسرائیل و امریکہ کے خلاف براہراست لڑ کر فلسطین کی آزادی کے لئے
برسرپیکار رہی ہے ،،،،لیکن شام یا سوریا میں حزب اللہ کا شامی فوج کی
حمایت اور القاعدہ و طالبان کے تکفیری و خوارج نظریہ کے حامل دہشت گردوں
سے بادل نحواستہ اور تنگ آمد بہ جنگ آمد لڑنا بھی اصل میں ان تنظیموں کے
آقا امریکہ و اسرائیل کو ہی شکست دینا ہے کیونکہ لبنان سرحد سے متصل
قوصیر پر قبضے کے بعد القاعدہ کے زیلی تنظیم النصرہ و طالبان کا اگلا حدف
لبنان و فلسطین میں حزب اللہ و حماس کا ہی خاتمہ کرنا ہے۔۔۔ حزب اللہ کے
سربراہ سید حسن نصراللہ نے امریکی و صیہونی مفادات کے لئے کام کرنے والے
بعض میڈیا رپورٹوں کے منفی پروپیگنڈے کہ شام یا مشرق وسطی میں مسلکی جنگ
ہو رہی ہے کا کھل کر جواب دیتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کے زیلی تنظیم
النصرہ اور سپاہ صحابہ و تحریک طالبان پاکستان کے تکفیری دہشت گرد شیعہ
سنی دونوں مکاتب فکر کے دشمن ہیں جس کا واضح ثبوت عراق افغانستان و
پاکستان میں انہی دہشت گردوں کے ہاتھوں شیعہ و سنی دونوں مکاتب فکر کے
پیروکاروں پر حملے مساجد مزارات اور جنازے کے نمازوں کے اجتماعات پر حملے
اور پاکستان میں الکشن کے دوران سنی مسلمانوں کا قتل عام واضح دلیل
ہیں۔۔۔سید حسن نصر اللہ نے القاعدہ کے زیلی تنظیم النصرہ اور سپاہ صحابہ
و تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ صحابی
رسول ص حضرت حجر بن عدی رض کے جسد اور مزار کی بے حرمتی کے دلخراش واقعے
کے بعد القاعدہ کے زیلی تنظیم النصرہ اور وہابی دہشت گردوں سے سوریا یا
شام میں اصحاب رسول ص اور اہلبیت رسول ص کے مقدس مزارات بالخصوص رسول
اللہ ص کی نواسی اور امام حسین ع کی بہین شریکتہ الحسین ع بی بی زینب
سلام اللہ علیہ کے دمشق میں واقع مزار اقدس اور دیگر مقدس مقامات کے دفاع
کے لئے حزب اللہ کے جوان اپنے خون کے آخری قطرے تک دفاع کریں گے۔
القاعدہ کے زیلی تنظیم النصرہ اور سپاہ صحابہ و تحریک طالبان پاکستان جو
کہ وہابی و تکفیری آئیڈلوجی کی حامل ہے جو اپنے علاوہ دیگر تمام مسلمانوں
کو کافر کہلوا کر قتل عام کرتی ہے ان درندہ صفت افراد سے انسانوں کا ناحق
خون اور مقدس مقامات کی توہین کوئی انوکھی بات نہیں ۔۔۔دراصل بوڑھے
استعمار یا برطانیہ نے گزشتہ دو سو سال کے دوران اسلام کے نام پر اسلام
کو بدنام کرنے کے لئے دنیا بھر میں تین فتنے یا عقیدے و آئیڈیالوجی پیدا
کرکے اسلام کو بدنام کیا ۔۔۔ان تین فتنوں میں مشرق وسطی میں آل سعود کے
زریعے فتنئہ وہابیت ،ایران یا فارس میں فتنئہ بہایت اور برصیغر پاک و ہند
میں فتنئہ قادینیت یعنی وہابی ،بہائی اور قادیانی فتنے کے زریعے چودہ سو
سال پہلے مکمل ضابطئہ حیات اسلام کو دنیا بھر میں وحشی و بدنما یا پھر
عیاش صورت میں پیش کیا حالانکہ یہ تنیوں فتنے گزشتہ دو سو سال کی پیداورا
ہیں اس موضوع کو صحیح سمجھنے کے لئے قارئین مشہور برطانوی جاسوس ہیمفرے
کے احترافات یا لارنس آف عربیا کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔۔۔۔بوڑھے استعمار
برطانیہ کے پیداکردہ ان تین فتنوں بالخصوص فتنہ وہابیت(القاعدہ اور سپاہ
صحابہ و تحریک طالبان پاکستان) کی بعد میں امریکہ و اسرائیل نے کھل کر
حمایت کی اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ سن اسی کی دہائی میں سی آئی کے
زیر اہتمام روس کے خلاف نان نہاد افغان جہاد کے نام پر امریکی سی آئی اے
اور ضیا حکومت نے القاعد اور سپاہ صحابہ و تحریک طالبان پاکستان کی
بھرپور حمایت کی جس کا برملا اظہار سابق امریکی وزیر خارجہ کی اس اقرار
جرم والی خطاب میں بھی ملتی ہے جو سوشل میڈیا میں کافی مشہور ہو چکی ہے
کہ ہم یعنی امریکہ نے پاکستان کی مدد سے وہابی طرز فکر اور جہاد کی
سرپرستی کی۔۔۔
http://www.youtube.com/watch?v=J1CW2XuDAQ4

اور یہ سلسلہ اب بھی قطر میں طالبان کے دفتر اور امریکہ طالبان یکجہتی کے
علاوہ شام یا سوریا میں امریکی امامت میں اسرائیلی مفادت کے لئے جہاد شام
میں القاعدہ کے زیلی تنظیم النصرہ اور سپاہ صحابہ و تحریک طالبان
پاکستان کا جہاد میں سلسلہ لینے کا جاری سلسلہ ہے۔۔۔نہ جانے پاکستان کے
مقتدر ادارے کب تک امریکی ایما پر آستین کے ان سانپ القاعدہ اور سپاہ
صحابہ و تحریک طالبان پاکستان کو جہادی کرائے کے قاتلوں کی صورت میں
افغانستان وزیرستان یا شام و دمشق میں بھیج کر امریکی امامت میں جہاد کا
فریضہ انجام دیتے رہیں گے اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔۔۔لیکن
ایک بات ضرور یاد رہے کہ اللہ کے ہاں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں۔۔۔ایک دن
این سفیانی و دجالی نظاموں کا خاتمہ ضرور ہونا ہے اور مسلمانوں کے تمام
مکاتب فکر کے مشترکہ عقیدے کے مطابق منجعی بشریعت امام مہدی ع کا انقلاب
بہت جلد آنے والاہے۔۔بقول علامہ اقبال ؎
دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زلزلہ عالم افکار
؎
بتا رہی ہیں یہ تبدیلیاں زمانے کی
کسی ولی کا یقیننا ظہور ہونا ہے

اسلامی ورثہ جسے قرآن نے شعائر اللہ یعنی اللہ کی نشانیاں قرار دیا کی
اہمیت اس لئے ہیں کہ اس ورثے کو دیکھ کر لوگ اور آنی والی نسلیں اللہ کے
دین کی طرف متوجہ ہو کر تقوی الہی اختیار کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے
صفی و مروی کی پہاڑیوں کو شعائر اللہ کہی کر پکارا ہے۔ اسی طرح حجر اسود
ظاہرا ایک پتھر ہے لیکن اللہ کے نذدیک اہمیت اتنی ہے کہ ہر حاجی کی خواہش
ہوتی ہے کہ حجر اسود کو بوسہ دیا جائے اور تمام تر مکاتب اسلام کے ہاں یہ
عین عباد ت و ثواب کا کام ہے۔۔۔کیا حجر اسود کو بوسہ دینے اور چومنے سے
خدانخوانستہ کوئی شخص بت پرستی و پتھر پرستی کا مرتکب ہو رہا ہے ،ہرگز
نہیں بلکہ حجر اسود کو چومنا اللہ کی ایک نشانی کو چومنا ہے جس سے عقیدہ
توحید میں اضافہ ہوتا ہے۔ یا مذید آسانی کی خاطر اگر کوئی شخص اپنی بوڑھی
ماں کے ہاتھ کو عقیدت و عزت کی خاطر بوسا دیتا ہے تو کیا نعوز باللہ وہ
شرک و بدعت کرکے ماں کو پوج رہا ہے، ہرگز نہیں بلکہ ماں کے مقام میں ماں
کی عزت و احترام کرتا ہے نا کہ معبود و خالق کے مقام میں کیونکہ معبود کے
مقام تک کوئی نہیں پہنچ سکتا، اللہ لاشریک و لامحدود ہے اور اس کا احاطہ
کرنا محال و ناممکن ہے۔ ماں کا ماں کے مقام پر احترام عین اسلام اور حکم
پروردگار ہے۔ لیکن اپنے آپ کے علاوہ دیگر تمام مسلمانوں کو کافر کہنے
والے وہابیت اس حقیقت کو سمجھنے کی بجائے ہر چیز حتی کہ ماں کا ماں کے
درجے میں احترام کو بھی شرک و بدعت قرار دے کر کفر کے فتوے والی فیکڑی سے
فتوے دینا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔حالانکہ اوائل اسلام حتی کہ رسول اللہ
،ص کی ذندگی میں گزشتہ انبیا ؑ اور اولیا کے قبور کی تعمیر اور پیغمبروںؑ
،اولیاء اور خدا کے نیک بندوں کی قبروں پر عمارت یا مزار بنانے کا سلسلہ
موجود تھا، اور رسول ص کے زمانے میں مسلمان و اصحاب رسول ص انبیاؑ و
اولیاؑ کے قبور و مزارات پر دعا کے لئے جاتے تھے۔ اگر یہ عمل اسلام کے
خلاف یا نعوز باللہ شرک و بدعت ہوتا تو رسول ص اپنے زمانے ہی میں
مسلمانوں کو روک لیتے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوا۔

اس مسئلے کو سب سے پہلے ابن تیمیہ کے مشہور و معروف شاگرد ( ابن القیم )
نے چھیڑا اور اولیاء خدا نیز پیغمبروں کی قبروں پر عمارت بنانا حرام قرار
دیا ۔ اور ان کی ویرانی و انہدام کا فتویٰ دیا ہے ۔ ابن القیم اپنی کتاب
(زاد المعاد فی ھدی خیر العباد )(زاد المعاد ص٦٦١) میں لکھتا ہے :

”یجب ھدم المشاھد التی بُنِیَت علی القبور ، و لا یجوز ابقاء ھا بعد
القدرة علیٰ ھدمھا و ابطالھا یوماً واحداً” ( قبروں پر تعمیر شدہ
عمارتوں کو ڈھانا واجب ہے ، اگر انہدام اور ویرانی ممکن ہو تو ایک دن بھی
تاخیر کرنا جائز نہیں ہے)

١٣٤٤ھ میں جب کہ آل سعود نے مکہ و مدینہ کے گرد و نواح میں اپنا پورا
تسلط جمایا تو مقدس مقامات ، جنت البقیع ،اصحاب رض اور اہلبیت اطہارؑ
محمد و آل محمدؑ سے بغض کی وجہ سے خاندانِ رسالت کے آثار کو صفحۂ ہستی
سے محو کر دینے کا عزم کیا اس سلسلے میں انہوں نے مدینہ کے علماء سے فتوے
وغیرہ لئے تاکہ تخریب کی راہ ہموار ہو جائے ۔ اور اہل حجاز کو جو کہ اس
کام کے لئے تیار نہ تھے ، بھی اپنے ساتھ ملایا جائے ۔اسی بناء پر نجد کے
قاضی القضات ، ”سلیمان بن بلیہد ” کو مدینہ روانہ کیا تاکہ وہ ان کے من
پسند فتوے ،علمائے مدینہ سے حاصل کرے ،اس نے ان سوالات کو اس طرح توڑ موڑ
کر پوچھا کہ ان کا جواب بھی وہابیوں کے نظریئے کے مطابق انہی سوالات میں
موجود تھا ۔ اس طرح مفتیوں کو یہ سمجھادیا گیا کہ ان سوالات کے وہی
جوابات دیں جو خود سوالات کے اندر موجود ہیں ورنہ انہیں بھی مشرک قرار دے
دیا جائے گا ۔اور توبہ نہ کرنے کی صورت میں انہیں قتل کر دیا جائے گا ۔

سوالات اور جوابات مکہ سے شائع ہونے والے رسالہ (ام القریٰ ) ماہ شوال
١٣٤٤ھ میں منتشر ہوئے ۔ وہابی ١٥ ربیع الاول ١٣٤٣ھ کو حجاز پر قابض ہوئے
اور آٹھویں شوال ١٣٤٣ ھ بمطابق اپریل ۱۹۲۵ عیسوی کو جنت البقیع میں ائمہ
کے مزاروں کی قبروں کو منہدم کر دیا ۔اس کے بعد شیعہ سنی تمام مسلمانوں
میں ردّ عمل کی شدید لہڑ دوڑ گئی ۔کیونکہ سب کو پتہ تھا کہ مدینہ کے
علماء سے فتویٰ حاصل کرنے کے بعد اگر چہ ڈرا دھمکا کر ہی کیوں نہ لیا گیا
ہو ، ائمہؑ کی قبروں کا انہدام اور عمارتوں کی تخریب شروع ہو جائے گی اور
ایسا ہی ہوا بھی ۔ مدینہ کے پندرہ علماء سے فتویٰ لینے اور اسے حجاز میں
نشر کرنے کے بعد فوراً خاندان رسالتؑ کے آثار کو اسی سال آٹھویں شوال کو
محو کرنا شروع کر دیا ۔ اہل بیت علیہم السلام اور اصحاب نبی (ص) کے آثار
بطور کلی مٹا دیئے گئے ۔ جنت البقیع میں ائمہ علیہم السلام کے روضوں کی
گراں بہا اشیاء لوٹ لی گئیں ۔ اور قبرستان بقیع ایک کھنڈر اور ویرانے کی
صورت اختیار کر گیا کہ جسے دیکھ کر انسان لرز جاتا ہے ۔ وہابی اور آل
سعود اسی سال روضئہ رسول ص اور گنبد حضرا کو بھی منہدم کرکے زمیں بوس
کرنا چاہتے تھے لیکن جب پوری دنیا میں مسلمانوں کا رد عمل دیکھا تو اپنے
آقا بوڑھے استعمار برطانیہ کے مشورے اور اس ڈر سے کہ کہیں پورا عالم
اسلام وہابیت اور آل سعود کو قادیانیوں کی طرح غیر مسلم نہ قرار دیں
،روضئہ رسول ص کو منہدم تو نہ کیا لیکن آج تک وہابیت اور آل سعود کے نمک
خوار سپاہی روضہ رسول ص کی طرف عقیدت اور زیارات کی خاطر آنے والے دنیا
بھر کے سنی شیعہ مسلمانوں کو زیارات رسول ص سے روکتی رہی ہے، اور گنبد
حضری کو صاف کرنے کی بجائے اس پر گرد و غبار کی گہری تہہ جمع ہونا اس بات
کی دلیل ہے کہ وہابیت دل ہی دل میں آثار نبوی ص کے باقی رہنے پر غصہ
اتار رہی ہے۔

الف۔ قبروں کی تعمیر کے سلسلے میں

اس موضوع کے حکم کو قرآن کے عام اصولوں سے اخذ کر سکتے ہیں ۔

١۔ اولیاء خدا کی قبروں کی تعمیر اور حفاظت شعائر اللہ کی تعظیم میں داخل ہے ۔

قرآن کریم شعائر اللہ کی تعظیم کو قلوب کی پرہیزگاری اور دلوں پر تقوائے
الٰہی کے غلبہ کی علامت و نشانی جانتا ہے ۔ارشاد ہوتا ہے :

” ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى
الْقُلُوبِ ” (سورۂ حج ٣٢)

جو شخص شائراللہ کی تعظیم کرتا ہے تو یہ تقوائے قلوب کی علامت ہے۔ شعائر
اللہ کی تعظیم کا اصل مقصد کیا ہے ؟شعائر ”شعیرہ ” کی جمع ہے ،جس کے
معنی علامت و نشانی ہیں آیت کا مطلب وجود خدا کی نشانیاں بیان کرنا نہیں
کیونکہ تمام موجودات عالم اس کے وجود کی نشانیاں ہیں ۔ اور کسی نے یہ
نہیں کہا کہ جو کچھ اس گلزار ہست و بود میں ہے ان سب کی تعظیم تقویٰ کی
علامت ہے۔ بلکہ اس سے مراد اس کے دین کی نشانیاں ہیں ۔اسی بناء پر تو
مفسرین اس آیت کی یوں تفسیر کرتے ہیں ۔

”معالم دین اللہ ” خدا کے دین کی نشانیاں ۔(مجمع البیان ،ج٤،ص ٨٢) اگر
قرآن نے صفاومروہ کے اور اس اونٹ کو جو منیٰ میں قربانی کے لئے لے جایا
جاتا ہے ،شعائر اللہ میں شمار کیا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ یہ آئین
ابراہیمؑ اور دین حنیف کی نشانیاں اور علامتیں ہیں ۔ اگر ”مزدلفہ ” کو
”مشعر ” کہتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ دین الٰہی کی نشانی ہے
وہاں پر ٹھہرنا ،دین پر عمل اور خدا کی اطاعت کی علامت ہے ۔

اگر تمام مناسک حج کو شعائر اللہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں تو وہ بھی اسی
لئے ہے کہ یہ اعمال دین حنیف اور دین توحید کی علامتیں اور نشانیاں ہیں ۔

مختصر یہ کہ جو چیز بھی دین الٰہی کی نشانی قرار پائے اس کی تعظیم و
تکریم خدا کی بارگاہ میں تقرب و خوشنودی کا باعث بنتی ہے ۔ اور یہ ایک
امر مسلم ہے کہ انبیاء و اولیاء خدا ، دین الٰہی کی روشن ترین دلیلیں
اور بزرگترین نشانیاں ہیں ، جن کی بدولت دنیا میں دین کا پرچم بلند ہوا ۔
اور دین کا بول بالا ہوا ۔کوئی بھی منصف شخص ہر گز اس سے انکار نہیں
کرسکتا کہ پیغمبر اسلام (ص) اور ائمہ طاہرین (ع) کا وجود اسلام کی دلیل
اور اس کی علامت ہے ۔ اور ان کی تعظیم کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کے آثار
و قبور کی حفاظت کی جائے اور انہیں انہدام و نابودی سے بچایا جائے ۔

حسب ذیل دو چیزوں کو مدّ نظر رکھنے سے قبور اولیاء کی تعظیم و تکریم کا
مسئلہ واضح ہو جاتا ہے ۔

الف۔ اولیاء خدا اور بالخصوص وہ لوگ جنہوں نے دین اسلام کی سر بلندی کے
لئے قربانی پیش کی ہو وہ بلا شبہ شعائر اللہ اور دین خدا کی نشانیاں ہیں
۔

ب۔ تعظیم کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان بزرگوں کی وصال کے بعد ان کے آثار و
مکتب کی نگہداشت کے ساتھ ساتھ ان کی قبور کی تعمیر ،نگہبانی اور حفاظت کی
جائے ۔ اسی لئے تمام قوموں کی عظیم سیاسی اور دینی شخصیتوں کی قبریں جو
ان کے مکتب فکر کی علامت ہوتی ہیں ایسی جگہوں پر بنائی جاتی ہیں جہاں وہ
ہمیشہ محفوظ رہیں ۔ اور ان کے مکتب کی یاد تازہ رہے ۔گویا ان کی قبروں کو
خرابی سے محفوظ رکھنا ایسے ہی ہے جیسے ان کے وجود اور ان کے مکتب کی
حفاظت ہے ۔ اور ان کے آثار کو زندہ رکھنے کی علامت ہے ۔

اس حقیقت کے ادراک کے لئے ضروری ہے کہ سورۂ حج کی چھتیسویں آیت کو پوری
توجہ سے تفسیر کریں ۔ بیت اللہ الحرام کے بعض زائرین گھر سے ہی اپنے ساتھ
اونٹ کو قربانی کے لئے مکہ لاتے ہیں اور اس کی گردن میں پٹہ ڈال کر فی
سبیل اللہ قربانی کے لئے مختص کر دیتے ہیں ۔اور اسے باقی اونٹوں سے
علیحدہ رکھتے ہیں ۔کیونکہ یہ اونٹ ایک طرح سے خدا سے وابستہ ہو گیا ہے ۔
اور خود خدا نے اسے شعائر اللہ میں سے شمار کیا ہے لہذا سورہ حج کی
بتیسویں آیت کے مطابق ” و من یعظم شعائر اللہ ” کے مطابق اسے مورد
احترام قرار دینا چاہئے مثال کے طور پر یہ لوگ اس پر سوار نہ ہوں اور وقت
پر اسے پانی ، گھاس وغیرہ ڈالنا چاہئے یہاں تک کہ اس مخصوص مقام پر اسے
ذبح کر دیا جائے ۔ جب ایک اونٹ منیٰ کی سر زمین پر قربانی کے لئے مخصوص
ہونے کی وجہ سے شعائر اللہ میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے لئے مناسب
تعظیم ضروری ہوتی ہے تو کیا پیغمبرص ،علماء ،شہداء اور مجاہدین شعائر
اللہ میں سے نہیں ہیں ؟ جنہوں نے زندگی کے ابتدائی ایام ہی میں اپنا سب
کچھ خدا کی راہ میں وقف کر دیا اور اس کی خوشنودی کے لئے دین اسلام کی
ایسی خدمت انجام دی کہ خود خدا اورخلق کے مابین وسیلہ قرار پائے اور در
حقیقت بشریت نے دین خدا کو انہی کے طفیل میں پہنچانا ہے ۔ کیا ان کے مقام
و منزلت کے لحاظ سے ان کی حیات و ممات میں ان کی تعظیم و تکریم نہ کی
جائے ؟ اگر کعبہ ، صفا و مروہ ، منیٰ وعرفات جو مٹی اور پتھر کے سوا کچھ
نہیں ہیں ۔دین خدا سے ارتباط کی وجہ سے شعائر اللہ میں داخل ہیں ۔ اور ہر
ایک کی اپنے موقع و محل کے اعتبار سے تعظیم و تکریم ضروری ہے تو بھلا
اولیاء خدا جو دین الٰہی کے مبلغ ومحافظ ہیں وہ شعائر اللہ میں سے کیوں
نہ ہوں ، اور ان کی تعظیم و تکریم کیوں نہ کی جائے ؟

ہم یہاں پر خود وہابیوں کے ضمیر کو قاضی و منصف قرار دیتے ہیں ۔کیا
انبیاء کے شعائر اللہ میں ہونے کے سلسلہ میں کسی قسم کا شک و تردد ہے ؟
یا ان کے آثار اور ان سے مربوط اشیاء کی حفاظت کو ان کی تعظیم نہیں
سمجھتے ۔ ان کی قبروں کی تعمیر اور صفائی کا خیال رکھنا تعظیم و تکریم ہے
یا ان کی قبروں کو مسمار کر دنیا تعظیم ہے ؟

٢۔ قرآن کریم واضح الفاظ میں ہمیں حکم دیتا ہے کہ پیغمبر گرامی (ص) کے
اقربا سے محبت رکھو ۔ ارشاد قدرت ہوتا ہے :

”قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي
الْقُرْبَى” (سورۂ شوریٰ ٢٣)

اے رسول کہہ دیجئے میں تم سے اجر رسالت نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے اقربا
سے مودت رکھو ۔

کیا اہل دنیا کی نگاہ میں ، جن سے یہ آیت مخاطب ہے ، خاندان رسالت سے
محبت و مودت کا ایک طریقہ ان کی قبروں کی تعمیر نہیں ہے ؟حالانکہ دنیا کی
تمام ملتوں میں یہ رسم پائی جاتی ہے اور سب لوگ قبروں کی تعمیر کو صاحب
قبر سے اظہار عقیدت کی علامت قرار دیتے ہیں ۔اسی لئے تو عظیم سیاسی و
علمی شخصیات کو کلیسا ، یا معروف مقبروں میں سپرد خاک کرتے ہیں ۔ اور ان
کی قبروں کے اردگرد درخت لگاتے ہیں ۔ اور پھولوں کی چادریں چڑھاکر اپنی
محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ۔ لیکن وہابیت کا اصل مسئلہ بغض و
عدوات محمد و آل محمد ص بالخصوص خاتون جنت سیدہ النسا العالمینؑ حضرت بی
بی فاطمتہ الزھرا سلام اللہ علیہا سے بغض کی انتہا ہے اس حوالے سے عالمی
سنی تحریک نے وہابیت کے فتنے کو عیاں کرنے کے لئے ایک ویب سائٹ بنائی ہے
جس میں وہابیت کے فتنے کی تشریح کرکے وہابییوں کو سنی ماننے سے انکار کیا
ہے۔ ویب سائٹ یہاں قارئین کے استفادے کے لئے دی جا رہی ہے۔

www.najd2.wordpress.com

اور یہ انتہا یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ نہ صرف اپریل 1925 میں وہابیوں آل
سعود نے خاتون جنت فاطمتہ الزھرا سلام اللہ علیہ کا جنت البقیع میں روضہ
منہدم کروایا بلکہ گذشتہ سال بھی خاتون جنت بی بی فاطمتہ الزھرا سلام
اللہ علیہ سے منسو مسجد فاطمہ س کو مسمار کرکے آل سعود سے منسوب پارک میں
تبدیل کر دیا گیا۔۔۔کیا حجاز مکہ و مدینہ کی سرزمین میں آل سعود کے ابا و
اجداد اور مطلق العنان حکمرانوں کی آثار بنانا عین اسلام اورآل رسول ص کے
آثار حتی کہ مساجد عین کفر و شرک ہے؟؟؟؟ اس سوال کا جواب ہر باضمیر انسان
اور مسلمان کو دینا ہوگا۔۔وگرنہ اسلام کے یہ نام نہاد ٹھیکدار قیامت کے
دن رسول ص کو کیا جواب دیں گے، جب رسول ص نے تاکید سے یہ احادیث فرمائی
تھی کہ۔۔فاطمہ س میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس کسی نے اس فاطمہ س کو ناراض کیا
اس نے مجھ رسول ص کو ناراض کیا اور جس نے رسول ص کو ناراض کیا اس نے اللہ
کو ناراض کیا۔اسلئے یہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اپنے علاوہ تمام مسلمانوں
کو کافر کہہ کر آل سعود کے اس ظلم و جبر کے پالسی اور کفر کے فتوؤں کی
فیکٹریوں جس کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے
اور اسی تکفیری وہابی فکر و دہشت گردی کی وجہ سے مساجد و بازار تو کیا
داتا دربار رحمان بابا و بری امام کے مزارات تک نشانے پر ہیں، اس کے خلاف
اپنی آواز بلند کرنی چاہئے ورنہ یہ فتنہ پاکستانی معاشرے کو دیمک کی طرح
چاٹ جائے گا اور پھر بات ۔۔۔اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئی
کھیت۔۔۔۔۔والی بات رہ جائے گی

تحریر و ترتیب: ایس ایچ بنگش

SHARE

LEAVE A REPLY