ہوس کے نام پر ہرگز خطائیں مت کرنا۔ از۔ سید انور جاوید ہاشمی

0
56

ہوس کے نام پر ہرگز خطائیں مت کرنا
جو ہو چکی ہیں دو بارا وفائیں مت کرنا
ہزار مرحلے ہیں عشق میں محبّت کے
دکھائیں لاکھ تمہیں وہ ادائیں مت کرنا
رفوگروں کے بھلا بس میں کب ہے بخیہ گری
ہوں زخم مندمل دل کے دعائیں مت کرنا
دلا رہے ہو یقیں پاک دامنی کا جسے
یقین ہے تو کبھی التجائیں مت کرنا
قدم بڑھانا اگر اعتبار ِ منزل ہو
نگاہ ِ ر ا ست کبھی دائیں بائیں مت کر نا

LEAVE A REPLY