اسلام اورحقوق العباد (3) از۔شمس جیلانی

0
57

گزشتہ ہفتہ ہم اس پر بات کر رہے تھے کہ ا وروں کا اتباع کرنے میں کیا قباحت ہے اور کیوں؟ حضور (ص) کا اتباع ہی صراط ِ مستقیم ہے، اس کے لیے ہم نے جو آیات قرآنی پیش کیں ان کے مطابق انہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا جو تحفظ حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں ہے ۔ امید ہے آپ نے وہ ساری حقیقت اور احادیث کی اہمیت پوری طرح سمجھ کر ذہین نشین کر لی ہوگی ۔اب ہم آگے بڑھتے ہیں اور اس سلسلہ میں حضور (ص) کی عطا کردہ مشہور حدیث پیش کرکے بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ارشاد ِعالی (ص) ہے کہ “میرا ہی راستہ صراط ِ مستقیم ہے۔جوکہ سیدھا راستہ ہے اسی پر چلتے رہو ، فلاح پا جاؤگے اس کے دونوں طرف بہت سے دروازے ہیں جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں انہیں اٹھاکر بھی مت دیکھنا ورنہ بھٹک جا ؤگے “ چونکہ حضور(ص) نے کسی دوسرے راستے پر چلنے کے لیے منع فرمایا ہے تیسرے کہ کسی نے کہا بھی نہیں کہ میرے راستہ پر چلو۔ لہذا اس سلسلہ میں وہ آیت مشعل راہ ہے کہ یہ جو عطا فرمائیں لیلو ، جس سے روکدیں رک جا ؤ۔ آئیے دیکھتے ہیں جو ہمارے لیےنمونہ عمل ہیں وہ کیسے تھے اور ہمیں کیسا دیکھنا چاہتے تھے۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انسانیت کی بات یہاں سے شروع کی کہ ہم نے حضرت آدم (ع)کو مٹی سے اپنے ہاتھ سے بنایااور حضرت حوّا (رض)کو ان سے پیدا کیا اور ان دونوں سے سارے انسان پیدا ہوئے (اس لیے ) کسی پر کسی کو کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ اس کے بعد ہم نے جو تمہارے قبائل اور شعوب بنا ئے وہ صرف تمہاری پہچان کے لیے ہیں، (فخر کرنے کے لیے اور اترنے کے لیےنہیں) ۔فضیلت صرف اس کو حاصل جوکہ اللہ کی نظروں میں یہاں آکر سرخرو ہوا یعنی اس نے اپنے تقوے کی بنا پر بڑائی حاصل کر لی ہو؟ تقوے کا پہلا درجہ کہاں سے شروع ہوتا ہے وہ وہاں سے شروع ہوتاہے جوکہ انسانیت کی پہلی اکائی ہے یعنی کہ “ گھر“ ۔ یہاں پر حضور (ص) کاوہ ارشاد رہنما بنتا ہے۔ کہ “ سب سے اچھا وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہے اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں “ اس کی مثال ہمارے سامنے حضور (ص) کی ازدواجی زندگی ہے ۔پھرپہلی اکائی کے تقاضے پورے کرنے کے بعد بات اور آگے بڑھتی ہے اور ا س زمرہ میں ہمسایہ آتے ہیں ان کے ساتھ اتنے بہتر سلوک کی تاکید کی گئی کہ صحابہ کرام (ص) کو گمان ہو نے لگا کہ شاید وہ وراثت میں شریک کردیے جائیں گے ۔ پھر اجتماعی ذمہ داریوں پر زور دیا گیا ۔ اب آپ اس پر غور کریں کہ ہم کس حد تک ان تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں ۔ کیا ہمیں واقعی تقویٰ کی بنا پر اپنے گھر والوں پر فضیلت حاصل ہے ۔ کہیں ہم اپنے آپ کو اپنی بے راہ روی کی بنا گھر والوں کی نظروں میں گراکر سربراہی کا استحقاق تو نہیں کھوچکے ہیں۔ تقوے کی پہلی سیڑھی صدق ِ مقال اور اکل حلال ہے۔ اسی لیے حضور (ص) فرمایا کہ مسلمان میں سب عیب ہوسکتے ہیں لیکن جھوٹا مسلمان نہیں ہو سکتا؟ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ بقیہ سارے کام کر نا شروع کردیں۔ اس ہدایت پر عمل کرکے تو دیکھئے ۔ یہ ہر برے آدمی سے اس کی برائی کرنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے کیونکہ برائی جھوٹ بولنے پر منحصر ہے۔جھوٹ چھوڑ یں گے تو آپ خود اپنے خلاف اور اپنے خاندان والوں کے شہادت دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ لہذا باقی برائیاں خود بخود چھٹ جا ئیں گی۔ اسی طرح روح میں پاکیز گی خود بخود آجائے گی۔ لہذا سوائے پاکیزہ چیزوں کے آپ کوئی دوسری مشکوک چیز کھائیں گے ہی نہیں ۔ اسی پرباقی چیزوں کو قیاس کر لیں کہ وہ سب چھٹ جائیں گی۔ اور آپ کے عمل کی خوشبو خاندان سے نکل کر ہمسایوں تک پہونچے گی اور بتدریج پورے انسانوں میں پھیل جا ئیگی۔ کیونکہ جب لالچ اور ہوس نکل جائیگی تو پوری انسانیت کے لیے حضور (ص) کے اس ارشاد کے مطابق آپ سب کے لیے وہی چاہیں گے ،جو اپنے اپنے لیے چاہتے ہیں۔تقویٰ جو کہ خدا خوفی کانام ہے وہ ہر قدم پر آپ کو ستاتا رہے گا۔اور اس کو قائم رکھنے کے لیے آپ ہرلمحہ پریشان رہیں گے جیسے کہ کوئی مسافر بار بار جیب ٹٹول کر دیکھتا ریتا ہے کہ اس کابٹوہ محفوظ ہے یانہیں۔ اگر غلطی ہو بھی جائے تو فورً اللہ کو راضی کرنے کے لیے توبہ کریں گے۔ اور کسی بندے کو کسی طرح کا ضرر پہونچایا ہے تو اسے ہر طرح راضی کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ اللہ راضی ہوجائے ۔ کیونکہ وہ فرما چکا ہے کہ میں سب کچھ معاف کردونگا سوائے شرک اور حقوق العباد بندوں کے حقوق کے۔

SHARE

LEAVE A REPLY