کارزار سیاست میں سنگین الزامات، بازی گری، کٹھ پتلیوں کے تماشے لگانے اور انہیں ختم کرنے کے مطالبات کا نہ ختم ہونے والا اسٹیج سج چکا ہے، جیسے جیسے جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ جمع کرنے کی ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے، حکمران ن لیگ کا رویہ تند تیز لہجے سے سخت زبان اور اب دھمکیوں پر اتر آیا ہے، گویا برداشت اور ہمت جواب اور اقتدار کے دن مٹھیوں سے ریت کی مانند سرکتے نظر آرہے ہیں، آج احتساب کو مذاق کہنے والے محترم وزیراعظم پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کی ضمانت دے چکے ہیں، اپنے بچوں کی آف شور کمپنیوں، اندرون وبیرون ملک اثاثوں کے تمام ثبوت کی فراہمی کا وعدہ دے چکے ہیں لیکن اب حکمران ن لیگ کہتی ہے، انصاف نہیں ہورہا، پاپولر کی بجائے فیصلہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے، جب تک اعتراضات کا ازالہ نہیں کیا جائے گا، قابل قبول نہیں ہوگا، گویا ن لیگ فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں مزاحمت، دبائو، احتجاج اور مقابلہ کرنے کی ٹھان چکی ہے اب وہ کیا اور کس صورت میں ہوگا یہ معلوم نہیں، تاہم سپریم کورٹ کے جج صاحبان اور اس کی قائم کردہ جے آئی ٹی سے متعلق ن لیگی قائدین، ارکان پارلیمنٹ اور وزراء اور خود وزیراعظم صاحب کے زہر میں بجھے الفاظ آئندہ کے منظر نامے کا واضح پتا دے رہے ہیں، عدلیہ بحالی کی کامیابی کا تمغہ سینے پر سجانے والوں کا سپریم کورٹ پر دن دہاڑے حملے کا داغ دھلنے کی بجائے پھر سے اجلا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

دس جولائی کو جے آئی ٹی اپنی 60 روزہ حتمی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے گی، رپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ وزیراعظم کو نااہل قرار دینے، با لواسطہ یا بلاواسطہ اقتدار سے ہٹانے کی بجائے دودھ سے بال کی طرح نکال بھی دے تو جو ہونا تھا وہ ہوچکا ہے، حقیقت یہ ہے کہ پاناما لیکس نے وزیراعظم، ان کے خاندان کی ساکھ کو ہی نہیں ان کی جماعت کو بھی سخت نقصان پہنچایا ہے جس کے بڑے اثرات تو آئندہ انتخابات میں واضح نظر آئیں گے تاہم اس وقت ن لیگ کی سب سے بڑی پریشانی اس سے بڑھ کر کوئی نہیں کہ فیصلہ خلاف آیا تو اس کا سب سے بڑا بینی فشری عمران خان ہوگا اور 2018 کے انتخابی معرکے میں تحریک انصاف کی کامیابی کی بنیاد بن سکتا ہے، تبھی تو وفاقی وزیر سعد رفیق کو بالآخر کہنا پڑا کہ ’’ہم گرے تو عمران خان بھی نہیں بچیں گے وہ بھی گریں گے‘‘ لگتا ہے کہ ن لیگی قیادت کو فیصلے کا اندازہ ہوچکا ہے اور اب ’’شکست‘‘ کا بدلہ خان صاحب کو انجام (ڈس کوالی فکیشن )سے دو چار کرنا ہوگا، لیکن حکومتی مخالفین کا سوال ہے کہ کیا پاناما لیکس عمران خان کا کیا دھرا ہے؟ کیا جے آئی ٹی عمران خان نے بنائی؟ کیا جے آئی ٹی عمران خان کے کہنے پر کارروائی کررہی ہے؟ کیا فیصلہ عمران خان کے ایما اور مشورے پر سنایا جائے گا؟ اور اگر ان باتوں میں سے کسی حقیقت کا علم ن لیگ کو ہے تو یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ جو خان صاحب نے کرنا تھا کردیا، اس کے کمان سے تیر نکل چکا ہے، اب تو وہ اپنا دائر کردہ کیس بھی واپس نہیں لے سکتا، بعض حکومتی زعماء کہتے ہیں کہ مسٹر خان کو یہ نصیحت کم دھمکی یا کسی کمپرومائز کا عندیہ کی آفر کرنا تھی تو تب کرتے جب اس ہنڈیا کو چولہے پر چڑھانے اور ابھی اسکے لوازمات پورے کئے جارہے تھے، اس وقت شاید صورت حال بدل جاتی اب وزراء کے دعوے، نعرے اور دھمکیاں بے وقت کی اذانیں ہیں گو کہ حکومت کے پاس زبانی کلامی سخت ردعمل دینے کے سوا کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں لیکن حکمرانوں کا مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والی سیاسی بساط کے اجزا ترکیبی کا نقشہ کھینچ کر خان صاحب کو مشورہ کم وارننگ ایسا ہی ہے جیسے مریض وینٹی لیٹر پر ہو اور میٹھے سیرپ کے چمچ پلا کر اس کے بچ جانے کی توقع کی جائے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ایک طرف سیاسی بازی گر اور کچھ تماشبین اپنی چالوں سے میلہ لوٹنے کے چکر میں ہیں، تو دوسری طرف حقیقی کردار، صورت حال کی سنگینی کو سمجھنے کی کوشش تک نہیں کررہے یا بے بس ہو کر نظرانداز کررہے ہیں کہ موجودہ ’’کھیل‘‘ کے مقاصد کچھ اور اس کی کڑیاں کہیں اور جا ملتی ہیں، بلاشبہ جو بھی فیصلہ آیا اس میں ’’اندرونی‘‘ اور ’’بیرونی‘‘ ہاتھ کار فرما ہوگا لیکن نہیں بھولنا چاہئے کہ اصل طاقت اور بقا کے ضامن صرف عوام ہی ہیں، حالیہ عالمی واقعات گواہ ہیں کہ جب عوام ساتھ کھڑے ہوں تو کوئی بیرونی طاقت تو کجا اندرونی طاقتیں بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، ایک مرتبہ وینزویلا کےصدر ہوگو شاویز کو اقتدار سے باہر کرنے کے لئے اس کی فوج کو امریکہ نے اکسایا اور شب خون مارنے میں بھرپور مدد دی لیکن چند گھنٹوں میں عوام نے سڑکوں پرآکر فوج کو بیرکوں میں واپس بھیج دیا، ترکی میں رات کے اندھیرے میں ’’بغاوت‘‘ کی ناکامی کے واقعہ نے ثابت کیا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ اور منبع صرف عوام ہی ہیں، آپ کو بھی اپنی ادائوں پہ غور اور خود سے پوچھنا ہوگا کہ، کیا عوام آپ سے خوش ہیں؟ کیا وہ آپ کے ساتھ نہیں تو کیا کہیں پیچھے کھڑے ہیں؟ کیا وہ آپ کے اقتدار کو بچانے کے لئے ٹینکوں کے سامنے لیٹنے کو تیار ہیں؟ موجودہ ’’جمہوریت نواز حکومت‘‘ کو بچانے کے لئے بن بلائے ڈی چوک میں دھرنا دیں گے؟ آپ کے خلاف فیصلہ آیا تو کیا کوئی ملک گیر احتجاج اور تحریک چلائے گا؟ کسی اور سے نہ پوچھیں خود اپنےدل پر ہاتھ کر اپنا جواب خود کو بتائیں؟ کوئی سمجھے تو رمضان المبارک میں مسجد نبویؐ میں وزیراعظم کے ساتھ پیش آنے والا ایک غیرمناسب واقعہ اس کی ایک افسوس ناک اور شرمناک مثال ہے! عوامی مسائل حل کرنے میں ناکامی کے بعد سیاسی بقا کے لئے ’’سی پیک کا کارڈ‘‘ استعمال کرنا آپ کے لئے آسان نہیں ہوگا، زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ منصوبہ موجودہ دور سے نہیں بلکہ تقریباً ایک دہائی سے پائپ لائن میں تھا، چینی حکام کےمطابق گزشتہ ادوار میں اس پر کام جاری رہا اور موجودہ دور میں اس کی ایک شکل سامنے آئی جو تاحال واضح نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ منصوبہ آپ کے دور میں مکمل ہو رہا ہے اور نہ ہی اس دور میں اس کے ثمرات عوام تک منتقل ہونے جا رہے ہیں،
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو ہٹانے کا فیصلہ ہوچکا ہے تو اقتدار کے رہ جانے والے کم وقت میں عوام کو ہمنوا بنانے کا کوئی چمتکار کریں، ملکی اداروں سے دشمنی اور سیاسی مخالفین سے لڑنے کی بجائےعوامی اور آئینی میدان میں مقابلے کے لئے کمر کس لیں شاید کوئی راہ نکل آئے، آپ نے درست کہا تھا کہ جلد 20 کروڑ عوام کی عدالت لگنے والی لیکن قرین قیاس ہے کہ عوامی انجام سے پہلے آئینی انجام ہونے کو ہے؟ لہٰذا حکمران ہوں یا ان کے مقابل، ملکی اداروں کی بے توقیری کا سلسلہ تو ہر صورت بند ہونا چاہیے،عوام نہ سہی ملکی بقا و سلامتی کا ہی کچھ سوچ لیا جائے تا کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی سب کو پچھتانا نہ پڑے۔ وزیراعظم اور انکے خاندان سے احتساب کا آغاز ہوچکا۔ اس ’’نازک موڑ‘‘ پر خان صاحب پر ذمہ داری سب سے زیادہ عائد ہے، وہ مقبول ہیں اور عوام کا مکمل اعتماد چاہتے ہیں تو خود اور اپنی جماعت کے سینئر قائدین سمیت ’’طاقت وروں‘‘ پر عائد آف شور و دیگر الزامات سے پاک کرنے کے لئے آزادانہ تحقیقات اور احتساب کےلئے پیش کردیں، اور سمجھ لیں کہ جو کچھ وہ آج کہہ اور کررہے ہیں وہ ’’طاقت وروں‘‘ کے ہاں رجسٹرڈ کیا جارہا ہے پھر کل ان کی باری آئے گی اور یہی ’’اعمال نامہ‘‘ آپ کے گلے کا ہار بن جائے گا، کہتے ہیں کہ میدان جنگ ہو یا سیاسی اکھاڑا، جب کوئی معرکہ چل رہا ہو تو کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا اور قربان بھی کرنا پڑتا ہے، جناب وزیراعظم آپ عدالتی فیصلے سے پہلے بھی مدبرانہ اور بڑے فیصلے کر سکتے ہیں، ’’طاقت وروں‘‘ سے لڑ نہیں سکتے جواب تو دے سکتے ہیں، چند ماہ کی قربانی آئندہ کے اقتدار کی نوید بن سکتی ہے، کوئی اور نہیں آپ ہی ملک کو کسی بھی ممکنہ بڑے بحران سے بچا سکتے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY