پانچ جولائی 1977 کو عوام کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ، ملک میں پہلی بار مارشل لاء لگا جس نے ملک کو 11سال تک آمریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ 1977کے عام انتخابات میںپاکستان پیپلز پارٹی کی مد مقابل نو جماعتوں پر مشتمل پاکستان نیشنل الائنس کو 200میں سے صرف 36نشستیں حاصل ہوئیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت پر دھاندلی کے الزامات لگے ۔پی این اے کی دھاندلی کے خلاف تحریک نظام مصطفی تحریک میں تبدیل ہو گئی ۔تحریک استقلال کے سربراہ ائیر مارشل اصغر خان نے فوجی سربراہان کو خط لکھ دیا کہ منتخب حکومت کے احکامات نہ مانے جائیں۔

حکومت نے حالات بہتر بنانے کے لیے پی این اے کے ساتھ مذاکرات کا اغاز کر دیا۔ پی این اے کی ٹیم اور ذوالفقار علی بھٹو کی ٹیم کے مذاکرات جاری تھے۔ حتمی نتائج پر آنے والے تھےلیکن اسی دوران 4جولائی 1977 ء کو آپریشن فئیر پلے ہو گیا ۔فوج نے سیاسی بحران کو جواز بنا یا۔

آرمی چیف جنرل ضیاء الحق اور چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد شریف نے بھٹو حکومت کو برطرف کرکے مارشل لاء کا نفاذ کر دیا۔جنرل ضیاء الحق نے نوے روز میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا لیکن یہ وعدہ پورا تقریباً 8 سال بعد کیا ۔

منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر کے عدالتی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ، نظریہ ضرورت کا سہارا لیتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انوار الحق نے مارشل لاء کو جائز قرار دے دیا۔

کسی ممکنہ سیاسی تحریک کو روکنے کے لیے سیاسی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور ان کے خلاف پُر تشدد کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ پھر جنرل ضیا الحق نے پاکستان کو افغان جنگ میں ایسا جھونکا کہ وطن عزیز آج تک اس آگ میں جل رہا ہے ۔

وہ فورسز جو پاکستان میں بے چینی چاہتی تھیں۔ ضیاء ان کا آلہ کار بنےاور آج جن مسائل سے ہم دوچار ہیں ،ان کی بنیاد پانچ جولائی 1977کا مارشل لاء ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھا دیا گیا، ملک کو ایک سیاسی بے یقینی اور عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا گیا ، آمریت کے منہ کو جمہوریت کا خون کچھ یوں لگا کہ 34 سال بعد 2013میں پہلی بار ایک منتخب حکومت نے اپنی مدت پوری کی اور اقتدار نئی منتخب جمہوری حکومت کو سونپا ۔

سیاسی مبصرین کہتے ہیں اگر ملک و قوم کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو یہ آواز کبھی نہ گونجے۔۔۔ میرے عزیز ہم وطنو !

SHARE

LEAVE A REPLY