چھ جولائی 1953ء نانگاپربت کو آسٹریائی جرمن مہم جو ٹیم نے سر کیا

0
48

نانگا پربت دنیا کی نویں اور پاکستان کی دوسری سب سے اونچی چوٹی ہے۔ اس کی اونچائ 8125 میٹر/26658 فٹ ہے۔ اسے دنیا کا قاتل پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔ اس پہ چڑھنے میں سب سے زیادہ لوگ مارے گۓ۔ اسے ایک جرمن آسٹرین ہرمن بہل نے سب سے پہلے 3 جولا‍‍‌‌‎ئی 1953ء میں سر کیا۔
فیری میڈو یا پریوں کا میدان نانگا پربت کو دیکھنے کی سب سے خوبصورت جگہ ہے۔ اس جگہ کو یہ نام 1932ء کی جرمن امریکی مہم کے سربراہ ولی مرکل نے دیا۔ گرمی کے موسم میں سیاحوں کی اکثریت فیری میڈو آتی ہے یہ 3300 میٹر / 10827 فٹ بلند ہے۔ یہ نانگا پربت سے شمال کی جانب دریائے سندھ اور شاہراہ ریشم سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ تاتو، فنتوری اور تارڑ جھیل راستے میں آتے ہیں۔

1895ء میں البرٹ ممری نے اسے چڑھنے کی کوشش کی اور وہ قریبا 7000 میٹر کی بلندی پر پہنچا تھا کہ اسکے ھو ساتھی گر کر مر گۓ اور اسے واپس آنا پڑا۔ 1930ء کی دہائی میں جرمنوں نے چھ بار اسے سر کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ ایک جرمن آسٹرین ہرمن بہل 3 جولائی 1953ء کو اسے سر کرنے میں کامیاب رہا۔ اسکے چڑھنے تک 31 لوگ اسکے سر کرنے میں مارے جا چکے تھے۔ ہرمن بہل نے اسے آکسیجن کی مدد کے بغیر سر کیا۔ 1962ء کو اسے تین جرمنوں نے سر کیا۔ 1970ء میں تیسری بار اسے رائنہولڈ میسنر اور اسکا بھائی گنتھر اس پر چڑھے اترتے ہوۓ گنتھر مارا گیا۔ 1978ء میں رائنہولڈ میسنر نے اسے اکیلے سر کیا۔
نانگا پربت کے ساتھ بہت جرمن متعلق رہے اسلیۓ اسے جرمن پہاڑ بھی کہتے ہیں۔
نانگا پربت کی چوٹی پر برف نہیں ٹہرتی یہ ننگی رہتی ہے اسلیۓ اسکا نام ناگا پربت ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY