ہمیں قاتل ریمنڈیو س کے معمولی ہونے یا نہ ہونے اور اِسی طرح اِس کے مخصوص امریکی فوجی دستے سے تعلق ہو نے یانہ ہونے جیسے سوال میں جا نے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بس ہمیں تو یہ نقطہ پیشِ نظر رکھنا چا ہئے کہ وہ دوپاکستانیوں کا قاتل تھا ،جوہمارے یہاں پکڑا گیا اور ہم نے اُسے قاتل جان کر بھی چھوڑا دیا ، کیسے چھوڑا ؟؟چلیں پہلے تو یہ معاملہ سب سے پوشیدہ اور دبا ہو اتھا۔
مگر اَب جبکہ یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپانہیں رہا ہے، بقول قاتل ریمنڈیوس اِس کی رہا ئی میں کس کس نے کس طرح اپنا کردار ادا کیا وہ اِس کے لئے حیران کن تھا جس کا اِس نے ظاہر اور کھلے لفظوں اپنی کتاب ” دا کنٹریکٹر “ میں ذکرکردیا ہے ، اُس نے اپنی کتاب میں فخریہ انداز سے لہک لہک کر اور جُھوم جُھوم کر واہ شگاف انداز سے انکشاف کیا ہے کہ اُس کی اپنی نوعیت کی انوکھی اور حیرت انگیز رہا ئی میں پاکستان میں اُس وقت کے پی پی پی حکومت کے صدر مسٹر جنابِ مسٹر آصف علی زرداری جو اپنی مفاہمت اور مصالحت پسندی میں اپنی مثال آپ ہیں اور جب بات امریکا کی ہو اور کسی امریکی شہری کی رہا ئی کا مسئلہ ہو تو پھر مسٹرزرداری کے لئے تو یہ نا ک اور اَنا کا مسئلہ بن گیاہوگا کہ اِن کی حکومت میں اِن کے ہوتے ہوئے کسی امریکی شہری اور وہ بھی ریمنڈیوس جیسے امریکی فوج سے تعلق رکھنے والے کسی رُکن کی رہائی کا معاملہ ہو تو پھر زرداری صاحب کہاں پیچھے ہٹنے والے تھے اُنہوںنے اِس معاملے کو چیلنج سمجھ کرلیا ہوگا اور اپنی تمام ذاتی و سیاسی اور ریاستی طاقت کو استعمال کیا اور امریکی ریمنڈ یوس کو رہائی دلواکر ہی دم لیا ،پھر اِن کے سا منے آرمی چیف جنرل کیا نی ، پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کے سرگرم رہنماجنرل شجاع پاشا کیا کرسکتے تھے؟؟ جب سِول جمہوری حکمران اوراُس وقت کی اپوزیشن جماعت پی ایم ایل ن کے سربراہ (مگر موجودہ حکومت کے وزیراعظم ) نوازشریف سمیت بہت سے سیاست دان اور عدلیہ کے ججز اور وکلاءکی بھی بہت بری تعداد اِس کی رہا ئی پر ایک پیچ پر رہ کراپنا اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اُن دِنوں پا کستا ن میں تعینات امریکی سفیر کیمرون منٹر سے قاتل ریمنڈیوس کی رہائی کے حوالے سے مسلسل رابطے میں رہے ہوں گے تو پھر کیوں نہ اِس کی رہائی عمل میں آئی ہوگی اِس کا اظہار تو خود قاتل ریمنڈیوس نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے وہ لکھتا ہے کہ مفاہمت اور مصالحت پسندی کے شہنشاہ زرداری اور پاکستانی سیاستدانوں اور اداروں کے سربراہان سمیت سب کی با ہم کوششوںاور انتھک محنت و مشقت سے میری( ریمنڈیوس) کی رہائی عمل میں آئی ، حد تو یہ ہے کہ اُسے بھی اِس طرح اپنی رہائی کا یقین نہیں آیا جس طرح اُس کی رہا ئی عمل میں لا ئی گئی وہ خود لکھتا ہے کہ عدالت سے جہاز میں بیٹھنے تک وہ خود بھی حیران اور پریشان تھا کہ وہ رہا ہو کر بھی خود کو رہا محسوس نہیں کررہاتھاانداز کریں کہ وہ اپنی سزا سے کتنا خوفزدہ تھا،؟؟ کیو نکہ وہ بہ ہوس و حواس یہ جانتاتھا کہ وہ ایک قا تل ہے اور جس کی پاکستان میں کیا سزا ہے ؟؟ یہ بھی ریمنڈیوس خوب جانتاتھا؟؟ کہ پاکستان کے قا نون میں قتل کی سزا بڑی ہولناک ہے ، اُسے معلوم تھاکہ اُس نے جن دو پاکستانیوں کو برق رفتاری سے وحشیانہ انداز سے قتل کیا ہے اِن کے لواحقین اِسے معاف کرنے کو قطعاََ تیار نہیںہیں، مگر پاکستانی قا نون میں دیت کی نرمی کی وجہ سے لواحقین کو 24کروڑ کی تُرنت ادائیگی کے بعد اِس کی کیسے رہا ئی عمل میں آئے ؟؟ وہ یہ منظر آج تک نہیں بھول سکا ہے قاتل ریمنڈیوس جانتا ہے کہ 16مارچ کو اِس کی رہا ئی اِس کی زندگی کا عظیم ترین دن ہے مگر چو نکہ وہ ایک سُپر پاورمُلک امریکا کا شہری تھا اُس کو امریکا کو بچانا لا زمی تھا اور پاکستان جیسے مُلک سے تو اپنے ایک ریمنڈیوس ہی کیا ؟؟ کوئی بھی عام سا امریکی شہری ہی کیوں نہ ہوتا ؟؟اور اگروہ کسی بھی پاکستانی کو قتل کر دیتا ؟؟ توامریکا کو اُسے بھی بچانا لا زمی اور ضروری ہوتا، گو کہ کیا جب بھی پاکستان میں رہتے ہوئے کوئی بھی امریکی شہری کسی بھی پاکستانی کو قتل کردے گا ؟ تو کیا جب بھی امریکی اپنے ہر قاتل شہری کو بجا ئے گا؟؟ اور ہمارے حکمران اور اداروں کے سربراہان اپنا اپنا ایسا ہی رو ل ادا کریں گے ؟؟کیونکہ امریکا، امریکا ہے اورامریکا پاکستان کو امداد او رقرضے دیتا ہے اور پاکستانی حکمران ، سیاستدان اور بہت سے اداروں کے سربراہان اپنی دال دلیہ اِسی امداد اور قرضوں پر ہی چلاتے ہیں سوامریکا کی مرضی پاکستان پر نہیںچلے گی تو پھر کس پر چلے گی؟؟

بہرکیف ،ریمنڈیوس نے اپنی کتاب میں جو کچھ لکھا وہ جھوٹ نہیں ہوسکتاہے، مگر اَب اِس کے اِس سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کے لئے ہمارے لوگوں کو طرح طرح کے جھوٹ کا سہارا لینا پڑے گا اور یہ اُس وقت تک جھوٹ بولتے رہیںگے جب تک ہماری آئندہ نسلیں اِس معاملے کی تہہ تک جا تی رہیں گیںاور اصل حقا ئق جا ننے کی کو شش کرتی رہیں گیں یا جب بھی کوئی با شعور پاکستانی ریمنڈیوس کی کتاب ” دا کنٹریکٹر‘ کا مطا لعہ کرے گا تب وہ اِس کتاب میں نامزد افراد اور اِن کے کرداروں کے بارے میں جا ننے اور کھوج لگا نے کے لئے اُن سے یا اُن کے خاندان کے افراد سے پوچھ گچھ کرے گا توامریکی قاتل کے سچ اور اپنوں کے جھوٹ پہ جھوٹ بولے جانے کی وجہ سے تشنہ لب ہی رہے گا۔

بہر حال ، آج ہمیں سب سے پہلے تو ٹھنڈے دل و دما غ سے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہما رے پاکستان سمیت اُمتِ مسلمہ کے جتنے بھی مسلم مما لک ہیں، اُن سب ہی میں امریکا کی مرضی منشا ڈنڈے کے زور پر چلتی ہے ، اورایسا ایک لمبے عرصے سے ہوتا چلا آیا ہے اور اُس وقت ہوتا رہے گا جب تک کہ ہم امریکی دبا و ¿ میں رہیں گے،اوراِس سے بھی کسی کو انکا ر نہیں کرنا چا ہئے کہ ایک پا کستان ہی کیا؟؟ بلکہ سعودی عرب سے لے کر بیشتر مسلم ممالک بھی کسی نہ کسی حوالے سے امریکی دباو ¿ اور اثر میں جکڑے ہوئے ہیں،مزید یہ کہ ایک ہمارے حکمران ہی ایسے نہیں ہیں جو امریکی ڈکٹیشن سے اپنی دال دلیہ چلا تے ہیں بلکہ آج ہم اگر مسلم ممالک کے حالاتِ حا ضرہ اور موجودہ عا لمی تنا ظر میں صورتِ حال کا جا ئزہ لیں تو یہ بات کھلی طور پر عیاں اور واضح ہوجائے گی کہ پاکستان سمیت سب ہی مسلم ممالک امریکی گا ئیڈ لا ئن پر اپنے سارے اندرونی اور بیرونی فیصلے کرتے ہیں اور اکثر و بیشتراپنی خارجہ پالیسی پر بھی امریکی ڈکٹیشن کا انحصار کرتے ہیں،تب ہی بھٹوکی پھانسی،شاہ فیصل کا قتل،قذانی کے خلاف بغاوت،ڈاکٹرقدیرخان کی نظربندی اور قطر کا معاملہ سامنے آیا ہے اَب جس کا خمیازہ سب کو ہمیشہ بھگتنا پڑے گا کیو نکہ ہم جوآنکھیں بند کرکے اللہ سے زیادہ امریکا پر بھروسہ کرتے ہیں یہ جا نتے ہوئے بھی کہ سُپر طاقت امریکا نہیں بلکہ صرف اللہ ہے۔

یقینا ہما رے ماضی کے حکمرانوں ، سیا ستدانوں ، اہم اداروں کے سربراہان نے ریمنڈیوس کو تو امریکی دباو ¿ اور قرضوں اور امدادوں کی لالچ کی وجہ سے رہا ئی دلوا دی تھی تو کیاآج بھی بھارتی دہشت گرد جا سوس اور ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو بھی ہمارے آج اور حال کے حکمران ، سیاستدان اور اداروں کے سربراہان امریکی اور بھا رتی دباو ¿ یا قرضوں اور امدادوں یاکسی ذاتی یا سیاسی یا تجارتی لالچ یا مفاہمت اور مصالحت پسندی کی وجہ سے رہاکردیں گے اور اگر اِس نے بھی اپنی رہا ئی کے بعد ریمنڈیوس کی طرح کوئی کتاب لکھ ڈالی تو پھر کیا ہمارے لوگ اپنا اپنا بے نقا ب ہوتا کردار دیکھ پا ئیں گے…؟؟؟کیا پھرہمارے لوگ ریمنڈیوس کے سچ کے سا منے جیسے آج بے بس ہیں تو کیا پھر کلبھوشن یادیوکی کتاب میں لکھے ہوئے سچ کو جھٹلا پا ئیں گے؟؟ یہ سوچ لیں کہ کلبھوشن یادیوں کی رہائی سب کے لئے بہت بڑا سوالیہ نشان ہوگی؟؟؟ تو خبردار ، ریمنڈیوس کی رہائی کی طرح کلبھوشن یادیو کی رہا ئی نہ ہونے پائے اَب اِسے ہر حال میں سزا دی جا ئے جیسا کہ پاکستان کا قانون کہتا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY