دی چیمپئن شپس ومبلڈن، دی ومبلڈن چیمپئن شپس یا صرف ومبلڈن، دنیائے ٹینس کا قدیم ترین اور شاید بجا طور پر سب سے زیادہ ممتاز اور معروف ٹورنامنٹ ہے-

اس ٹورنامنٹ کا انقعاد 1877 سے آل انگلینڈ کلب ان ومبلڈن، لندن میں ہوتا ہے-

ومبلڈن، اے ٹی پی کے چار گرینڈ سلام ٹورنامنٹس میں سے تیسرا گرینڈ سلام ٹورنامنٹ ہے- بقیہ تین ٹورنامنٹس، آسٹریلین اوپن، فرنچ اوپن اور یو ایس اوپن ہیں-

ومبلڈن، وہ واحد گرینڈ سلام ٹورنامنٹ ہے، جو کہ ٹینس کے لئے استمال ہونے والی اولین اور اصلی سطح، گھاس پر ہی کھیلا جا ہے- چونکہ اس کھیل کو ابتدا میں لان کی گھاس پر ہی کھیلا جاتا تھا اسی لئے آج بھی بہت سے لوگ ٹینس کے لئے لان ٹینس کا لفظ استعمال کرتے ہیں-

یہ ٹورنامنٹ جون کے آخر سے دو ہفتوں پر محیط ہوتا ہے جس میں دوسرے ہفتے کا ہفتے اور اتوار کا دن فائنلز کے لئے مخصوص ہوتا ہے-

اس ٹورنامنٹ کی بہت سی روایات ہیں- جن میں کھلاڑیوں کے لئے یہاں کا اپنا مخصوص ڈریس کوڈ بھی ہے، جس کے مطابق کھلاڑی صرف سفید، یا ایسا لباس جو سفید ظاہر ہو، ہی پہن سکتے ہے- اس کے علاوہ تماشائیوں اور شاہی مہمانوں کا سٹرابیری اور کریم کھانا ومبلڈن روایات میں شامل ہیں-

اس ٹورنامنٹ کو اس لئے بھی خاص کہا جاتا ہے کہ یہاں کورٹس کے گرد اشتہاری بورڈ لگانا ممنوع ہے-

آیئے، اب نظر ڈالتے ہیں ومبلڈن کی تاریخ پر:

یہ 1868 کی بات ہے، “آل انگلینڈ لان ٹینس اینڈ کروکٹ کلب” ایک پرائیویٹ کلب کے طور پر قائم کیا گیا- اس کا پہلا گراؤنڈ تھا وورپل روڈ پر واقع، ومبلڈن-

لان ٹینس کو اس کلب کی سرگرمیوں میں 1876 حصّہ بنایا گیا اور اگلے ہی سال مریلبون کرکٹ کلب کے ضابطوں کی جگہ کلب کے اپنے مخصوص قوانین کے کوڈ وضع کئے گئے- آج بھی یہ ٹورنامنٹ انہی قوانین کے تحت کھیلا جاتا ہے، سوائے نیٹ اور پوسٹس کی اونچائی اور سروس لائن سے نیٹ تک کا فاصلہ، جیسے قوانین کے، جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ اب تبدیل ہو چکے ہیں-

پہلی ومبلڈن چیمپئن شپ کا آغاز 9 جولائی 1877 کو ہوا- ومبلڈن کے پہلے فاتح، سپینسر گور تھے- فائنل دیکھنے کے لئے تقریباً 200 تماشائیوں نے ایک ایک شلنگ کا ٹکٹ خریدا تھا-

ومبلڈن میں خواتین کے مقابلوں کا آغاز 1884 سے ہوا اور موود واٹسن نامی خاتون نے پہلا لیڈیز ٹائٹل جیتا تھا- انہیں انعام میں چاندی کی ٹوکری میں پھول دیے گئے تھے جن کی قیمت 20 گنیز تھی-

ایک اور روایت یہ تھی کہ دفاعی چیمپئن، صرف فائنل کھیلتا تھا- اس کے چیلنجر کو اس کے مقابلے میں تمام کھلاڑیوں کو زیر کر کے آنا پڑتا تھا- یہ روایت 1922 تک قائم رہی-

دیگر تین گرینڈ سلام ایونٹس کی طرح، ومبلڈن بھی 1968 میں اوپن ایرا کے آغاز تک، صرف چوٹی کے امیچیور پلیئرز ہی کھیل سکتے تھے-

فریڈ پیری وہ آخری برطانوی مرد کھلاڑی تھے جنھوں نے ومبلڈن کا ٹائٹل 1936 میں جیتا تھا جبکہ خواتین میں آخری مرتبہ ورجینیا ویڈ نے 1977 میں آخری مرتبہ برطانیہ کے لئے یہ ٹائٹل اپنے نام کیا تھا-

یہ ٹورنامنٹ، تاریخ کے ان ایونٹس میں شامل ہے جو بہت شروع سے ٹی وی پر نشر کئے جا رہے ہیں- پہلی بار یہ ٹورنامنٹ، 1937 میں ٹی وی پر نشر ہوا تھا-

ومبلڈن کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ دوسرے تمام گرینڈ سلام ایونٹس کے برعکس یہاں مردوں کے تمام مقابلے بیسٹ اوف فائیو کی بنیاد پر کھیلے جاتے ہیں- دوسرے تمام ایونٹس میں سیمی فائنل اور فائنل سے سوا تمام مقابلے بیسٹ اوف تھری کی بنیاد پر ہوتے ہیں-

بارش، اکثر ومبلڈن کے مقابلوں پر خلل ڈالتی رہتی تھی- اسی لئے کلب کی انتظامیہ نے 2009 میں سینٹر کورٹ پر ایسی چھت نصب کرا دی جو کہ بارش کی صورت میں کورٹ کو ڈھامپے رکھتی ہے-

رینکنگ:

ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل، انتظامیہ پلیئرز کی رینکنگ جاری کرتی ہے- یہ رینکنگ، کھلاڑیوں کی انٹرنیشنل رینکنگ اور ٹورنامنٹ مے پلیئر کی سابقہ پرفارمنس کو مد نظر رکھتے ہوئے ترتیب دی جاتی ہے-

عام طور پر تو صرف صف اول کے کھلاڑی ہی ٹورنامنٹ کھیلنے کے اہل ہوتے ہیں، لیکن مخصوص حالات میں کسی پلیئر کو “وائلڈ کارڈ” انٹری کی دعوت دے کر ٹورنامنٹ مے شریک کیا جا سکتا ہے-

ومبلڈن کی پوری تاریخ میں آج تک صرف ایک کھلاڑی وائلڈ کارڈ انٹری پر ٹورنامنٹ کھیل کر اسے جیتنے میں کامیاب ہو سکا ہے- سربیا کے گوران ایوانیسووچ نے یہ کارنامہ 2001 میں انجام دیا تھا- ان کے علاوہ 1985 کا ٹائٹل جیتنے والے بورس بیکر نے بھی یہ ٹورنامنٹ ایک انسیڈڈ کھلاڑی کی حیثیت سے جیتا تھا-

گراؤنڈز اور کورٹس:

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا، ومبلڈن آج بھی گھاس پر کھیلا جاتا ہے- لیکن خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک خاص قسم کی گھاس، پوررینیل رائے گراس سے سجے کورٹس پر کھیلا جاتا ہے- یہ اس گھاس کا انتخاب، کھیل کے دوران اس کا کم خراب ہونا، اس سے ابھرنے والے خوبصورتی کے تاثر اور دیگر وجوہات کی بناء پر کیا گیا ہے-

ومبلڈن میں واقع مختلف لانز کی ترتیب کچھ اس طرح رکھی گئی ہے کہ مرکزی کورٹ بیچ میں رہے اور دیگر اس کے ارد گرد- اسی لئے مرکزی کورٹ کو “سینٹر کورٹ” کہا جاتا ہے-

ومبلڈن مقابلوں کے لئے مرکزی حثیت سینٹر کورٹ اور کورٹ نمبر ایک کو حاصل ہے- ان کورٹس کی خاص بات یہ ہے کہ ان کورٹس کو پورے سال میں صرف دو ہفتوں کے لئے ومبلڈن مقابلوں میں ہی استعمال ہوتے ہیں-

ارد گرد پھیلے بقیہ 17 کورٹس کو ومبلڈن کے علاوہ بھی سال بھر کلب کی دوسری سرگرمیوں کے لئے بھی استعمال کیا جاتے ہیں-

یہاں کا سینٹر کورٹ ہی عام طور پر فائنلز، سیمی فائنلز اور دوسرے اہم مقابلوں کی لئے استعمال ہوتا ہے- سینٹر کورٹ میں تقریباً 15000 تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے- جبکہ دوسرے اہم ترین کورٹ، کورٹ نمبر 1 میں 11000 تماشائیوں کی گنجائش ہے-

سینٹر کورٹ کے جنوبی سرے پر رائل باکس واقع ہے، جہاں تاج برطانیہ سے تعلق رکھنے والے افراد اور مہمان بیٹھ کر مقابلوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں- سینٹر کورٹ پر نصب چھت عام طور پر بارش اور انتہائی گرم موسم میں کورٹ کو کور کر سکتی ہے-

بال بوائز اور بال گرلز:

ومبلڈن کی تاریخ اور روایات میں ایک حصّہ، بال بوائز اور بال گرلز جنہیں عام طور بی بی جیز کا بھی کہا جاتا ہے، بہت اہم کردار رہا ہے- ایک میچ کے لئے 6 بی بی جیز درکار ہوتے ہیں-

ان کے انتخاب کے لئے ایک کڑا معیار مقرر ہے جس کے تحت مقامی اسکولوں میں سے لڑکیوں اور لڑکوں کا انتخاب کیا جاتا ہے- منتخب ہونے والے اوسطاً 15 سال کے لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک ٹریننگ پروگرام سے گزرنا پڑتا ہے جس کا آغاز فروری سے ہو جاتا ہے-

بی بی جیز کی یہ ڈیوٹی دینے پر ہر لڑکے اور لڑکی کو تقریباً 120 سے 160 پونڈ کا معاوضہ بھی دیا جاتا ہے-

ایک اور خاص بات، ومبلڈن کے لئے عوام کو ٹکٹیں خریدنے کے لئے بھی بیلٹ سے گزرنا پڑتا ہے- بیلٹ کا طریقہ کار آل انگلینڈ کلب نے 1924 میں متعارف کرایا تھا اور آج بھی اسی طریقہ کار کے تحت سال کے آغاز میں ہی عام افراد کے لئے ٹکٹس فروخت کے لئے پیش کر دئے جاتے ہیں-

انعامات اور انعامی رقوم:

مردوں کا ٹائٹل جیتنے والے کو چاندی کی ایک خوبصورت ٹرافی پیش کی جاتی ہے جس کی اونچائی تقریباً ساڑھے اٹھارہ انچ ہوتی ہے اور اس پر “آل انگلینڈ لان ٹینس کلب چیمپئن شپ آف دی ورلڈ” کے الفاظ کندہ ہوتے ہیں-

خواتین کا ٹائٹل جیتنے والی کے حصّے میں ایک چاندی کی تھال آتی ہے، اور یہ بھی تقریباً ساڑھے اٹھارہ انچ کی ہوتی ہے- اس تھال/پلیٹ پر دیومالائی کرداروں کی خوبصورت تصاویر اور سیمبلز کندہ ہوتے ہیں-

ومبلڈن میں دی جانے والی مجموعی انعامی رقم پچھلے سال ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ساٹھ ہزار پاونڈ تھی جبکہ جیتنے والے کے حصے میں 1150000 پاونڈ کی رقم آئی تھی-

جیسا کہ اوپر بیان کئے گئے حقائق سے ظاہر ہے، ومبلڈن بجا طور پر ٹینس کی دنیا کا ورلڈ کپ کہلاتا ہے-

ڈان

SHARE

LEAVE A REPLY