اسلام اور حقوق العباد (4) از ۔شمس جیلانی

0
61

ہم گزشتہ قسط میں یہاں تک پہونچے تھے کہ ازروئے قرآن حضور (ص) کا اسوہ حسنہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہر طرح سے محفوظ ہے اور ملت اسلامیہ اس پر بلا خوف و خطر چل سکتی ہے؟ اب آگے بڑھتے ہیں ۔ چونکہ ہم سے آخر میں یہ کہا گیا ہے کہ “پورے کہ پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ جبکہ اسلام ہر طرح مکمل ہوگیا تھا؟ لیکن حضور (ص) کے اسوہ حسنہ کی طرف دیکھیں تو انہوں نے مدینہ منورہ پہونچنے کے بعد بھی شروع میں اس قول پر مسلمان ہونے والوں سے بعیت لی ہے کہ “ہم حتٰی المقدور آپ(ص) کی ا طاعت کریں گے“ کیونکہ اس وقت بھی وہاں اسلام پوری نافذ نہیں ہو سکتا تھا ۔ مثلاً بغیر سود کے کوئی یہودی قرضہ نہیں دیتا تھا اور آپ کو وہاں یہودیوں سے قرضہ لینے کہ واقعات لوگوں کی زندگی میں عام ملیں گے؟ اسی طرح فتح مکہ کے بعد پہلا حج جو9ہجری میں ہوا تھاخالص اسلامی حج نہیں تھا۔ کیونکہ اسی میں جب یہ سورہ توبہ کی یہ آیات نازل ہوئیں کہ “ آئندہ کوئی کافر حج نہیں کرسکے گا ۔ اور یاتو وہ چار ماہ کے بعد سلام قبول کرلے ورنہ وہ حدود ِ حرم میں داخل نہیں ہو سکے گا“ تب کہیں جاکر وہ حج دوسال کے بعد پورے اسلامی طریقہ پر ہوا جو کہ حضور (ص) کے زیر قیادت تھا۔ بد قسمتی سے ہم اپنی بد اعمالیوں کی بنا پر پھر وہیں پہونچ گئے ہیں۔ جہاں سے چلے تھے۔ یعنی گننے کے لیے تو ایک سو چھپن مسلمان ملک ہیں مگر دنیا میں کہیں بھی اسلامی نظام قائم نہیں ہے۔ لہذا سوہ حسنہ (ص) کو اس طرح اپنے اوپر نافذ کرنا ہو گا کہ جہاں آپ کے قبضہ اختیار میں ہو وہ ہے سب سے آپ کا گھر ہے؟ کیونکہ دنیا کے تمام مہذب ممالک میں ہر ایک کےگھر کااحترام کیا جاتا ہے۔ مثلاً آپ اپنے گھر میں باجماعت نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ آذان بھی دے سکتے ہیں، مگر آوازا تنی دھیمی رکھنا پڑے گی۔کہ وہ دوسرے کہ گھر میں داخل نہ ہو ؟ کیونکہ اس کی اجازت نہ وہاں کی حکومت دیگی اور نہ ہی آپ کو اسلام دیتا ہے۔ اس لیے کہ وہاں آپ کے وہ حدیث آڑے آجا ئے گی کہ “ وہ مسلمان ہی نہیں ہے جس کے شر سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہ ہو“ا لبتہ جن ملکوں میں ا سلامی معاشرہ ہے وہاں آپ یہ کر سکتے ہیں ۔ لیکن ان کے قوانین ایسے ہیں کہ وہاں آپ ہمیشہ نہیں رہ سکتے بوڑھے ہو کر واپس اپنے آبائی وطن کو جانا ہو گا یا پھر غیر اسلامی ملکوں میں جن کے آپ پہلے سے شہری ہوں ۔ اور وہاں جاکر پھر آپ کو ان کے تمام قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔ ورنہ ٹکراؤ کی پوزیشن پیدا ہو جائیگی اور مقامی آبادی نفرت کرنے لگے گی ۔پھر وہ مقصد بھی فوت ہوجا ئے گا جوکہ میرے آقا (ص) نے اپنے ماننے والوں کو حکم دیا تھا کہ پوری دنیا میں پھیل جاؤ اور اپنےکردار سے خود کو ویسا ثابت کرو جیسا کہ مسلمان کو ہو نا چاہیئے۔ چونکہ ہم نےا وروں کے کہنے میں آکر وہ احتیاط نہیں برتی جو ہمیں برتنا چاہیئے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو چکی ہے۔ اور اس سے دنیا بھر میں اسلام کا امیج متاثر ہوا ہے۔ پہلے یہ عام تھا کہ آپ جہاں چاہیں نماز کے وقت کھڑے ہو کر نماز شروع کردیں کوئی تعرض نہیں کیا کرتا تھابلکہ لوگ دیکھتے تھے اور خاموش رہتے تھے دیکھ کر سوالات کرتے تھے۔ لیکن آج وہ دہشت زدہ ہو جاتے ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کی بہت معمولی اقلیت شدت پسند ہے۔ 99 فیصد مسلمان امن پسند ہیں اور دین اسلام خود ایک امن پسند دین ہے۔

میرے آقا (ص) نے جو فرمایا تھا کہ اپنے کردار ثابت کرو کہ مسلمان کیسے ہو تے ہیں۔ اس کا عملی مشاہدہ میں نے کیا کہ یہ 911 سے پہلے کا زمانہ تھا میری کار کو ایک یورپین خاتون نے پیچھے سےآکر ٹکر ماردی اور وہ رونے لگیں میں نے کہا کہ آپ گھر جائیں روئیں نہیں میں آپ کے شوہر سے فون پر بات کرلونگا ۔ ان کے شوہر کا فون آیا اور کہنے لگے غلطی ظاہر ہے میری بیوی کی ہے ۔میں آپکی کار مرمت کرادونگا میں نے کہا کہ میری کار کو کوئی زیادہ نقصان نہیں پہونچا ہے مں خود مرمت کرالونگا ۔ کہنے لگے آپ مسلمان تو نہیں ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیسے اندازہ لگالیا تو کہنے لگے کہ میرے دفتر میں ایک مسلمان ہے وہ بھی ایسا ہی ہے؟

SHARE

LEAVE A REPLY