مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ 31 جولائی 1891ءکو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام جناح پونجا اور والدہ کا نام مٹھی بائی تھا۔ آپ کی وفات کراچی میں 8\9 جولائی 1967ءاسی درمیانی شب کو ہوئی۔ مادر ملت کی وفات ایک معمہ بن گئی۔ موت سے ایک روز قبل وہ ہشاش بشاش تھیں۔ لائق علی سابق وزیراعظم حیدر آباد دکن کی بیٹی کی شادی سے فارغ ہوئی تھیں۔ رات سوتے وقت انتقال ہو گیا۔ ان کو لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں مزار قائداعظم محمد علی جناحؒ کے احاطہ کراچی میں عزت کے ساتھ سپردخاک کیا گیا۔ خیال یہی کیا جاتا ہے کہ ان کی موت طبعی نہ تھی۔ حکومت کی لالچ اور حرص والے گروپ کی سازش سے جمہوریت کی علمبردار ممتاز سماجی اور سیاسی شخصیت کو راستہ سے ہٹایا گیا پاکستانی معاشرہ کو ایک بااثر مددگار خاتون سے محروم کیا گیا۔ ان کی موت پر لوگ قصر فاطمہ سے پولو گراﺅنڈ تک اشک بار تھے۔ عقیدت مندوں کا جم غفیر ان کی میت اور جنازے کا طویل ترین جلوس تھا۔ بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی عزیز ترین بہن مادر ملت کو 10 جولائی 1967ءکو 12:35 پر بابائے قوم کے مزار کے احاطے میں بہت بڑے سوگوار ہجوم کی موجودگی میں سپردخاک کر دیا گیا۔ جنازے کا جلوس مزار پر پہنچنے کے پانچ منٹ بعد مادر ملت کا تابوت قبر میں اتار دیا گیا جو نواب زادہ خان لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر کی قبروں کے درمیان بنائی گئی تھی۔ محتاط اندازے کے مطابق قائداعظم محمد علی جناحؒ کے مزار کے احاطہ اور گردونواح میں سوگواروں کی تعداد تین اور چار لاکھ کے درمیان تھی۔ مزار کے میدان میں اس قدر ہجوم تھا کہ جس گاڑی میں تابوت رکھا ہوا تھا اسے تین سو گز کا فاصلہ طے کرنے میں پورا آدھا گھنٹہ لگا جو لوگ مادر ملت کا آخری دیدار کرنے سے محروم رہے ان کی قبر پر شام تک تانتا بندھا رہا۔
محترمہ فاطمہ جناحؒ کا تابوت کلفٹن میں واقع قیام گاہ قصر فاطمہ سے ایک کھلی مائیکرو وین میں رکھا گیا جس کے چار کونوں پر مسلم لیگ کے چار نیشنل گارڈ کھڑے تھے اور ایک عالم دین قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ جنازہ کے ساتھ جو لوگ شریک تھے ان میں کونسل مسلم لیگ کے صدر میاں ممتاز خان دولتانہ، نظام اسلام پارٹی کے سربراہ چودھری محمد علی، سردار شوکت حیات، نیشنل عوامی پارٹی کے سیکرٹری جنرل مسٹر محمودالحق عثمانی، قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد مسٹر نورالامین، مسٹر ایم ایچ اصفہانی، آزاد کشمیر کے سابق صدر مسٹر کے ایچ خورشید، مختلف سیاسی رہنما اور ممتاز شہری شامل تھے۔ جنازہ کا جلوس روانہ ہونے سے پہلے قصر فاطمہ میں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس میں کم و بیس 5 ہزار افراد شریک ہوئے۔
صوبائی دارالحکومت اور مغربی پاکستان کے تمام چھوٹے اور بڑے شہروں میں بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی عظیم المرتبت بہن خاتون پاکستان مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور سوگ منایا گیا۔ لاہور میں تمام تعلیمی وتجارتی ادارے، سرکاری وغیر سرکاری دفاتر مکمل طور پر بند اور قومی پرچم سرنگوں رہے۔
مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی رسم قل قصر فاطمہ کلفٹن میں سرانجام دی گئی۔ خواتین نے صبح ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے دس بجے تک قرآن پاک کی تلاوت اور فاتحہ خوانی کی۔ مردوں نے ساڑھے پانچ بجے شام سے ساڑھے چھ بجے تک قرآن خوانی کی اور مرحومہ کی روح کو ایصال ثواب کے لئے فاتحہ پڑھی۔
بابائے ملت قائداعظم محمد علی جناحؒ کے چھ اور بہن بھائی تھے۔ آپ اپنے والدین کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ آپ کے بعد رحمت، مریم، احمد علی، شیریں، فاطمہ جناحؒ اور بندے علی تولد ہوئے۔ خاتون پاکستان قائداعظمؒ سے تقریباً 17 سال چھوٹی تھیں۔ یہ محض قدرتی بات تھی کہ سب سے چھوٹی بہن کو سب سے بڑے بھائی کے ساتھ بے مثال والہانہ محبت تھی اور اس محبت وشفقت کا اٹل ثبوت اس حقیقت سے بہم پہنچتا ہے کہ فاطمہ جناحؒ نے اپنی ساری زندگی اور اس کی تمام دلچسپاں اپنے بے مثال بھائی کی خدمت اور دیکھ بھال کے لئے وقف کر دیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں خاتون پاکستان اور مادر ملت کے القابات سے نوازا گیا اور وہ اپنے جلیل القدر بھائی اور معمار پاکستان کا مظہر اور جیتا جاگتا نشان تسلیم کی جاتی رہیں۔ ان کو دیکھ کر قائداعظمؒ کی صورت آنکھوں میں پھر جاتی تھیں۔ ان کی آواز میں وہی رعب ودبدبہ اور گھن گرج تھی جو ان کے شیر صفت بھائی کی آواز میں تھی اور ان کی اصول پسندی، کردار کی مضبوطی اور عزم کی بلندی سب اپنے بھائی کی غیر معمولی خصوصیات کی آئینہ دار تھیں۔
سب سے بڑے بھائی کو بھی سب سے چھوٹی بہن کے ساتھ جو نہایت کم سنی کے عالم میں ماں کی ممتا سے محروم ہو گئی تھی، انتہائی محبت تھی جس میں والدین اور بھائی کی تمام شفقت مجتمع ہو گئی تھی۔ حضرت قائداعظمؒ 1896میں انگلستان سے فارغ التحصیل ہو کر وطن لوٹے اور فاطمہ کی تعلیم کا سوچا۔ محبت اور چاہت سے تعلیمی اداروں میں لے گئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY