میں کافی روز سے ملک میں جاری حالات اور ملک میں ہونے والی موجودہ سیاست پر گفتگو کرنا پسند نہیں کر رہا میرے کافی برادران نے مجھ سے پوچھا کہ آپ اب نہ لیکس پر بات کرتے ہیں اور نہ کوئ خبر دیتے ہیں اپنے تجزئے کے حساب سے حالنکہ میری رائے یا میرا تجزیہ کسی شخص کے لیئے کوئ معنی نہیں رکھتا اس کی وجہ یہ ہے کے لوگوں کو گندگی کھانے عادت ہوچکی ہے ، میں آج بھی ایک سٹیٹس پر ایک واقعہ پڑھ رھا تھا کے جب ایک بھنگی پوری زندگی غلاظت کے اندر رھنے کا عادی بن جاتا ہے تو اس کو محلات کی خوشبو سے غش آجاتا ہے ۔ اس بھنگی کو ہوش میں لانے کے لیئے غلاظت کا استمال کیا جاتا ہے یعنی اسے غلاظت سونگھائ جاتی ہے جس کے بعد اس کے ھوش بحال ہوتے ہیں ۔

یہ باتیں تو ہوتی رھے گی لیکن اب آئے اصل مُدے کی جانب آج کی تاریخ میں حکومت کی جانب سے ایک پریس کانفرنس سامنے آئ جس کے اندر واضح لفظوں میں کہا گیا کے ہم کسی کی حاکمیت قبول نہیں کرے گے صرف عوام کی حاکمیت قبول کی جائے گی ۔ یہ لفظ غور طلب ہیں

حاکمیت

یہ وہی حاکمیت ہے جس کی سازش عمر و عاص اور معاویہ نے جنگ صفین کے اندر رچائ ، قرآن کو نیزوں پر بلند کردیا گیا اور لاحکم الا اللہ کے نعرے بلند کردیئے ، اور جناب امیر ع کو مجبور کیا کے ہم قرآن سے جنگ نہیں کرے گے آپ کو حاکمیت قبول کرنی ہوگی جس پر قاضی شریح جیسے اس دور کے بنو امیہ کے ٹکڑوں پر پلنے والے سامنے آئے اور انھوں نے اپنے مطلب اور تشریحیں کرکے جناب امیر ع پر فتوے لگانا شروع کردیئے ، جس کے بعد جناب امیر علی ابن ابی طالب علیہ السلام پر کفر کا فتوٰی لگا کر ایک جماعت نے انھیں مسجد کوفہ میں منبر و محراب کے درمیان نماز کی حالت میں شھید کردیا ۔

آج بھی حالات وہی ہیں صرف چہرے بدل گئے لیکن کردار وہی ہیں کچھ نہیں بدلا ان ہی سازشوں کو پھر سے دھرایا جا رھا ہے لیکن اس بار قتل عوام کا ھوگا ، اس سازش کو بنانے والے کا نام عرفان صدیقی ہے اور خوارج کا کردار مولانہ فضل الرحمن ادا کر رھا ہے ۔ آج کے دور کا معاویہ نوازشریف ہے ۔ قرآن کو نیزے پر بلند کیا جا رہا ہے اور یہ نیزے مریم ، حسن ، حسین ہیں ، اس ملک کی بیچاری عوام جو اپنا حق مانگنے کے لیئے ان کے ساتھ میدان عمل میں اس وقت نبرد آزما ہے اسے مجبور کرکے حاکمیت کابہانا بنا کر اسی کا قتل کیا جائے گا ۔

خدا اس ملک پر اپنی رحمت کا سایہ ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور ان فتنہ پرور حاکموں سے اس قوم کو نجات دلائے ۔ الہی آمین یا رب العالمین بحق چہاردہ معصومین علیہ السلام

SHARE

LEAVE A REPLY