چہل قدمی اور انسانی دماغ کی نشوو نما

0
40

ایک تحقیق میں تفریح اور خوشگوار مقامات پر چہل قدمی کو انسانی دماغ کی نشوونما کے لیے انتہائی موثر قرار دیا گیاہے۔
ماہرین کے مطابق چہل قدمی کرناجسمانی ورزش ہے جو دماغ کے تمام حصوں کو سکون و اطمینان فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خون کے دورانیے کو خاص طور پر تیز کرتی ہے جو کہ جسم کی قوت کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہے۔
ماہرین کی تحقیق کے مطابق تفریحی مقامات جہاں تازہ ہوائیں اور خوشگوار موسم ہو دماغ کو تندرست رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

شہری علاقوں میں لوگ زیادہ تناؤ اور دباؤ کا شکار ہوتے ہیں ان کی ذمہ داریاں ان کے دماغ پر مسلط ہوتی ہیں جس کی باعث ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کے ساتھ یادداشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوجاتے ہیں۔
2015 کی ایک تحقیق کے مطابق ہریالی اور سبزہ دماغی تناؤ اور دباؤ کو ختم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتاہے جب کہ ٹریفک کا شور اور آلودگی دماغ کو کمزور کرتی ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق جو لوگ 90 منٹ تک سرسبزمقامات پر چہل قدمی کرتے ہیں ان کا دماغ کم چلنے والے لوگوں کی نسبت زیادہ تیز کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ورزش دماغ مثبت تبدیلی لانے کے ساتھ یادداشت کو بھی تیز کرتے ہیں جس سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔
2012 میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پہاڑوں اور اونچی چٹانوں پر چڑھنا دماغی صحت کی خرابی کی شکایات کی علامت کو دور کرنے میں نہایت موثر اور مدد گار ثابت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ وہ لوگ زیادہ تخلیقی صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں جو سیرو تفریح کے شوقین ہوتے ہیں۔

ہارورڈ ہیلتھ کے مطابق دماغ کی تندرستی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اپنے کام سے دور جایا جائے، اگر اپنے دن بھر کے معمولات کے ساتھ کچھ وقت چہل قدمی کرلی جائے تو یہ بھی دماغ کے لیے انتہائی موثر رہے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY