ہم سوچ رہے تھے کہ آج تو جم غفیر ہوگا خواتین کا کیونکہ مریم نوازپیش ہونے جا رہی تھیں جے آئی ٹی کے سامنے لیکن نہ جانے صفدر عباسی کہاں رہ گئے رانا ثنا کدہر کھو گئے عابد شیر علی پر کیا گزری اُن کے قافلے کہاں تھک کر سو گئے کیونکہ ہمیں کچھ اتنا مجمع نظر نہیں آیا جیسا کہ کہا جارہا تھا کہ قوم کی بیٹی پیش ہو اور لوگ سکون سے گھر میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر دیکھیں کہ کیا ہورہا ہے ،قوم کی بیٹیاں غلط بیانی نہیں کرتیں نہ ہی غلط باتوں کا ساتھ دیتی ہیں یہ ہماری اسلامی روایات ہیں ،اس لئے ہمیں یہ ایک بہار کا جھونکا لگا کہ شاید قوم کی بیٹی اندر جا کر حق بات کرےگی ۔لیکن ڈھاک کے تین پات وہ ہی کچھ باہر آکر کہا جو اُن کے پیش رَو کہتے رہے تھے کہ ہم نے سوال کئے کیونکہ اپنی برتری ہر حال رکھنی ہے ۔اور یہ ہی وہ مقام ہے جہاں سے انسان گرتا ہے تو سنبھل نہیں پاتا ۔جتنی اونچائی سے گرتا ہے اُتنا ہی ٹوٹ جاتا ہے اور یہ خود ساختہ اونچائی تو دلدل میں دھکیل دیتی ہے جس سے نکلنا بھی محال ہوجاتا ہے ۔

ہمارے ملک میں نیا آغاز ہے کہ بڑے چھوٹوں کے سامنے پیش ہورہے ہیں ۔باہر نکل کر کہتے ہیں ہم نے سوال کیا ۔ہم حیران ہیں کہ سوال انہیں کرنے ہیں کہ جے آئی ٹی کو ۔محترمہ مریم نواز پیش ہوئیں باہر نکل کر جو کچھ کہا ہمیں لگا کہ بہار کے جن جھونکوں کا زکر کچھ عرصے پہلے سوشل میڈیا پر کیا تھا وہ خزاں کی طرف کیسے بڑھ رہا ہے ۔کیونکہ جتنے لوگ جے آئی ٹی میں پیش ہورہے ہیں وہ باہر نکل کر جس طرح کی تقریریں اور بیانات دے رہے ہیں وہ ہمیں بہار کے جھونکے لگ رہے ہیں ۔حالت یہ ہے کہ باہر نکل کر کہتے ہیں کہ ہم نے سوال کئے لیکن حالت سے لگتا ہے کہ جو کچھ پوچھا گیا اندر، وہ ناقابلِ برداشت بھی ہے اور شاید نا قابلِ قبول بھی ۔منہہ سے جھاگ نکل رہے ہیں ۔پسینہ بہہ رہا ہے ٹشو پیش کئے جارہے ہیں ،لیکن چہرے کی گھبراہٹ کسی صورت چھپ نہیں رہی ۔محترمہ نے فرمایا کہ نواز شریف کو راز اُگلنے پر مجبور نہ کرو واہ واہ اور ہم نے اکیلے ہی تالی بھی بجائی ہے کہ یہ تین دفعہ مُنتخب ہونے والے وزیرِ اعظم کی طرف سے ایک دھمکی ہے کہ اگر کچھ کیا تو جان رکھو ؟؟؟؟ کیا کہنا چاہ رہی تھیں قوم کی بیٹی ہماری تو سمجھ میں نہیں آیا ۔

ایک اور نکتہ بھی اُنہوں نے اُٹھایا کہ آپس کا کاروبار اور خاندانی کاروبار کے بارے میں کوئی نہیں پوچھ سکتا ۔لیکن جب آپ حکمران ہوں تو سب جواب دینا ہوگا ۔کیونکہ آپ کی دولت اقتدار میں اآکر ہی بڑھی ہے اس لئے اآپ جواب دہ ہیں ۔ہر اُس بات کے جو اآپ نے اپنے بیانات میں دی ہے ۔ہر حکومتی ہر کارہ باہر نکل کر جو دل چاہ رہا ہے کہہ رہا ہے کہتے ہیں کہ منہ سے نکلا لفظ اور کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آتا اس لئے بہت سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے لیکن ہمارے ملک میں اس حکومت نے یہ بھی کردار بنایا ہے کہ جو دل چاہے کہو ۔جیسے چاہے کیچڑ اُچھالو ۔ذاتیات پر بات کرو جبکہ یہ سب باتیں انتہائی کمزوری اور نا سمجھی کی علامات سمجھی جاتی ہیں ۔

سوشل میڈیا نے تجسس کو بھی ختم کردیا ہے کسی بھی بات سے پہلے ٹوئٹ کر دئے جاتے ہیں اور پتہ چل جاتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے ۔ہر ہر کارہ میڈیا پر فعال ہے ۔لیکن بس ایک ہی بات ہے کہ سب سازش کر رہے ہیں کاش بتا دیں کہ یہ سازشیں کہاں پروان چڑھ رہی ہیں ۔کہتی ہیں کہ نوا شریف نہ ہوئے اقتدار میں تو خدانخواستہ پاکستان کہاں جائیگا پتہ نہیں ۔کہتی ہیں کہ ہر منصوبے پر نواز شرہف کا نام ہے بالکل صحیح کہ ہر پراجیکٹ پر نواز صاحب کے دستخط ہیں لیکن پراجیکٹ کہیں نہیں ہیں ۔ملک کی ترقی کا صرف ا ور صرف شور ہے ترقی کہاں ہے تلاش کرو تب بھی نظر نہیں آتی ۔کہتی ہیں لوڈ شیڈنگ ختم ہوگئی کس جگہ ہمیں خبر نہیں کیونکہ ہمیں تو ہر جگہ اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے جب بھی فون کرتے ہیں پتہ چلتا ہے لائٹ نہیں ہے ۔کہتی ہیں قرضے ختم ہو گئے کہاں ہمیں پتہ نہیں ہمیں تو یہ پتہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ لاکھوں کا مقروض پیدا ہو رہا ہے ۔یا تو یہ سب کسی اور پاکستان میں رہتے ہیں یا ہم سب کسی اور پاکستان کی بات کرتے ہیں یہ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے کہ حکمران خاندان کو یہ تمام بہار کے جھونکے کہاں سے چلتے نظر آتے ہیں جبکہ عوام کے لئے تو آپ نے صرف اور صرف خزاؤں کے جھونکے ہی چھوڑے ہیں ۔

پچھلے سال سوا سال میں ہم نے جتنا اخلاقی انحطاط دیکھا اُس کی بھی مثال نہیں ملتی ۔جس طرح احترامِ اور لِحاذ کے پرخچے اُڑائے گئے وہ بھی سوچنے کی جا ہے اور غور کا مقام ۔اس میں کسی بھی عمر کے لوگ پیچھے نہیں رہے بہت کم ایسے رہے جنہوں نے اپنی جگہ بنائے رکھی کہ یہ ہماری اقدار نہیں ہیں سخت تنقید بھی برداشت کی اور اپنی برد باری بھی قائم رکھی ۔ ہمیں دُکھ ہے کہ محترمہ مریم صاحبہ کو ملزم کی صرت پیش ہونا پڑ الیکن یہ ہمارے لئے بہار کا جھونکا ہے کہ ہر کوئی جواب دہ ہے ۔اور ہونا چاہئے آج آرمی چیف نے بھی کہا ہے کہ ہر عوامی نمائندہ جواب دہ ہے عوام کے سامنے ۔یہ ایک اور بہار کا جھونکا ہے ،سب کا احتساب لازمی ہوگا جب ہی ہماری راہیں کھلینگی ۔جناب صفدر صاحب نے کسے کوفہ والے کہا ہمیں نہیں پتہ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر شخص اپنی بساط کے مطابق ہی بات کرتا ہے جو جیسی سوچ رکھتا ہے اُسی کا اظہار بھی کرتا ہے ۔لیکن ہماری ایک چھوٹی سی گزارش ہے تمام لوگوں سے خدا را اُن عظیم ہستیوں کے نام نہ لو جن کے پاؤں کی تم خاک بھی نہیں ہو ۔ جن کے کرداروں کی رمق بھی تمہارے اندر نہیں ہے آج کل یہ وطیرہ بنا لیا ہے کہ کسی کو بھی کسی انتہائی ارفع اور اعلیٰ مقام کے حامل اللہ کے بندوں سے ملا دیا جاتا ہے یا اُنکی مثالیں دے دی جاتی ہیں بہت سوچ سمجھ کر اُن ہستیوں کے نام لئے جائیں خدا را ہماری امید ہے کہ سب ہی اس پر غور کریں گے کہاں یہ سارے لوگ اور کہاں وہ اونچے مقام والے ۔ ہم تو سمجھا ہی سکتے ہیں عمل کرنا آپ کا کام ہے ۔
مریم صاحبہ نے ٹوئٹ کیا تھا کہ میں اپنے والد کے زیرِ تربیت رہی ہوں ہم بالکل یقین کرتے ہیں اور آج کا اسکرپٹ جس کسی نے لکھاتھا اُسے بھی داد دیتے ہیں کہ کیا خوبصورت نشاندہی کی ہے اپنی شہنشاہیت کی ۔کہ کار سے نکلتے ہوئے پین کو پھینکا سامنے والی خاتون نے اُٹھا کر دیا تو اس رعونت سے سیٹ پر پھینکا کہ بس تمہیں جھکانا مقصود تھا کہ تمہیں یاد رہے کہ تم عوام کی کیا حیثیت ہے ہمارے سامنے اسی طرح جھکے رہو مگر شاید انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ کس تیزی سے سامنے کھڑی ہوئی کہ مجھے تمہارے سامنے کھڑے ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔میں تمہارے سامنے کھڑی ہو سکتی ہوں اور تمہیں ایک ملزم کی طرح لے جاسکلتی ہوں اندر ۔

یہ سارے بہار کے جھونکے جب تک چل رہے ہیں ہمیں خوشی ہے جے آئی ٹی آخری مراحل میں ہے چمچے کھڑ کھڑا رہے ہیں اگلی دیگیں ڈھونڈھ رہے ہیں کہ کدہر جائیں یہ ہماری سوچ ہے کہ کوئی بھی کھڑا نہیں رہتا جب برا وقت آتا ہے ۔بہت کم لوگ ساتھ دیتے ہیں جیسا کہ ماضی مین ہوتا رہا ہے ۔کہتے ہیں نواز صاحب جتنے اس ملک اور قوم کے ہمدرد اور بہی خواہ ہیں وہ عوام کو چوتھے دور کے لئے مجبور کردینگے ہمیں ایسے خزاں کے جھونکوں سے خوف آتا ہے ۔

اللہ میرے ملک کو کرپشن اور کرپشن کرنے والوں سے بچائے اور ملک کی دولت کو ملک کے لوگوں پر خرچ کرنے والوں کو آگے لائے انشاءاللہ آمین

SHARE

LEAVE A REPLY