جے آئی ٹی اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کروا چکی ہے۔ اب عدالت عظمیٰ شواہد کی روشنی میں اس معاملے کا جائزہ لیکر حتمی فیصلہ کرے گی۔ چاہئے تو تھا کہ رپورٹ پیش ہونے کے بعد، وہ طوفان کسی طور تھم جاتا، جو کئی مہینوں سے سیاسی اور صحافتی سطح پر بپا ہے۔ اچھا ہوتا کہ حکومت، اپوزیشن اور میڈیا غیرضروری قیاس آرائیوں اور تبصروں کے بجائے، خاموشی اور تحمل کے ساتھ عدلیہ کے فیصلے کا انتظار کرتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ گزشتہ کچھ برسوں سے ہمارے سیاسی اور صحافتی رویئے ایک خاص ڈھب پر استوار ہو چکے ہیں۔ ان میں تبدیلی لانا اسقدر آسان نہیں۔ لہٰذا لگتا یہی ہے کہ پاناما کا ہنگامہ اسی طرح جاری و ساری رہے گا۔ یوں بھی جب سے پانامہ لیکس کا معاملہ منظرعام پر آیا ہے، ہمارے سیاستدانوں اور میڈیا کی تمام تر توجہ اسی پر مرکوز ہے۔ یہ قضیہ پارلیمنٹ میں زیر بحث تھا، تب بھی سیاسی ہیجان کی کیفیت تھی۔ یہ معاملہ داخل عدالت ہوا، تب بھی عدالت سے باہر عدالتیں سجا کرتیں۔ جے آئی ٹی کے60 روز بھی کافی ہنگامہ خیز رہے۔ اگر عدالت عظمیٰ روز اول سے ہی کوئی ضابطہ اخلاق وضع کر دیتی، تو حالات مختلف ہو سکتے تھے۔
انتہائی قابل افسوس امر ہے کہ اس تمام عرصے میں کئی اہم قومی معاملات عدم توجہی کا شکار رہے۔ دنیا میں اہم واقعات رونما ہوتے رہے، ہماری سوچ کی پرواز مگر پاناما تک محدود رہی۔مثال کے طور پر،بھارت کو ہم اپنا ازلی دشمن گردانتے ہیں۔ مگر پاناما کے ہنگامے میں اسکے عزائم اور عالمی حرکیات پر نگاہ رکھنے اور کوئی جوابی حکمت عملی وضع کرنے کی جانب ہمارا دھیان نہیں گیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں کئی اہم مطالبات منوا چکے۔ بھارت کی خوشنودی کیلئے، امریکہ نے کشمیری لیڈر سید صلاح الدین کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا۔ امریکہ بھارت کو ڈرونز دینے پر بھی آمادہ ہے۔ مودی کی فرمائش پر امریکہ نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنی سر زمین ہمسایہ ممالک کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔ امریکی دورے کے بعد نریندر مودی اسرائیل جا پہنچے۔ دونوں ملکوں نے اعلان کیا کہ ان کے دشمن سانجھے ہیں ۔ حماس کو لشکر طیبہ کے برابر قرار دیا گیا۔ اس موذی گٹھ جوڑ کے پاکستان پر اثرات سے بے نیاز، ہم پاناما لیکس کا ڈھول پیٹنے میں مشغول ہیں۔ کلبھوشن یادیو اور مقبوضہ کشمیر جیسے معاملات پر بھی بھارت عالمی رائے عامہ، اپنے حق میں ہموار کرنے میں کوشاں ہے۔ تازہ ترین خبر ہے کہ بھارت برق رفتاری سے ریٹل اور کشن گنگا ڈیم کی تکمیل میں جتا ہواہے۔ آبی ماہرین کہتے ہیں کہ اس منصوبے کی تکمیل سے دریائے چناب میں پانی کے بہائو میں واضح کمی ہوگی۔ نتیجہ یہ کہ جنوبی پنجاب کی آبپاشی کو شدید نقصان پہنچے گا۔ بھارت اسی طرح ڈیم بناتا رہا تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو شدید قحط کا سامنا ہوگا۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ تاہم اس آبی جارحیت کی سنگینی کو زیر غور لانے کے بجائے،ہم سیاست میں مصروف ہیں۔ گویا قومی مفادات اور پاکستان کو درپیش خطرات ہمارے لئے بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں ۔
کچھ عرصے سے عالم اسلام کے حالات بھی دگرگوں ہیں۔ عالمی طاقتیں مسلمان ممالک کیخلاف متحد ہیں۔ جبکہ اسلامی دنیا میں تقسیم بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ فرقے اور مسلک کے نام پر کی جانے والی تقسیم کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ پارا چنار کا سانحہ اس کی مثال ہے۔ پاناما کے ہنگام ہمیں خیال ہی نہ آیا کہ سعودی عرب اور قطر کا تنازع پارلیمنٹ اور میڈیا میں زیربحث آنا چاہئے تھا۔ ایسے موضوعات سے مگر دلچسپی کسے ہے۔ میڈیا کو اپنی ریٹنگ سے غرض ہے اور سیاستدانوں کو پوائنٹ اسکورنگ سے فرصت نہیں۔
بلامبالغہ سینکڑوں معاملات، جو ہماری توجہ کے متقاضی ہیں، ان پر ہم آنکھیں موندے بیٹھے ہیں۔ تمام تر کاوش کے باوجود، افغانستان کیساتھ تعلقات بہتر نہیں ہو پا رہے۔ چین اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں کر رہا ہے۔ مگر اس کے تحفظات کی پروا کیے بغیر، ہم نے ملک کو سیاسی بے یقینی کی دلدل میں دھکیل رکھاہے۔ ہم بھلا بیٹھے ہیں کہ وطن عزیز کو دہشت گردی جیسے عفریت کا سامنا ہے جس کیلئے سیاسی اور عسکری قیادت کا اتحاد اور یکسوئی درکار ہے۔ ملکی معیشت ترقی کی جانب گامزن تھی۔ پاناما کی پیدا کردہ بے یقینی کی وجہ سے معاشی حالات رو بہ زوال ہیں۔
موجودہ حالات میں پارلیمنٹ جیسا معتبر ادارہ عضو معطل ہوکر رہ گیا ہے۔ قانون سازی، انتخابی اصلاحات اور قومی معاملات پر سنجیدہ بحث و مباحثہ کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ سماجی حالات بھی تشویشناک ہیں۔ آئے روز کے واقعات خبر دیتے ہیں کہ نوجوانوں میں انتہاپسندی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ بھی سنتے ہیں کہ جامعات میں منشیات کا استعمال خطرناک حد تک پھیل چکا ہے۔ پنجاب، کے پی ، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان میں تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، خالص خوراک، بے روزگاری، امن عامہ جیسے سینکڑوں معاملات حل طلب ہیں۔ مگر ہمارے اہل سیاست، اہل صحافت اور اہل دانش کی توجہ کا مرکز و محور پاناما لیکس ہے۔
اس صورتحال کو دیکھ کر اردو کا وہی پرانا محاورہ یاد آتا ہے کہ ’’گھر پھونک، تماشا دیکھ‘‘ ۔ ہماری کیفیت کچھ یہی ہو چکی ہے۔ سیاست سے لے کر صحافت تک، اور دانش وروں سے لے کر رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے تمام طبقوں تک ایک ہی “مشن” جاری ہے کہ پاناما، جے آئی ٹی، اور عدلیہ کو موضوع بناتے ہوئے اپنی اپنی من پسند رائے ، اپنے اپنے تراشے گئے دلائل کے زور پر بیان کئے چلے جائیں اور خلق خدا کو ذہنی خلجان اور وطن عزیز کو سیاسی، اقتصادی اور سماجی بحران میں مبتلا کئے رکھیں۔ دلچسپ مطالعہ ہو اگر کوئی صحافی، محقق، یا سیاست کا طالب علم اس امر کا جائزہ لے کہ پاناما لیکس کی حقیقت کیا ہے۔ اس میں کتنے ممالک کے ہزاروں یا لاکھوں افراد کا ذکر ہے اور ان میں سے کتنے ہیں جو اس کیفیت سے دوچار ہیں، جو ہمارے ہاں ایک خاندان کیلئے پیدا کر دی گئی ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہو گا کہ ہم تعمیر و ترقی اور ملکی خوشحالی کے روشن ایجنڈے سے ہٹ کر کس طرح کے بے ثمر تماشوں میں الجھ گئے ہیں یا الجھا دئیے گئے ہیں۔ اس کو ’’گھر پھونک، تماشا دیکھ‘‘ نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY