چلی ہیں دوست ہوائیں یقیں نہیں آتا۔از۔ محمود شام

0
43

چلی ہیں دوست ہوائیں یقیں نہیں آتا
گزر گئ ہیں خزائیں یقیں نہیں آتا
وہی زمین کی گردش وہی مزاج فلک
بدل گی ہیں فضاءیں یقیں نہیں آتا
وہی غرور وہی طرز بے رخی ان کی…
کریں گے اب نہ جفائیں یقین نہیں آتا
عدالتوں میں کھلیں گے صداقتوں کے پھول
وکیل مان بھی جائیں یقیں نہیں آتا
وہی رعونت اشرافیہ وہی تیور
وی اپنے آپ میں آءیں یقین نہیں آتا
زمین مال غنیمت ہے بن لڑے جن کی
وہ اس سے پاتھ ہٹائیں یقین نہیں آتا
سبھی کو زر کی ہوس ہے تو کیا بدل لیں گے
سب اپنی اپنی اداءیں یقیں نہیں آتا

SHARE

LEAVE A REPLY